تو کیادس ماہ بعدیقین کر لیاجائے کہ یہی وہ سونامی تھی جو آنا تھی؟

افضال خان

تو کیادس ماہ بعدیقین کر لیاجائے کہ یہی وہ سونامی تھی جو آنا تھی؟
اگرجواب ہاں میں ہے؟
توپھریہ سونامی قوم کواپنے ساتھ بہالے جانے آئی ہے۔ہیت مقتدرہ نے جتنی جلدبازی میں اس سونامی کو دعوت دی اورسارے بندتوڑکر پورے ملک میں پھیلادیا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اتنی تباہی کا اندازہ توانہیں بھی نہیں تھا۔
مگراب کیاکریں؟
اس کوایسے ہی چلنے دیں؟
اپوزیشن کے تیوردیکھ کر تولگتا ہے کہ ایسے ہی چلنے دیں۔ سوال پیداہوتاہے کہ اپوزیشن کیوں چاہتی ہے کہ سب کچھ ایسے ہی چلتارہے؟ بظاہرتویہی لگتاہے کہ اپوزیشن طاقتورحلقوں کوسبق سکھاناچاہتی ہے کہ سونامی لائے ہیں تواب اس کو بھگتیں۔ یعنی کہ روایتی طعنہ ”اس کلموہی کی خاطر مجھے چھوڑا“۔
میری ناقص رائے میں اپوزیشن اگرواقعی یہ سوچتی ہے توبہت بڑی غلطی پرہے۔ جس طرح یہ سونامی عوام کوبہائے لے جارہی ہے اس سے کچھ بعید نہیں کہ یہ لہریں ان کوبھی بہالے جائیں جوابھی سمجھ رہے ہیں کہ وہ کسی اونچی اورمحفوظ جگہ پرہیں۔
اگر سونامی کے اثرات دیکھے جائیں تومعیشت کا بیڑہ غرق ہوا،روپیہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ناک سے لکیریں نکال رہاہے، لاکھوں بے روزگارہوئے تو ہزاروں بے گھر، کروڑوں انسان جو دن رات کی محنت اورکوشش سے رینگ رینگ کر غربت کی لیکر کو چند قدم پیچھے چھوڑآئے تھے وہ دوبارہ خط غربت سے نیچے لڑھک گئے ہیں اورمزیدلڑھکیں گے۔ لوئرمڈکلاس جوتعلیم اورہنر کی بنیاد پراگلی سیڑھی پرپاوں رکھنے ہی والی تھی وہ دھڑام سے نیچے آگری۔اورتمام خوش فہمیاں منہ چڑانے لگیں۔
کیونکہ کل تک خوش فہمی تھی کہ نئے والے آئیں گے توڈالروں کی بارش ہوگی، چھپرپھاڑسرمایہ کاری ہو گی، خارجہ سطح پرتعلقات کا ایک نیا دورشروع ہوگا۔لاکھوں گھر بنیں گے، کروڑوں نوکریاں ہونگی، پیسے درختوں پرلگیں، لوٹا ہوامال واپس لیاجائیگا، اربوں ڈالر کاجوقرض لیا ہے وہ واپس عالمی اداروں کے منہ پرماریں گے وغیرہ اورپھروغیرہ۔ لیکن ایساکچھ نہیں ہوااورنہ مستقبل قریب میں ایسا ہونے جارہا ہے۔
دوسری طرف نیاحکمران طبقہ، جس میں نیاتوایک آدھ ہی ہے باقی وہی پرانے گھوڑے، قوم کودن رات یہ بتانے میں لگاہے کہ اس سے پہلے جویہاں تخت نشیں تھے ان کی غلطیوں کی وجہ سے یہ خرابیاں وجودمیں آئی ہیں۔ لہٰذا ان کو جاکر پکڑو۔ ہرروزخطابوں، تقریروں، بیانات،ٹاک شوز اورپریس کانفرنسوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے پراپنا وقت ضائع کیاجارہاہے کہ آج کے حالات کاذمہ دارکوئی اورہے۔کل تک اس ”کوئی اور“ کے ساتھ جولوگ کھڑے تھے ان میں سے درجنوں آج کے حکمرانوں کا ہم نوالہ وہم پیالہ ہیں۔یعنی کہ اقتدارمیں شریک۔ وزراء کی ایک بڑی تعداد پچھلوں سے ہی مستعارلی گئی، یا”لوٹی“ یا پھرچھینی گئی ہے۔
لیکن حکمران طبقہ ہرروز پچھلوں کولعن طعن کرتاہے اورخودکچھ نہیں کرتا۔ویسے اگرسوچاجائے تو یہ کہناکسی حد تکزیادتی ہے کہ بالکل کچھ نہیں کرتا۔ ویسے کچھ نہ کچھ توکیا ہے، ڈرائیورتک بنے۔ لیکن ابھی تک جیسے انہوں نے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایاہواہے دنیا نے ان کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگارکھاہے۔
اب سوچنا یہ ہے کہ ملک کو اتنے بڑے طوفان سے حاصل کیاہوا؟ عام آدمی کے ہاتھ کیاآیااورخودہیت مقتدرہ کوکیاملا؟ اعداد وشمارکی روشنی میں توجواب یہی ہے کہ اس طوفان سے تباہی آئی، عام آدمی برباد ہوا اورمزیدہوگا، جولائے ہیں انکے اپنے ہاتھ اناکی تسکین اورکچھ بھوک ننگ میں شراکت داری کے سواکچھ نہیں آیا۔ اندرون خانہ کچھ ہاتھ آیاہوتوہمارے پاس معلومات نہیں۔ تعلیم، صحت اورترقیاتی بجٹ میں بڑاکٹ لگااورہائیرایجوکیشن کے بجٹ میں بھی کٹوتی ہوئی،دفاع کے بجٹ میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہ ہوابلکہ کہنا پڑا کہ ہم اپنے بجٹ میں اضافہ نہیں چاہتے۔خارجہ محاذ پر بھی ابھی تک کسی نے کوئی خاص گھاس نہیں ڈالی،البتہ اپنے ہی کچھ خوشامدیوں نے ”بھاگ لگے رہن“ کی دعاؤں کے ساتھ یہ باورکرانے کی بھرپورکوشش کی ہے کہ دنیا میں آپ کابہت مقام ہے۔ دنیاآپ کی طرف ہی دیکھ رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
توثابت یہ ہواکہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آیا،ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا۔ معاشی صورتحال دگرگوں ہوئی۔مختلف طبقات کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی۔یعنی کہ ”رل تے گئے آں، پرچس بڑی آئی اے“۔ اس پرطرفہ تماشا کہ نئے حکمرانوں کوابھی تک سچ بولنے کی توفیق نہیں ہورہی ہے۔وہ سمجھ رہے ہیں۔ کل بھی نعرے لگائے کہ ہم آئیں گے تویوں ہوگا اور پھر مزید یوں ہوگا۔لیکن حالت یہ ہے کہ سب کچھ یوں ہوناتودور کی بات جوں کاتوں بھی نہ رہا۔ وہ اب بھی سمجھ رہے کہ وہ اپنے نعرے سے عوام کو مزید کچھ عرصہ طفل تسلیاں دے سکتے ہیں حالانکہ وہ خودبھی جانتے ہیں کہ عالمی اداروں کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدوں کے بعد حالات میں مثبت تبدیلی آناتودور، جتنی خرابی ہوچکی اس خرابی میں ہی استحکام رہے توکمال ہوجائے۔ یعنی جتنی مہنگائی آج کی تاریخ میں ہوچکی ہے وہ اگلے کچھ عرصے کیلئے اسی مقام پررہے زیادہ نہ ہو۔روپیہ جتنا گرچکا مزید نہ گرے۔ لیکن دستخط شدہ معاہدوں کی موجودگی میں یہ کہاں ممکن ہے اوراب توعملدرآمدکرانے والے بھی قرض دینے والوں کے اپنے بندے ہیں۔
اب ایسے حالات میں ہیت مقتدرہ کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ کیایہ سب ایسے چلتارہے اوروہ بھی اپوزیشن کوسبق سکھانے کیلئے دوسری انتہا پرکھڑے ملک اورعوام کو بربادہوتادیکھیں گے؟ کوئی واپسی یا بہتری کا راستہ بھی ہے؟ انکی توخداجانے کیاسوچ ہے لیکن مجھے یوں لگتا ہے کہ ضد اورانا نے سب کو گھیر رکھا ہے اوربقول اقبال ساجد:
”سلگے گا دل زار جلن اوربڑھے گی
محسوس یہ ہوتاہے گھٹن اوربڑھے گی“

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here