بوٹا مسیح بنام تبدیلی والی سرکار

قاسم ضیاء

اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔اختلاف رائے کے اظہار اور اپنے کسی مطالبے،حق کی منظوری کیلئے جمہوری روایات میں پر امن احتجاج کا حق ہر فرد کا آئینی حق ہے۔ہمارے وزیراعظم عمران خا ن صاحب اور انکی پارٹی پی ٹی آئی نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف دارالحکومت اسلام آباد میں 126 دن تک ملکی تاریخ کا سب سے طویل دھرنا دیا تھا۔جس میں پارلیمنٹ پر چڑھائی سے لیکر پی ٹی وی پر حملہ،ایس پی جونیجو پر تشدد سے لیکر چینی صدر کے دورے کی منسوخی تک سب کچھ کیا گیا۔اور عوام الناس کو بتایا گیا کہ یہ جمہوریت کا حسن ہے اور نوازشریف حکومت کو اس احتجاج کو سنجیدہ لیتے ہوئے دھرنا مظاہرین کے سب مطالبات کو پورا کرنا چاہئے یا مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیے ۔
جمہوریت پسندوں اور عام عوام کو یہ گماں ہو چلا تھا کہ جب تحریک انصاف بر سر اقتدار آئے گی تو عوامی رائے اور جمہوری اقدار کی پاسداری کرے گی۔قومی اداروں میں میرٹ کو فروغ دیا جائیگا۔اور اقربا پروری،من پسند اور خلاف میرٹ تعیناتیوں کا کلچر دم توڑ جائیگا۔لیکن ان امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب پاکستان ٹیلی ویژن جیسے اہم اور حساس قومی ادارے میں ارشد خان صاحب کو خلاف ضابطہ،اور گھما پھرا کر ایم ڈی پی ٹی وی لگا دیا گیا۔پی ٹی وی ایمپلائز کی نمائندہ یونین سی بی اے نے انکی اس بے ضابطگی کو بھی قبول کیا کہ معاملات چلتے رہیں۔لیکن نام نہاد ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان  نے رعونت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملازمین کے کسی بھی مطالبے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا۔جس پر یونین دھرنے پر بیٹھ گئی۔پانچ سال سے پی ٹی وی  ملازمین کی تنخواہ میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔50 فیصد ہاوس ریکوزیشن میں اضافے سے بھی پی ٹی وی ایمپلائز محروم ہیں جو کہ تمام وفاقی اداروں کے ملازمین کو مل چکا ہے۔ میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات پر قدغن لگا دی گئی۔ریٹائرڈ پی ٹی وی ایمپلائز پینشن اور بقایاجات کیلئے در بدر ہیں ۔ایمپلائز کے حقوق کی بات کرنے پر یونین کے 49 ارکان کو معطل کر دیا گیا ۔ دارالحکومت کے ریڈ زون میں 50 دنوں سے اپنے حقوق کیلئے دھرنا دینے والے ملازمین کی آواز وزیراعظم کے کانوں تک نہیں پہنچی ۔ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کوئی شنوائی کرنے کی بجائے اب معطل ملازمین کو نوکری سے برخاست کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس غیر قانونی اور ظالمانہ اقدام کا پہلا شکار 50 سالہ بو ٹامسیح  بنا ہے۔جو کہ گروپ 2 کا غریب ملازم ہے۔ حق احتجاج ،دھرنے اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کے زیر سایہ یہ ظلم وہ نام نہاد ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان  کر رہا ہے جس کو مبینہ طور پر وزیراعظم ہاوس میں بیٹھے کچھ غیر منتخب لوگوں کی آشیرباد حاصل ہے۔بوٹا مسیح کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے والے پی ٹی وی ملازمین کے دشمن تو ہیں ہی لیکن ارشد خان ایمپلائز مخالف کارروائیاں کرکے  وزیراعظم عمران خا ن کے بے روزگاروں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدہ کے بر خلاف غریب سینیٹر ورکر کو بے روزگار کرکے وزیراعظم کے وژن کو بھی غلط ثابت کرنے پر تلے ہیں ۔
ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدہ کے ساتھ برسر اقتدار آنے والے وزیراعظم اور انکے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری صاحب کو ارشد خان کی اقلیتی ملازم کو بے روزگار کرنے کی اس گھناؤنی سازش پر گہری نظر رکھنی چاہیے ۔اور بو ٹا مسیح کو فی الفور بحال کرکے ارشد خان سے پی ٹی وی کی جان چھڑا نی چاہئیے ۔ہم دوسرے ممالک میں  مسلمان اقلیتوں کو ملنے والے تحفظ پر تو بہت واہ واہ کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں اقلیتوں کو جاب کا تحفظ نہیں دے پاتے۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سر ڈھانپ لے،پارلیمنٹ میں تلاوت کروادے،ملک میں جمعہ کو اذان کروادے تو قابل تحسین لیکن اس اسلامی ملک میں ایک بوٹا بچوں کو کما کر نہ کھلا سکے۔تبدیلی والی سرکار نے اپنی تبدیلی سے جہاں بہت سے لوگوں کو زخم خوردہ کیا ہے وہاں بوٹا مسیح جیسے کے زخموں کی تو بالکل دادرسی نہیں ہوسکے گی۔پرچم میں سفید رنگ انہیں لوگوں کے حقوق کی ترجمانی کے لئے ڈالا گیا لیکن ان کو بنیادی جاب کے حصول سے ہی محروم کردیا گیا۔دھرنے میں سینکڑوں مسلمانوں میں سے زور کس پر چلا ایک اقلیت بوٹا مسیح پر؟ بوٹا کا مقدمہ اس تبدیلی والی سرکار کے خلاف ہے کہ جس نے اس سے جینے کا آسرا ہی چھین لیا دیکھنا یہ ہے کہ اس ملک میں کیا کسی اقلیت کو انصاف مل سکے گا؟

 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here