تبدیلی

محمد ریاض 

تبدیلی ایک ایسا لفظ ہے جو عمران خان صاحب کی مہربانی سے پچھلی دو دہائیوں سے ہم نے اتنی بار سنا ہے کہ نہ چاہتے ھوئے بھی دل میں خیال آتا تھا کہ ایک بار یہ تبدیلی آ ہی جائے اور اس کے چاہنے والوں کی تسلی ہو جائے ۔

کیونکہ جب تک یہ تبدیلی کو محسوس نہیں کریں گے چاہنے والوں کی تسلی نہیں ھو گی۔لیکن اگر میں اپنی حد تک بات کروں تو میں پریکٹیکل بندہ ھوں کام دیکھتا ھوں زبانی جمح خرچ سے مطمئن ھونے والا نہیں۔اور میں نے کے پی میں پی ٹی آئ کے پانچ سالہ دور کی کارکردگی سے اندازہ لگا لیا تھاکہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے ۔

دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے نتیجے میں وہ تبدیلی آ گئ جس کا اس کے فالور کو انتظار تھا۔پی ٹی آئ اقتدار میں کیسے آئ اس کی حقیقت بھی سب جانتے ھیں۔لیکن وہ باعث پھر کبھی سہی ۔حکومت کی حد تک تبدیلی آ گئ تھی عمران خان صاحب پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔اب سب کو انتظار تھا کہ خان صاحب اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کریں گے اور پاکستان خوشحالی کی طرف اپنا سفر شروع کرے گا۔خان صاحب نے کہا تھا ایک دن میں حلف اٹھاؤں گا تو دوسرے دن بلڈوزر گورنر ہاوسز کے سامنے اس کو گرانے کےلیے کھڑا ہو گا ۔لیکن افسوس ایسا کچھ نہ ھوا۔خان صاحب نے کہا تھا میں وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بناؤں گا لیکن آج نو ماہ گزرنے تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔

خان صاب نے کہا تھا کہ میں تین ماہ تک غیر ملکی دورہ نہیں کروں گا لیکن یہ وعدہ بھی پورا نہ ہوا۔خاں صاب نے کہا تھا میں خصوصی طیارے میں سفر نہیں کروں گا۔افسوس یہ وعدہ بھی پورا نہ ھوا۔خان صاحب نے کہا تھا کسی بزنس مین کے پاس حکومتی عہدہ نہیں ھونا چاہییے کیونکہ وہ اپنے اختیارات کو اپنے فائدے کےلئے استعمال کرتا ھے۔اور پھر سب بزنس مین دوستوں کو حکومت میں شامل کر لیا۔

خان صاحب نے کہا تھا میں ہر دو ہفتے بعد اسمبلی میں آ کر سوالوں کے جوابات دوں گا۔افسوس یہ وعدہ بھی جھوٹ ثابت ہوا۔خان صاب نے کہا تھا میں نوے دن میں اونپر کی کرپشن ختم کر دوں گا۔جب وزیراعظم خود کرپٹ نہیں ھو گا تو نیچے والے کرپشن کیسے کر سکتے ھیں۔لیکن افسوس ایسا نہ ھو سکا۔اینڈ سو آن۔

لیکن تبدیلی یہ آئ کہ پیٹرول بجلی گیس اور ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ھو گئی غریب آدمی جو پہلے سی ہی بہت مشکل گزارہ کر رھا تھا اس کی زندگی مزید مشکل ھو گئ۔۔ڈالر ایک سو بیالیس پر آ گیا خان صاب ھمیں بتاتے تھے کہ ڈالر کے ایک روپے بڑھنے سے ملکی قرضوں میں ایک ہزار ارب روپے اضافہ ھو جاتا ھے۔لیکن اب تبدیلی یہ آئ ھے کہ اسد عمر صاب ھمیں ڈالر بڑھنے کے فوائد بتاتے ھیں۔خان صاحب اپنی تقریروں میں کہتے تھے کہ اگر مہنگائی ھو تو سمجھو حکمران کرپٹ ہے ۔

لیکن اب سسٹم کو موردالزام ٹھہرا رھے ھیں۔میں چھوٹی سی کابینہ رکھوں گا۔ لیکن کابینہ اتنی بڑی کر لی کہ بہت سے وزرا کو دینے کےلیے آفسز ہی نہیں ھیں۔میں سڑکیں نہیں بناؤں گا بلکہ عوام پر پیسہ لگاؤں گا۔لیکن مزید مہنگائ کر کے عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی۔پولیس کو غیر سیاسی بناؤں گا۔لیکن اب تک پنجاب کے تین آئ جی تبدیل ھو چکے ہیں۔پچاس لاکھ گھر بناؤں گا۔لیکن اس کا بھی ابھی تک کوئ نشان نہیں ھے اور اگر کچھ گھر بن بھی گئے تو وہ غریب کےلیے نہیں ھیں بلکہ پیسے والا ھی وہ گھر خرید سکے گا۔ایک کروڑ نوکریاں دوں گا۔اس کے برعکس معیشت کی بد حالی کی وجہ سے لوگ بے روزگار ھو رھے ھیں۔ یہ چند ایک وعدے ھیں جو خان صاحب نے کیے تھے۔لیکن ان میں سے کوئ ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔

خان صاحب نے کہا تھا میں آپ سے کبھی جھوٹ نہی بولوں گا۔تبدیلی یہ آئ ھے کہ جھوٹ کو یو ٹرن کا نام دے دیا گیا ھے اور یو ٹرن کو لیڈر کی خاصیت بتا دیا گیا ہے ۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here