کیا صرف خطیب حسین قاتل ہے؟؟

محمد اویس سرور

بنی نوع انسان نے صدیوں کے سفر اور عرق ریزی کے بعد ادارے،ریاست اور قانون بنائے۔تاکہ ہر انسان کو تحفظ ملے۔کوئی کسی کی جان، مال ،آبرو پر کسی بھی بہانے سے حملہ آور نہ ہو سکے۔وطن عزیز پاکستان میں بھی یہی مہذب چلن جاری و ساری تھااور معاشرے کے نیک و بد،متقی و سر کش،اکٹھے زندگی گزار رہے تھے۔اور اگر کسی کو کسی سے شکایت ہوتی تھی تو وہ پولیس سے شکایت کرتا تھا۔پولیس اپنی ابتدائی تحقیقات میں اگر الزام میں وزن محسوس کرتی تو مدعا الیہ کے خلاف رپورٹ درج کرتی اسکو گرفتار کرتی۔اور تحقیقات کرتی اگر وہ اپنی بے گناہی پولیس کے سامنے ثابت کر دیتا تو اسکو چھوڑ دیا جاتا ۔بصورت دیگر ملزم کو عدالت کے روبرو پیش کیا جا تا جہاں مدعی اس پر الزام ثابت کرتا۔مدعا الیہ کو اپنی صفائی کا موقع ملتا ۔پولیس اس کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کر تی ہے۔گواہ پیش ہوتے ہیں۔فریقین کے وکلاء گواہوں پر جرح کرتے ہیں۔عدالت اس ساری کارروائی کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتی ہے۔اور اس پر سوچ بچار اور چھان پھٹک کے بعد فیصلہ دیتی ہے۔اگر فریقین میں سے کسی کو اس فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ اس کیس کو ہائی کورٹ میں لیجاتا ہے ۔اگر ہائی کورٹ کے فیصلے پر اعتراض ہو تو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ہے۔اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے پہلے قتل کے ملزم کو بھی صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کرنے کی سہولت ہوتی ہے۔لیکن چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ ملک کے وزیراعظم کو ایک ایسے قانون پر مطعون کیا گیا جس قانون کو ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے قومی اسمبلی نے واضح اکثریت کے ساتھ پاس کیا تھا۔اس قانون کی ذاتی اور خودساختہ تشریح کرتے ہوئے تحریک لبیک کے خادم رضوی صاحب اور انکے ہمنوائوں اور پیروکاروں نے جس طرح ملک بھر میں دھرنے دیے۔نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔سڑکیں بلاک کیں۔لوگوں کی مارپیٹ کی۔روالپنڈی اسلام آباد کے سنگم فیض آباد پر ہفتوں دھرنا دیکر دارالحکومت کو مفلوج کیے رکھا اور اس عمل پر انکے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کی بجائے ۔اس وقت کے وزیر قانون کو مستعفی کروایا گیا۔دھرنے والوں کو واپسی پر کرایہ دیا گیا۔اور وہ فتح کے پھریرے لہراتے ہوئے گھروں کو لوٹے۔اس عمل نے حکومت وقت کو تو جو بے توقیر کیا سو کیا لیکن ریاست اور اس کے قانون کو بھی بازیچہ اطفال بنا دیا۔عوام الناس کو یہ پیغام دیا کہ اگر آپ کے پاس اجتماعی یا انفرادی طور پر قوت موجود ہے تو آپ کسی پر بھی اپنے فتوی اور فہم دین کو تھوپ سکتے ہیں۔اسی سوچ کا عملی مظاہرہ ہمیں گزشتہ دنوں بہاولپور کی تاریخی درسگاہ صادق ایجرٹن کالج میں بہت بھیانک انداز میں دیکھنے کو ملا جب بی ایس کے ایک طالبعلم خطیب حسین نے مخلوط پارٹی کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس پارٹی کو منعقد نہ کرنے کا کہا اور اسکی بات نہ ماننے اور پارٹی کے انعقاد کی حمایت کرنے پر اپنے استاد،سربراہ شعبہ انگریزی پروفیسر خالد حمید کو مادر علمی کے اندر خنجر کے پے در پے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ملزم نے موقع واردات سے بھاگنے کی بھی کوشش نہیں کی۔اسکو جب بتایا گیا کہ آپ کے استاد فوت ہوگئے ہیں تو اس نے کسی قسم کے اظہار افسوس کی بجائے اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔اطلاعات کے مطابق ملزم تحریک لبیک کا سر گرم رکن ہے۔دوسری طرف مقتول کی شرافت و نجابت اور حلم و بردباری کی گواہی انکے سب ساتھی اساتذہ اور انکے دیگر شاگرد دے رہے ہیں ۔خطیب حسین پولیس کی حراست میں ہے اس پر قتل اور دہشتگردی کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔صوبے بھر میں اساتذہ کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں ۔خطیب حسین عدالتی کارروائی کا سامنا کرے گا ۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ قتل کیا خطیب حسین نے کیا ہے؟ کیا وہی مجرم ہے؟یا خادم حسین رضوی صاحب کے فتوی کو شرف قبولیت بخشنے والے بھی ذمہ دار ہیں ؟مصلحت کے نام پر حق کو حق اور جھوٹ کو جھوٹ نہ کہنے پر میں اور آپ اور پورا معاشرہ بھی ذمہ دار ہے؟ اگر ہم کسی بھی عدالتی حکم کے بغیر خادم رضوی کے فتوی کو شرف قبولیت بخش سکتے ہیں تو خطیب حسین کے فتوی پر اعتراض کیسا؟؟ اگر وہ روا تھا تو یہ نا روا کیسے؟وہ جائز تھا تو یہ نا جائز کیسے؟ دو رنگی چھو ڑ یے اور خطیب حسین کے فتوی کو بلا کم و کاست مانتے ہوئے ایسے مزید اقدامات کے لیے تیار رہیے۔ کیونکہ نجانے کون کب مار ڈالے کافر کہہ کر۔۔۔۔شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here