کیا عمران خان این آر او دے سکتے ہیں؟

حسنات احمد کوٹ

ایک بار پهر این آر او کی بحث گردش کر رہی ہے ایک صحافی کے مطابق دعویٰ کیا گیا کہ شریف خاندان کے فرد نے عمران خان صاحب سے رابطہ کیا اور این آر او مانگا اور بقول اس صحافی کے وٹس ایپ پر ثبوت موجود ہیں اس دعویٰ کے بعد ن لیگ کی طرف سے اس دعویٰ اور الزام کو مسترد کیا گیا یہاں تک کہ ایک نیوز چینل کے پروگرام میں رہنما ن لیگ شاہد خاقان عباسی نے این آر او کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی این آر او نہیں مانگا اور یہ بهی کہا کہ جس صحافی نے یہ دعویٰ کیا ہے این آر او کا وہ صحافی مجهے اپنے پروگرام میں بلا لے میں مذید اس کو جواب دے دوں گا، شاہد خاقان عباسی نے مذید گفتگو کرتے ہوئے کہا عمران خان صاحب کے پاس این آر او دینے کا قانونی اختیار ہے ہی نہیں پهر بهلا کون اس سے رابطہ کرے گا یہ سب باتیں صرف الزام ہیں

اگر واقعی کسی نے این آر او کےلیے رابطہ کیا ہے بقول اس صحافی کے تو پهر چاہیے کہ اس کے ثبوت عوام کے سامنے رکهے جائیں پتہ تو چلے آخر کون ہے جس نے این آر او مانگا اس ساری صورتحال کے بعد نہ تو ابهی تک این آر او مانگنے والے کا نام سامنے آ سکا اور نہ ہی کوئی وٹس ایپ پیغام دکهایا جا سکا پر اب بهی سوال وہی کا وہیں ہے کہ یہ این آر او والی بات سچ ہے یا پہلے کی طرح ایک شوشہ ہے پہلے بهی جب ایسی کوئی صورتحال ہوتی جب شریف خاندان کی اپیل کی سماعت عدالت میں شروع ہوتی تو ایسی ہی سنسنی پهیلائی جاتی ہے ڈیل اور این آر او کی، اب بهی عدالت میں اپیلیں لگ چکیں ہیں شائد اب بهی یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ این آر او ہو رہا پر عدالت میں اپیلوں اور این آر او کا آپس میں دور دور سے کوئی تعلق نہیں۔

اگر عدالتی ریلیف پر کوئی یہ کہے کہ این آر او ہوا ہے تو یہ عدالت کے فیصلوں کی توہین ہے اب سوال عمران خان صاحب کے این آر او دینے کا ہے کیا عمران خان صاحب این آر او دے سکتے ہیں؟ عمران خان صاحب این آر او نہیں دے سکتے کیونکہ کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں اور عدالتیں کسی کے ماتحت نہیں بلکہ آزاد ہیں اس لیے عدالتی فیصلوں میں مداخلت کرنا بهی عدالت کی توہین ہے باقی عدالت نے فیصلہ دستاویزات دیکھ کر کرنا ہے اس لیے خدارا عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں اداروں کو متنازعہ نہ بنائیں حکومت اپنا کام کرے عوام کو ریلیف دے نہ کہ اپنی ناکامیوں کو چهپانے کےلیے ایسے شوشے چهوڑے جائیں اگر کوئی ثبوت ہیں تو عدالت میں دیں اور قوم کے سامنے رکهیں نہیں تو اس ملک پر رحم کریں اور جهوٹ مت پهیلائیں۔

کل عمران خان صاحب نے بهی پهر خطاب کرتے ہوئے این آر او نہ دینے کی گردان کی جبکہ این آر او دینے کا اختیار عمران خان صاحب کے پاس ہے ہی نہیں پهر بار بار عمران خان صاحب کو یہ چورن بیچنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان صاحب کو حکومت ملے 9 ماہ ہو چکے پر عمران خان صاحب ان 9 ماہ میں کوئی کارکردگی نہ دکها سکے بلکہ خود عمران خان صاحب نے اپنی نااہل حکومت کی ناکامیوں کا اعتراف اپنی کابینہ میں ردوبدل سے کیا عمران خان صاحب کی ٹیم کے اوپنگ کهلاڑی کو عمران خان صاحب نے خود ہی آؤٹ کر دیا یہ عمران خان صاحب سیاسی ٹیم کا واحد وہ کپتان ہے جس کی ٹیم کو آؤٹ کرنے کےلیے دوسری ٹیم کی ضرورت ہی نہیں یہ کپتان خود ہی اپنی نااہل ٹیم اور خود کو آؤٹ کرنے کےلیے کافی ہے بقول عمران خان صاحب کے جو وزیر نااہل ہوگا جو کارکردگی نہیں دکهائے گا وہ اپنی وزارت سے فارغ کیا جائے گا اسی لیے اوپنگ کهلاڑی اسد عمر کو فارغ کیا گیا۔

اب سوال یہ بهی بنتا ہے کہ وزارتِ داخلہ تو عمران خان صاحب کے پاس تهی پهر عمران خان صاحب وزارتِ داخلہ کو چلانے میں نااہل ثابت ہوئے اسی لیے اعجازشاہ کو اس منصب پر بٹها دیا گیا اب 9 ماہ کی ناکامیوں کو چهپانے کی عمران خان صاحب کوشش کر رہے ہیں اسی لیے این آر او کے چورن کو بیچنے کی ضرورت پڑهہ رہی ہے حالانکہ عوام یہ چورن خریدنے سے اب انکاری ہے کیونکہ عوام یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان صاحب کے پاس این آر او دینے کا اختیار ہے ہی نہیں کیس عدالتوں میں ہیں اور عدالتوں نے فیصلے ثبوت دیکھ کر کرنے ہیں۔

نیب کے کیسوں سے سبهی واقف ہو چکے کہ کیسے کیس بنائے گئے کیسے سزائیں سنائی گئیں اب نیب کے کمزور فیصلوں کو عدالت اگر ختم کر دے تو اس کے بعد پهر یہ کون سا چورن بیچیں گے ؟ خدارا ملک پر رحم کیجیے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے،دن بدن مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے عمران خان صاحب کی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے دن بدن بےروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ،عمران خان صاحب کو چاہیے کہ جو وعدے انہوں نے کیے تهے ان کو پورا کریں آخر کب تک اسی طرح اپنی ناکامیوں کو چهپانے کےلیے این آر او کا چورن بیچیں گے جس کا قانونی اختیار بهی ان کے پاس نہیں!!

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here