خبردار میں نوازشریف نہیں ہوں

محمد اویس سرور

عدالت کا لفظ عدل سے ماخوذ یے اور عدالت چاہے چھوٹی ہو یا بڑی،پنچایت ہو یا عدالت عظمی ان سے عدل یعنی انصاف کی ہی امید کی جاتی ہے۔وطن عزیز میں اس وقت احتساب عدالتوں کا رعب و دبدبہ مثالی ہے کیونکہ وہاں بڑے بڑے لوگ پیش ہو رہے ہیں۔کل تک ملک کو وزیر اعظم اور صدر رہنے والے اج ان عدالتوں کے سامنے اپنی تقدیر کے فیصلے کے لیے با ادب حاضر ہوتے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ان کے ساتھ انے والی سینیئر مسلم لیگی قیادت عدالت کے تقدس اور احترام کا خیال رکھتی لیکن اگر کہیں ان سے بھول چوک ہوتی تو عدالت انکی موقع پر سرزنش کرتی۔

کسی کو عدالت میں نوازشریف سے سلام لینے پر ٹوکا گیا تو کسی کو چیونگم چبانے پر عدالتی ڈیکورم یاد کروایا گیا۔ملزم نوازشریف کے دس وکلا کو پہلے ناموں کی کلئرنس کے بعد عدالت میں داخلے کی اجازت ملتی۔بہت سے مسلم لیگی کارکنوں کو عدالت کی عمارت سے دور ہی روک دیا جاتا۔نوازشریف احتساب عدالت سے سزا یافتہ ہوکر کوٹ لکھپت جیل میں موجود ہیں۔اسی احتساب عدالت میں معروف قانون دان اور پی ٹی آئی حکومت کے مستعفی مشیر بابر اعوان صاحب بھی اج کل پیش ہو رہے ہیں۔

لیکن اس شان کے ساتھ کہ ان کے درجنوں حامی وکلا کے لیے احتساب عداکت کے احاطے میں ناشتے کا انتظام کیا جاتا ہے۔اور لذت کام و دہن کے بعد تازہ دم ہو کر وہ دزجنوں وکلا اپنے ساتھی اور احتساب عدالت کے نندی پور پراجیکٹ میں ملزم بابر اعوان صاحب کی مدعیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوتے ہیں۔کمرہ عدالت میں گزشتہ پیشی پر بابر اعوان صاحب کے حامی وکلا نے نیب پراسیکیو ٹر کواتنا آڑے ہاتھوں لیا کہ اسکو عدالت سے استدعا کرنی پڑی کہ ان وکلا کے رویے کو نوٹ کیا جائے لیکن انکی استدعا شرف قبولیت نہ پا سکی۔

ایک موقع پر جب گواہان کو بلانے کی بات ہوئی تو ملزم نے کہا کہ بلوائیں ان گواہوں کو جو سانپ لیکر انا ہے انہوں نے وہ لے آئیں۔احتساب عدالت کے کورٹ روم کا بدلا ہوا ماحول بتاتا ہے کہ نوازشرہف نہیں اب کوئی اور انکے روبرو ہے لیکن یہی بات نیب پراسیکیوٹر جتنی جلدی سمجھ لے اسکے لیے بہتر ہے۔نیب نے سب کو نوازشریف جیسا سابق وزیراعظم سمجھ رکھا ہے کیا؟ابھی ملک عزیز میں عزت دار لوگ موجود ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here