سی پیک اور بی آر آئی چین کے بڑے منصوبے

پروفیسر عائشیہ عالم

اکیسویں صدی معاشی انقلاب کی صدی جانی جاتی ہے 1978میں اس وقت کی چینی حکومت نے جن معاشی پالیسیوں کا آغاز کیا تھا اْس کے ثمرات آج عوامی جمہوریہ چین کو مل رہے ہیں۔ 2013میں چین ایک بڑی معاشی طاقت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھری۔ 2013میں چینی حکومت نے کچھ انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا ان میں سی پیک اور بی آر آئی جیسے منصوبے شامل تھے۔ ون بلٹ ون روڈ کا یہ منصوبہ خطے کے لئے اور باقی دنیا کے لئے ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ستر سے زائد ممالک اس منصوبے کا حصہ ہیں چار سے آٹھ ٹریلین ٹوٹل اس منصوبے کی لاگت ہے یہ منصوبہ 2049میں مکمل ہوگا۔ چینی صدر شی چن پنگ کا یہ شاندار آئیڈیا تھا کہ ایشیائ ، یورپ ، مڈل ایسٹ اور امریکہ تک کے تمام علاقوں کے درمیان باہمی رابطہ استوار کیا جائے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سڑکوں اور ریلوے لائن کا جال بچھایا جائے اور خطے کے تمام ممالک کے لوگوں کے درمیان باہمی رابطے کو فروغ دیا جائے۔ اس کے علاوہ صنعتوں کے قیام کو ذیادہ سے ذیادہ فروغ دیا جائے۔ بندرگاہوں کی تعمیر و ترقی پر کام کیا جائے اور ذیادہ سے ذیادہ بندرگاہیں بنائی جائیں۔ قدرتی وسائل جیسے گیس اور کوئلے کے ذخائر سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ اس کے علاوہ باقی ملکوں کے درمیان تعلیم کے شعبے کو فروغ دیا جائے۔باہمی رابطے کے فروغ سے لوگوں کے درمیان ثقافتی وفود کا تبادلہ ہوگا جس سے ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کی ثقافت سے واقف ہونگے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس میں Gـ7کے ممالک میں اٹلی بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ 2013میں جب چین ایک مظبوط معاشی طاقت بن کے دنیا کے سامنے ابھری تو اس وقت چین نے تجارت کو ذیادہ سے ذیادہ بڑھانے ، تیز رفتار کرنے ، آسان اور دیر پا بنانے کے لئے بی آر آئی جئسے منصوبے کا آغاز کیا۔
Xian سے اس منصوبے کا آغاز ہو ااور اسکے تحت زمینی اور سمندری تجارت کو فروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے۔ چین کے یہ انقلابی منصوبے ایک طرح سے دنیا کو حیرت میں ڈال رہے ہیں۔ اس وقت دفاعی میدان میں معاہدات کی ایک تاریخ بھری پڑی ہے لیکن ملکوں اور براعظموں کی تعمیر و ترقی کے شاندار منصوبوں کے بارے میں اس سے پہلے کوئی تصور نہیں ملتا۔ اگر تاریخ کے اوراق میں جھانکا جائے تو ایک بات بڑی حیران کر دینے والی سامنے آتی ہے کہ چاہے روس ہو یا امریکہ دونوں نے اس دنیا کے امن کو برباد کیا۔ ملکوں کے درمیان تعلقات کو بگاڑنے میں بڑی طاقتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ستائیس دسمبر 1979جب افغانستان میں روس آکر بیٹھ گیا اور وہاں غریب افغانیوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی روس کے جانے کے بعد امریکہ بہادر افغانستان کی سرزمین کو افغانی عوام کے خون سے سیراب کرنے آپہنچا۔ 2001سے 2019 تک قتل عام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن بڑی حیرت ہوتی ہے کہ ایران ، عراق، افغانستان ، شام ، لیبیااور فلسطین جیسے مظلوم ممالک کے وسائل کو طاقت سے ہڑپ کرنے کی کوئی کسر ان بڑی طاقتوں نے نہیں چھوڑی۔ لیکن دوسری طرف چین کی حکومت اور عوام نے ہمیشہ امن کے راستے کو چنا اور مظلوم ممالک کی آواز بنا ?۔ چین نے کبھی بھی دوسرے ملکوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کی شاید یہی وجہ ہے کہ آج دنیا چین کے ان منصوبوں میں شامل ہو کر چین پر اپنے اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔2020میں بین الاقوامی سیاست میں چین کو ایک ممتاز مقام حاصل ہوا ہے چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی معاملات سے امریکہ اور بھارت دونوں پریشان ہیں کیونکہ امریکہ اور بھارت دونوں اس وقت چین کے کسی بھی منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔ امریکہ اور بھارت دفاعی میدان میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں چین کی انقلابی منصوبوں سے پریشان ہیں۔ بی آر آئی کو کامیاب بنانے کے لئے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک کا قیام عمل میں لایا گیا چائینہ ڈویلپمنٹ بنک اور سلک روڈ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ اس منصوبے کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ سال 2020میں ملکوں کے تعلقات میں ذیادہ تبدیلی دیکھنے میں آئی خاص کر چین اور بھارت کی پیچیدہ صورتحال ے جنوبی ایشیائ کے خطے میں کافی ہلچل مچائے رکھی۔ بھارت کے قریب ترین اتحادی اور ہمسائے بھی چین کے منصوبوں میں شامل ہو رہے ہیں افغانستان کے بدلتے رویے میں تبدیلی پاکستان کے لئے ایک مثبت اشارہ ہے۔

یران کی چاہ بہار اور پاکستان کی گوادر ان منصوبوں میں معاشی مرکز کی حیثیت رکھتی ہیں باہمی تعاون کے ان منصوبوں سے ایران اور پاکستان کے تعلقا ت میں اور ذیادہ مظبوطی آئی ہے۔چینی اسر رسوخ کا جادو پوری دنیا پر سر چڑھ کر بول رہا ہے جہاں جہاں سے یہ منصوبے گزر رہے ہیں وہاں وہاں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آرہے ہیں اسی طرح سیاحت کے شعبے میں پہلے سے ذیادہ ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے انڈسٹریل پارک کا قیام عمل میں لانے سے صنعت کے شعبے کو فروغ ملے گا۔ پسماندہ اور تباہ حال ملکوں کی تقدیر بدل رہی ہے افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے 2001کے بعد امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی جہاں زندگی کے آثار تقریبا ختم ہو چکے تھے وہاں بھی چین کی حکومت نے تعمیر اور بحالی کے منصوبوں کا آغاز کیا اب افغانستان بی آر آئی اور سی پیک میں شامل ہو رہا ہے۔ گوادر سے قندھار جانے والی ریلوے لائن سے علاقائی تجارتاور آمدرفت کو فروغ ملے۔ افغانستان کی شمولیت سے دنیا کو ایک مثبت پیغام جائے گا کہ کچھ نام نہاد طاقتیں ملکوں کو برباد کرتی ہیں اور کچھ بڑی طاقتیں جیسے چین ان کی بحالی و تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
مختصر یہ کہ یہ انقلابی منصوبے صیحح معنوں میں چین کے ارادوں کی ترجمانی کرتے ہیں کہ چین ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ پسماندہ ممالک کو بھی ان منصوبوں میں شامل کر رہا ہے جو کہ ایک خوش آئن بات ہے۔ چین کا دوسرا اہم منصوبہ سی پیک ہے جو کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے ہمسایہ ممالک کی سی پیک میں شمولیت سے پاکستان اور چین کے تعلقات خطے کے باقی ممالک سے اور ذیادہ مظبوط ہونگے۔ گوادر میں کھیلوں کا بین الاقوامی میلہ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں پینتالیس ممالک کے لگ بگ چار سو کے قریب کھلاڑی ا س میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ چینی ماہرین پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں جس سے غریب کسان کو فائدہ ملے گا۔ دونوں ملک معاشی تجارتی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کی دفاعی ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں۔ حالیہ شاہ محمود قریشی کا چین کا دورہ بھی انہی منصوبوں کے لحاظ سے بہت ذیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ چینی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان دوسری اہم بات چیت ہوئی۔ چین اور پاکستان کی دوستی لین دین کی بنیاد پر قائم نہیں بلکہ ان کی ایک مستحکم بنیاد ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ملکوں کی قسمت ایک دوسرے سے منسلک ہے چین اور پاکستان چاروں موسموں کے دوست ہیں۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں چین اور پاکستان دونوں ملکوں کے تعلقات میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ دوستی آزمائش میں ہمیشہ پوری اتری ہے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے پاکستان چین کے تمام قلیدی مفادات سے اور اہم تحفظات کی حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر مستقبل میں تعاون کے نظریات کو مستحکم کرنے اور ایک دوسرے کی مد د کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چینی سفیر برائے پاکستان یائو جنگ نے کہا پاکستان علاقائی اتحاد اور تجارت کو مزید فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اسی لیے بین الاقوامی تعلقات میں پاک چین دوستی کی مثال نہیں ملتی۔ ہمالیہ سے اونچی سمندر سے گہری پاک چین تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here