بھارت پاکستان سے فضائی جنگ ہارگیا،نیویارک ٹائمز

اسلام آباد:عالمی میڈیا نے پاکستان سے فضائی شکست کے بعد بھارتی افواج کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں جس سے بھارت کو جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کو دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سامنا ہے،پاکستان سے شکست کے بعد عالمی میڈیا نے بھی بھارتی افواج کی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیئے، نیو یارک ٹائمز کے مطابق جنگ کی صورت میں بھارتی فوج کے پاس صرف دس دن کاگولہ بارودہے۔

نیویارک ٹائمز رپورٹ کے مطابق امریکی تھنک ٹینکس نے بالاکوٹ میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا بھارتی دعویٰ یکسر مسترد کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی فوج کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے جس کو امریکہ کی مکمل مدد حاصل ہے، یہ مختصر معرکہ بھارتی فوج کیلئے ایک امتحان تھا لیکن شکست نے مبصرین کو حیران کردیا ہے۔

امریکی اخبار نے لکھا کہ’اپنی سے آدھی اور چوتھائی بجٹ والی پاکستانی فوج سے پانچ دہائیوں بعد پہلے مقابلے میں بھارتی فوج شکست فاش سے دوچار ہوئی، پاکستانی فوج کے ہاتھوں اس ذلت نے بھارتی فوج کا عالمی تاثر بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

اخبار نے بھارتی حکومت کے اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی تو بھارت اپنے فوجیوں کو صرف 10 دن تک اسلحہ وبارود فراہم کر سکتا ہے۔ بھارتی فوج کے 68 فیصد آلات اتنے پرانے ہیں کہ انہیں قدیم قرار دیا جاچکا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود بھارتی افواج کے پاس جدید اسلحہ نہیں ہے جبکہ دفاعی سودوں میں کرپشن بھارتی فوج کو جدید بنانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ چند سال کے دوران بھارت کے لیے امریکی اسلحے کی فروخت صفر سے پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے لیکن بھارتی افواج کی ناقص تربیت اور دفاعی کمزوریوں کی وجہ سے امریکی حکام تشویش کا شکار ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے سوال اٹھایا ہے کہ بھارت فوج کیلئے کتنا بجٹ مختص کرتا ہے یہ اہم نہیں، اہم بات یہ ہے کہ بجٹ خرچ کیسے کرتا ہے؟ فوج کیلئے مختص بجٹ کا بڑا حصہ 12 لاکھ فوجیوں کی تنخواہ اور پینشن کی مد میں چلا جاتا ہے اور نئے آلات خریدنے کیلئے صرف 14 ارب ڈالر ہی بچتے ہیں، یہی نہیں بھارتی بری، بحری اور فضائی، افواج میں نہ صرف تعاون کی شدید کمی ہے بلکہ وہ آپس میں الجھتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2018 میں بھارت نے اپنی فوج کیلئے 45 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا اور فروری 2019 میں بھی 45ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا تھا۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here