ناکامیاں چھپ نہیں سکتیں!!!

تحریر:حسنات احمد کوٹ

عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر دھواں دھار تھی دھواں دھار تقریر سے نہ تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوا نہ ہی کشمیریوں کی مشکلات کم ہوئیں ایک تقریر سے یہ اپنی ناکامیاں چھپا نہیں سکتے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور اس کی حکومت سوائے تقریر کے کشمیریوں کےلیے کوئی عملی اقدامات نہ کر سکی جس سے کشمیریوں کو فائدہ پہنچتا کشمیر میں کرفیو ختم ہوتا ان کو چاہیے تھا کہ کچھ ممالک کی حمایت سے یہ آرٹیکل 370 کے خاتمے پر خوب احتجاج کرتے جس میں دنیا کے کچھ ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے اور بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف ایک قرار داد لائی جاتی جس میں مختلف ممالک کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو مجبور کرتے اور آرٹیکل 370 بحال ہوتا کشمیر میں کرفیو ختم ہوتا پر حقیقت یہ ہے کہ سوائے تقریر کے یہ کشمیر کےلیے کوئی عملی اقدامات نہ کر سکے جس سے کشمیریوں کی مشکلات میں کمی ہوتی عمران خان کی تقریر پر واہ واہ کرنے والے یہ بھول گئے کہ جو کام 72 سالوں میں بھارت کی نہ کرنے کی جرات ہوئی اس کو بھارت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی صورت میں کیا یہ کیسے ہو گیا اس کو کھل کر بیان بھی نہیں کیا جا سکتا عمران خان کے پچھلے امریکہ کے دورے کے بعد ہی بھارت نے یہ گھٹیا کام کرنے کی جرات کی کشمیر کےلیے آواز اٹھانے والے حافظ سعید کو قید کر دیا گیا عمران خان اگر کشمیر کے مسئلے پر سنجیدہ ہوتا تو وہ نہ حافظ سعید کو گرفتار کرتا اور نہ ہی اس کی جماعت پر پابندی لگاتا اور کچھ دن پہلے عمران خان نے یہ بیان بھی جاری کیا کہ جو پاکستانی کشمیر کےلیے جہاد کےلیے جائے گا بھارت کے خلاف کچھ کرے گا تو وہ کشمیر کےلیے جہاد کرنے والا نہ کشمیر کے لیے وفادار ہے نہ پاکستان کےلیے ان سب معاملات پر نظر دوڑائیں تو کئیں سوال جنم لیتے ہیں حقیقت کو ایک تقریر کے پیچھے جتنا چھپانے کی کوشش کی جائے حقیقت چھپ نہیں سکتی پر حقیقت یہ ہے کہ سوائے تقریر کے عمران خان صاحب کشمیر کےلیے کوئی عملی اقدامات نہ کر سکے کاش عمران خان صاحب تقریر کے ساتھ کشمیریوں کی مشکلات کم کرنے کےلیے کوئی عملی اقدامات بھی کرتے تو کشمیریوں کی مشکلات کم ہوتیں پر افسوس ایک تقریر سے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے اس تقریر سے یہ اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں پر حقیقت یہ ہے کہ ان کی سفارتی ناکامیاں چھپ ہی نہیں سکتیں کیونکہ 11 ستمبر کو شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ میں ہم نے 50 ملکوں کی حمایت حاصل کر لی ہے جو کشمیر کے لیے عملی طور پر اقدامات کرنے کےلیے اور قرارداد لانے کےلیے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے پھر عمران خان صاحب نے بھی بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں 58 ملکوں کی حمایت ہمارے ساتھ ہے یہ بیان سن کر کشمیریوں کو امید کی کرن نظر آئی کہ عمران خان صاحب نے 58 ملکوں کی حمایت حاصل کر لی جس کے بعد وہ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کےلیے قرارداد لائیں گے اور کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہو جائے گا کرفیو بھی ختم ہو جائے گا آرٹیکل 370 بحال ہو جائے گا کشمیریوں کی مشکلات کم ہو جائیں گی پر یہ خوشی کشمیریوں کےلیے کچھ وقت کےلیے تھی کیونکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے 19 ستمبر تک بھارت کے خلاف آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف کشمیر میں لگے کرفیو کے خلاف اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلموں کے خلاف 19 ستمبر کو پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جانی تھی جس کی بنیاد پر کشمیر کے مسئلے پر عملی اقدامات کیے جانے تھے کشمیر کا مسئلہ عملی طور پر حل کرنے کےلیے مختلف ملکوں کی مدد سے 19 ستمبر دن 12 بجے تک قرارداد جمع کرانے کا وقت تھا کیونکہ عمران خان صاحب کا دعویٰ تھا کہ 58 ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہیں حالانکہ قرارداد جمع کرانے کےلیے صرف 16 ملکوں کی حمایت درکار تھی لیکن افسوس 19 ستمبر گزر گیا پر عمران خان صاحب کی طرف سے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کےلیے قرارداد جمع نہ کروائی جا سکی اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ سوائے تقریر کے ہم دنیا کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے میں ناکام رہے جو دعوےکیے گئے کہ 58 ممالک ہمارے ساتھ کھڑے تھے اور 27 ستمبر تک کوئی حل نکل آئے گا تو اب سوال یہ ہے کہ 27 ستمبر بھی گزر گیا سوائے دھواں دھار تقریر کے وہ عملی اقدامات کہاں گئے جن سے کشمیریوں کی مشکلات کم ہونا تھی کہاں گئی وہ 58 ملکوں کی حمایت جس سے قرارداد پیش کرکے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنا تھا پر حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے میں عمران خان صاحب ناکام ہوئے جو دعوے کیے گئے تھے 58 ممالک کے کہ وہ ساتھ کھڑے ہیں وہ بس جھوٹیاں تسلیاں تھی کیونکہ آج 28 ستمبر ہے پر کشمیر کی صورتحال وہی ہے جو تقریر سے پہلے تھی کاش تقریر کے ساتھ یہ کچھ ملکوں کی حمایت حاصل کرکے کشمیر کےلیے کوئی عملی اقدامات کرتے جو کشمیریوں کی مشکلات کم کرتیں دعوے 58 ملکوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے تھے پر 16 ملکوں کو بھی ساتھ کھڑا کرنے میں عمران خان ناکام ہوئے اسی ناکامی کو چھپانے کےلیے ایک تقریر کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جا رہی ہے پر حقیقت یہ ہے کہ ان کی سفارتی ناکامیاں اب کسی صورت چھپ ہی نہیں سکتیں””

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here