سب سے پہلے پاکستان

میمونہ خواجہ

آج اس کا 73وا‌ں جنم دن تھا. سب اس کا جنم دن بہت شوق اور جوش و خروش سے مناتے تھے. پر وہ بہت اداس تھا. جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا، اس کی اداسیاں بڑھتی جا رہی تھی. آج بھی تھا تو اس کا جنم دن پر اداسی ہنوز برقرار تھی.بات یہ نہیں تھی کہ اس کی اہمیت کوئی نہیں تھی. اہمیت تو اس کی بہت تھی. اس کی لیے لوگ لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے تھےمگر، یہ لڑائی اس کی ذات کےلیے نہیں ھوتی تھی. یہ لڑائی اس پیسے اور پاور کے لیے تھی جو اس کے ذریعے لوگوں کو ملتی تھی. اور یہی بات اس کی اداسی کا سبب تھی کہ73 سال اس نے اپنے وجود کا ایک ایک حصہ ان لوگوں کے لیے قربان کیا مگر بدلے میں اسے کیا ملا؟؟ سب اس کے تن کو نوچنے کےلیے تیار تھے مگر اس کے من میں جھانکنے کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوئی.


یہ کہانی ہے اس عظیم دھرتی کی جسے ہم  “پاکستان” کہتے ہیں. جس  کے دم قدم سے ہمارا وجود ہے. لیکن افسوس صد افسوس کہ ھم اس سے ویسی وفا نہ نبھا سکے جو اس دھرتی کا حق ہے.73 سال گزرنے کے باوجود بھی یہ دھرتی ماں کی آغوش کی طرح ہمیں سمیٹے ہوئے ہے مگر ہم اسی آغوش کو لوٹ کھسوٹ رہے ھیں یہ سمجھے اور جانے بنا کہ یہ آغوش نہ رہی تو ہمارا کیا ہو گا.آئیں “پاکستان” کے اس جنم دن پر ہم عہد کریں کہ “پاکستان” کی سالمیت اور اس کے وقار کی خاطر خون جگر بھی پیش کرنا پڑا تو تب بھی ھم گریز نہیں کریں گے، اس کے ساتھ ویسی وفا نبھائیں گے جیسا اس دھرتی کا حق ھے کیونکہ “سب سے پہلے پاکستان”.

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here