پراپیگینڈا یا ایجنڈا سیٹنگ کیا ہے

سید شاہد عباس کاظمی

صحافت میں حقیقت سے نظریں چرانا اور پراپیگنڈہ کر کے اپنی بات منوانا اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اپنی بات منوانے کا ایجنڈا کیسے سیٹ کیا جاتا ہے۔ کس طرح جھوٹ کو بھی سچ کہلوا دیا جاتا ہے۔ یہ صحافتی اقدار کے خلاف تھا لیکن اب صحافت کا ہتھیار بن چکاہے۔ آپ کیسے ایک ہی بات کی مسلسل گردان کرتے ہیں کہ وہ سچ ثابت ہونے لگتی ہے۔

ایجنڈا سیٹنگ تھیوری، یعنی آپ ایک بات سوچ لیتے ہیں۔ اور پھر اگلے مرحلے میں اس کی جزئیات طے کر کے لوگوں تک پہنچانے کا مرحلہ آ جاتا ہے۔ اس مرحلے میں آپ اسی ایک بات کی گردان اتنے تواتر سے کرتے ہیں کہ وہ پہلے لوگوں کی نظروں کے سامنے بار بار آتی ہے اور پھر نظروں سے اگلے مرحلے میں ان کے قلوب و اذہان میں نقش ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ پہلے پہل جب ایجنڈا سیٹنگ تھیوری کے تحت وہ بات ان کے قلوب و اذہان میں نقش ہوتی ہے تو ابتدائی طور پہ وہ اس پہ رائے قائم نہیں کرتے۔ لیکن بار بار ایک ہی بات سامنے آنے پہ لوگ تنگ آ کے بھی رائے قائم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور بعض اوقات وہ بات ان کی ذہنی سوچ کے مطابق ہوتی ہے اس لیے بھی وہ اس پہ رائے دینے لگتے ہیں۔ حیران کن المیہ یہ ہے کہ وہ رائے دیتے ہوئے اس بار بار گردان کی گئی بات یا معاملے کی تہہ تک نہیں جاتے یا یوں کہہ لیجیے کے وہ تحقیق کرنا پسند نہیں کرتے۔ پراپیگینڈا یا ایجنڈا سیٹنگ ان کے اذہان کے مطابق اتنی بہترین صورت میں ہوتی ہے کہ چند نمایاں الفاظ ہی ان کی رائے بنا دیتے ہیں۔

اس اتنی لمبی گردان کا مقصد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کوئی ایجنڈا یا پراپیگنڈا مہم ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ایک مثال اس پوری گردان کی وجہ بنی ہے۔ اور وہ مثال اتنی بہترین ہے کہ ہمیں صحافت کی ایک پوری تھیوری سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔

منشیات کی روک تھام کے ادارے نے ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو گرفت میں لے رکھا ہے ان پہ منشیات رکھنے کا الزام ہے۔ جو کہ بقول اس ادارے کے ان کی گاڑی سے برآمد ہوئیں اور رانا صاحب نے خود نشاندہی کی۔ کیس لگ چکا ہے، ادارہ جانے، رانا صاحب کے وکلاء جانیں، معزز عدالت جانے، یہ ہمارا کام نہیں کہ ان کے مجرم یا بے قصور ہونے کا فیصلہ کریں۔ لیکن انسدادِ منشیات کے ادارے نے عدالت میں چالان پیش کیا جس میں کہا گیا کہ رانا صاحب نے منشیات کے کاروبار کا اقرار کیا ہے، جب کہ رانا صاحب کے وکیل نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ایسے کیسز میں بسا اوقات یہی دیکھا گیا ہے کہ الزامات لگتے ہیں، کچھ کا دفاع ہو پاتا ہے کچھ ثابت ہو جاتے ہیں۔ یہ موضوع بحث نہیں، رانا صاحب قصوروار ہیں تو سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ لیکن چالان کے چند الفاظ کو پاکستان کے مشہور میڈیا گروپس نے ایجنڈا سیٹنگ تھیوری کے تحت چلانا شروع کر دیا۔ ان میں مشہور ویب سائیٹس بھی شامل ہیں۔ اور مشہور الیکٹرانک میڈیا چینلز کے آفیشل پیجز بھی۔ مخصوص الفاظ اٹھا لینا اور ان کو ایسے بار بار لوگوں کے سامنے لانا جیسے رانا صاحب نے اقرار کر لیا ہے۔ یعنی جملوں کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ عام قاری یہ خیال دل میں راسخ کر لیتا ہے کہ ایسا ہو چکا ہے۔ وہ بیان پہ کلک کرنے کی بھی محنت نہیں کرئے گا اور اسی تصویری بیان پہ رائے بنانا شروع کر دے گا۔ اور نہیں رائے بنائے گا تو یہ بیان اسپانسرڈ کے ٹیگ کے ساتھ ایسے بار بار سامنے آئے گا کہ وہ رائے بنانے پہ مجبور ہو جائے گا۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں کہ کسی تجزیہ کار کی رائے کو تھوڑی گرافکس کے ساتھ ایسے سامنے لایا جاتا ہے کہ جیسے فیصلہ ہو گیا ہو کسی کی بریت کا یا مجرم ہونے کا۔ اسی طرز پہ لوگوں کی پگڑیاں بھی اچھالی جاتی ہیں اور رائے عامہ اپنے حق میں ہموار بھی کی جاتی ہیں۔

اب ہونا کیا چاہیے۔ صحافت آج کل سوشل میڈیا تک پہنچ چکی ہے اور کل تک سوشل میڈیا تفریح کا ذریعہ تھا تو آج کل اخبارات اپنے سوشل میڈیا پیجز پہ پرنٹ سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اب ایجنڈا سیٹنگ اور پراپیگینڈا کے لیے بھی میڈیا چینلز، اخبارات، سیاسی پارٹیاں، شخصیات سوشل میڈیا کو استعمال کر رہی ہیں۔ بظاہر ایک سرخی سنسنی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ اکثر جب آپ کسی سرخی پہ فوری ردعمل دیتے ہوئے لنک کھولتے ہیں تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق ہوتا ہے کہ لنک میں استفہامیہ، سوالیہ، اندازً، فرضی بیانات کی بھرمار ہوتی ہے جو بناء تحقیق لگائے جاتے ہیں۔ اورقارئین ان بیانات کی بنیاد پہ ہی رائے قائم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ذہن سازی کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔

صحافت کی تعلیم کے دوران پراپیگینڈا اور ایجنڈا سیٹنگ کو پڑھاتے ہوئے اساتذہ سے کئی بار سنا کے یہ بظاہر تو صحافتی لحاظ سے کئی مہذب نام رکھتا ہے لیکن عام فہم میں اسے جھوٹ ہی کہا جائے گا کہ جو نہیں ہے اس کو اتنا لوگوں میں پھیلا دو کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔ ایک روشن اپنائیے۔ کسی بھی تصویر، بیان، یا بریکنگ کے پھٹے کے ساتھ سوشل میڈیا کی خبر پہ رائے قائم کرنے کے بجائے آپ لنک اوپن کر کے دیکھ لیجیے کہ آیا واقعی اس مین کچھ بریکنگ ہے یا نہیں۔ اور تصویر شیئر کرنے والے کا مقصد صرف کلک ہوتا ہے۔ جس کے پیسے ملتے ہیں۔ وہ ان کا مقصد پورا ہو جائے گا مگر آپ کا فائدہ یہ ہو گا کہ حقیقت سامنے آ جائے گی اور آپ پراپیگینڈا یا ایجنڈا سیٹنگ مہم کا حصہ بننے سے بچ جائیں گے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here