خیال سےخطاب

 

محمداسدشاہ

آپ خود بھی جانتے ہوں گے کہ آپ کی طبیعت میں خودپرستی بدرجۂ اتم موجود ہے – جب سے آپ نے ہوش سنبھالا ، آپ نے اقتدار کے خواب دیکھنا شروع کیے – ہر اس راستے کو اختیار کیا جو اقتدار تک لے جا سکے ، اس سے قطع نظر کہ وہ راستہ درست تھا یا غلط – لیکن آپ کا کہنا ہے کہ آپ نے اقتدار کے حصول کے لیے صرف 23 سال جدوجہد کی – اگر آپ کی بات مان لی جائے تب بھی سوچیے کہ ملک خداداد میں کیا کبھی کسی کو صرف “جدوجہد” سے اقتدار ملا ؟ بہت سے لوگوں نے آپ سے بہت زیادہ جدوجہد کی – ان کی جدوجہد خالص نظریات پر قائم رہی – چناں چہ ان میں سے اکثر اپنے اخلاص کے ہم راہ دار فانی سے کوچ کر گئے – اور جو موجود ہیں وہ اقتدار کی غلام گردشوں سے بہت دور کہیں حالات کے صحراؤں میں آبلہ پا نظر آتے ہیں – خان عبدالولی خان ، اسفندیار ولی خان ، مولانا فضل الرحمن ، غوث بخش بزنجو ، معراج محمد خان ، محمود خان اچکزئی ، میر حاصل خان بزنجو ، علی احمد کرد ، عاصمہ جہاں گیر اور جسٹس وجیہ الدین جیسے لوگوں کے نظریات جو بھی رہے ہوں ، ان کی جدوجہد سے انکار ممکن نہیں – ان کا مسئلہ یہ رہا کہ وہ کبھی ان چوکھٹوں پر سجدہ ریز نہ ہوئے جہاں سے زمینی اقتدار و اختیار کے چشمے پھوٹتے ہیں – آپ کی “جدوجہد” یہ ہے کہ آپ نے 1980 کی دہائی میں ہی ان چوکھٹوں کا طواف شروع کر دیا تھا – تب بظاہر آپ صرف ایک کھلاڑی کے طور پر مشہور تھے – لیکن واقفان ماضی و حال جانتے ہیں کہ آپ تب بھی ان چوکھٹوں پر کتنی باقاعدگی سے حاضری دیا کرتے تھے – پہلی شادی کا فیصلہ بھی اسی قسم کی کوششوں میں سے ایک تھا –

کچھ عرصہ آپ اپنی آزاد زبان سے اصولی باتیں کرتے پائے گئے – پھر آخر کار آپ کو قدم بوسی کی اجازت مل گئی – راستے کھلنے لگے – آپ کو بتا دیا گیا کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے – تیر اندازی بھی سکھائی گئی اور نشانہ بھی بتا دیا گیا – آپ نے خدمت کا حق ادا کیا تو سجدے قبول ہوئے – لیکن اقتدار کے راستے میں ابھی وہ لوگ موجود تھے جنھیں اس بات کا زعم تھا کہ انھوں نے قوم کی خدمت کی تھی اور جنھیں یہ وہم تھا کہ شاید کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ آزادانہ ، منصفانہ اور غیر جانب دارانہ باقی ہے – ان کو آپ کے راستے سے ہٹانے کی ذمہ داری جنھوں نے بھی اپنے سر لی ، پوری طرح نبھائی – آپ کے لیے پورا راستہ خالی کروایا گیا – آپ کو اکیلا “مسیحا” بنا کر پیش کیا گیا – اس مفروضے کو بہت شد و مد کے ساتھ رعایا کے کانوں میں انڈیلا گیا کہ آپ کی شخصیت دیانت و امانت سے گندھی ہے – اس مقصد کے لیے اس قدر دھول اڑائی گئی کہ آپ کی زندگی کے ایسے تمام گوشے پس منظر میں چلے گئے جن پر کوئی انگلی اٹھا سکتا – آپ کی شخصیت کو اجلا اور نکھرا ظاہر کرنے کے لیے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا استعمال اس چابک دستی سے کیا گیا کہ تاریخ اس کی مثال دینے سے قاصر ہے – “ماہرین” صاف چھپے بھی نہیں اور سامنے آئے بھی نہیں – ان کی مہارت کی داد نہ دینا کنجوسی ہو گا –

آپ نے خود سے 90 دن کی مہلت طے کر لی اور بتایا کہ آپ صرف 90 دنوں میں فرش کو عرش سے ہم کنار کریں گے ، بتایا گیا کہ ادیار غیر میں موجود اربوں روپیہ ، جو آپ کے بقول کسی قوم کا تھا ، آپ صرف ایک دن (یعنی 24 گھنٹے ، نصف جن کے 12 گھنٹے ہؤا کرتے ہیں) میں واپس لائیں گے ، آدھی رقم قرض خواہوں کے منہ پر ماریں گے اور باقی آدھی اس قوم کے قدموں پر نچھاور فرمائیں گے جو آپ کے بقول اس نامعلوم زر کثیر کی اصل مالک ہے ، پولیس کو آپ ہی درست فرما سکتے ہیں ، ارکان اسمبلی کو فنڈز دینا آپ نے بددیانتی قرار دے رکھا تھا ، قرض لینے کو آپ لعنت قرار دیتے تھے ، بل کہ اس کی بجائے خود کشی کو اپنے لیے پسند فرماتے تھے ، پٹرول کی قیمت ان لوگوں نے 120 روپے فی لٹر سے بتدریج کم کرتے کرتے 72 روپے فی لٹر کر دی تھی جنھیں آپ چور اور لٹیرے قرار دیتے تھے اور ان القابات پر آپ کو شدید ترین اصرار تھا – آپ اس قیمت پر بھی مطمئن نظر نہیں آتے تھے اور بے قرار ہو کر آسمان کی طرف دیکھتے تھے ، پھر اپنے دیوانے سامعین کے جذبات کی نبضیں تھام کر آپ بتاتے تھے کہ 72 روپے میں بھی تب کا وزیراعظم جیب تراشی کا مرتکب ہوتا تھا کیوں کہ آپ کی ذاتی پراسرار معلومات کے مطابق یہ پٹرول عوام کو 42 روپے فی لٹر ملنا چاہیے تھا اور آپ ہی کی ذات گرامی ایسی تھی جو یہ کام صرف 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں کر سکتی تھی ، آپ نے بتایا کہ دنیا بھر کے خوف ناک ترین مسئلے یعنی بے روزگاری سے نمٹنے کا نسخہ آپ کے قدموں سے لپٹا رہتا ہے اور آپ ایک کروڑ —– جی ہاں ایک کروڑ نئی سرکاری ملازمتیں ایجاد فرمائیں گے ، پچاس لاکھ افراد کو گھروں کا مالک بنانا آپ کے بائیں ہاتھ کا کام ہے ، آپ کی قوم کے معصوم لوگ ادیار غیر میں روزگار کمانے کیوں جائیں ، بل کہ آپ نے دعویٰ کیا کہ یورپ و امریکہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا جم غفیر آپ کے ملک کی گلیوں میں نوکریاں مانگتا نظر آئے گا ، آپ صرف ایک سو (نصف جن کے پچاس ہؤا کرتے ہیں) دنوں میں ایک نیا صوبہ قائم فرما چکے ہوں گے ، مہنگائی سے آپ کو انتہائی نفرت تھی – آپ نے اپنے دیوانوں کو حکم جاری فرمایا تھا کہ اگر بجلی یا گیس کی فی یونٹ قیمت ایک روپیہ بھی بڑھے تو ان کے بل سر عام جلا دیئے جائیں – بل کہ آپ نے ایسا کر کے بھی دکھایا – مہنگائی کے جن کو جوتوں تلے روندنے کی طاقت صرف آپ میں ہی تھی —- لیکن ان سب کاموں کے لیے لازمی تھا کہ ملکی اقتدار کی کرسی پر آپ کے سوا کوئی نظر نہ آئے – باقی سب زندانوں میں ہوں تب ہی یہ ممکن تھا – چوں کہ آپ نہایت دیانت دار ، نیک نیت ، سادہ مزاج ،درویش صفت ، بل کہ تقریباً ہمہ صفت موصوف قرار دیئے جاتے تھے ، چناں چہ مہربانوں نے آپ کی یہ معصوم سی خواہش بھی پوری کر دی –

آپ کی تمام خواہشات پوری ہوئے تقریباً دو سال ہونے والے ہیں لیکن آپ نے اس کے بدلے اس قوم کو اشکوں اور آہوں کے سوا کیا دیا ؟ صداقت و امانت کی سند کی حقیقت کیا ہے ، آج بچہ بچہ جان چکا ہے –

گزشتہ دنوں آپ مظفرآباد تشریف لے گئے – وہاں کے منتخب وزیراعظم نے تجویز دی کہ قوم کو متحد کرنے کے لیے تمام سیاسی اکائیوں کو ایک میز پر بٹھا کر کشمیر کا مقدمہ جیتا جا سکتا ہے – لیکن آپ نے اپنی طبیعت اور ذاتی روایات کے عین مطابق نہایت طنطنے کے ساتھ اس تجویز کا مذاق اڑایا اور فرمایا کہ آپ کسی “کرپٹ” کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا سکتے – لیکن آپ کو شاید یاد نہیں رہتا کہ جب بھی آپ یہ بات کہتے ہیں تب لوگ آپ کے ارد گرد موجود آپ کے ساتھیوں کے چہرے تکنے لگتے ہیں –

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here