جھوٹی خبروں اور سعودیہ روس تنازع سے مارکیٹ گری، ٹرمپ

واشنگٹںن: سبین ارشد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل اور اسٹاک مارکیٹس کریش کرنے کی وجہ جھوٹی خبروں کو قرار دے دیا، انفلوئنزا سے پچھلے سال امریکا میں 37 ہزار افراد ہلاک ہوئے مگر کچھ بھی بند نہیں ہوا، معیشت اور زندگی چلتی رہی ہیں۔

دنیا بھر کی معیشت کورونا وائرس کے باعث متاثر ہوگئی ہے اور ائیرلائنز، سیاحت سمیت کئی شعبوں کو اربوں ڈالرز کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

تیل کے معاملے پر جاری سعودی عرب اور روس کے درمیان تنازعے نے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعے کی وجہ سے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس بھی کریش کرگئی ہیں۔

اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ انفلوئنزا سے پچھلے سال امریکا میں 37 ہزار افراد ہلاک ہوئے مگر کچھ بھی بند نہیں ہوا، معیشت اور زندگی چلتی رہی ہیں۔

انہوں نے کورونا وائرس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا میں 546 مصدقہ کیسز ہیں اور 22 اموات ہوئیں، لہٰذا اس بارے میں ذرا سوچیں۔

روس اور سعودی تنازع پر انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار اور قیمتوں پر تنازع چل رہا ہے اور جھوٹی خبروں سے مارکیٹ گری ہے۔

دوسری جانب امریکا میں مہلک کورونا وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 28 تک جاپہنچی ہے جبکہ نئے 50 کیسز سامنے آنے کے متاثرہ افراد کی تعداد 754 ہوگئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب اور روس میں خام تیل کی قیمت کی جنگ چھڑنے کے بعد دوران ٹریڈنگ برینٹ کروڈ کی قیمت 20 فیصد سے زائد کی کمی کے ساتھ 35.36 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی تھی جب کہ امریکی خام تیل کی قیمت 22 فیصد تک کمی کے بعد 31.79 ڈالر فی بیرل پر آگئی تھی۔

تیل کی قیمتیں 1991 کی خلیج جنگ کے بعد اب تک سب سے زیادہ گراوٹ کا شکار ہیں جس کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس بھی مندی کا شکار ہیں۔

امریکی سرمایہ کار کمپنی گولڈمین ساکس نے پیش گوئی کی ہے کہ تیل کی قیمتیں 20 ڈالر فی بیرل تک گرسکتی ہیں۔

 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here