سمیرہ عزیز کی عزت کرو

افتخار چودھری


بھائی جان اگر عزت نہیں کر سکتے تو بے توقیری تو نہ کرو۔
پردیس میں اگر کوئی وہاں کا مقامی فرد آپ کی آواز بنے تو اس آواز کو سہارا دیجیئے ہماری کون سنتا ہے میں نے اپنے دوست جو اب خیر سے صدر پاکستان ہیں انہیں مشورہ دیا تھا کہ اسی صدارتی تمغہ دیجئے آپ کے آفس نے بہت سی خواتین کو نوازا اسے بھی دیجئے یہ کوئل پاکستان کے لئے کوکتی ہے لیکن ہوا کیا اس اڑتی چڑیا کے پر کاٹنے کی کوشش بھی کی تو ہم نے ،ہم ویسے تو ٹریں مارتے رہتے ہیں لیکن جب یہ ریکارڈ ہو کر لوگوں کے سامنے آتی ہیں تو یقین کیجئے زمین پھٹنے کی دعا کی جاتی ہے شاہد نعیم کا ایک ویڈیو کلپ میرے تک بھی پہنچا ہے کالمسٹ گروپ جس کو میں کئی سالوں سے مینج کر رہا ہوں جس میں پاکستان کے نامور صحافی اپنے کالم بھیجتے ہیں وہاں سمیرہ نے ایک کلپ بھیجا ہے مجھے سچ پوچھئے اپنی اس چھوٹی بہن کے بارے میں ایک بزرگ کہنہ مشق صحافی کے الفاظ سن کر دکھ ہوا۔اس کا علاج کیا ہے وہ ہے معافی جو شاہد نعیم اور اس کے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو مانگ لینی چاہئے پوری پاکستانی کمیونٹی افسردہ ہے جدہ سے کالیں آئی ہیں۔میں اوورسیز پاکستانیوں کی معاون جس نے پاکستان کا نام روشن کیا جو اب سعودی ہے لیکن اس کا باپ جنگ ستمبر کا غازی ہے اس کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔
سچ پوچھیں مجھے دلی دکھ ہوا کہ ہم بعض اوقات اپنی زبان سے وہ زخم لگا جاتے ہیں جن کا بھرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔جدہ میں مقیم میرے ایک اچھے دوست شاہد نعیم جن سے میں توقع نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس قدر لچر گفتگو کریں گے وہ کر گئے۔میرا اپنا خیال ہے کہ عملی زندگی میں اس طرح کی بے ہودگیاں کرتے رہتے ہیں لیکن خواتین کے بارے میں تو لچر پن کم ہی سامنے آتا ہے۔میں نے دوسال پہلے ایک کالم لکھا اسے دیکھئے کہ یہ وہی سمیرہ ہے جس کے بارے میں شاہد نعیم نمائیندہ جنگ اور جیو نے گندے الفاظ کہے۔

دبلی پتلی دراز قد خوش شکل سمیرہ عزیز ایک سعودی لڑکی ہی نہیں پاکستان کے ایک غازی کی بیٹی ہے جس نے 1965کی جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دئے عورت کے لئے میرے پاس کچھ خاص نام ہیں ماں بہن بیٹی اس دنیا میں اب میری ماں جیسی کوئی نہیں اس لئے کہ میں خود تریسٹھ برس کا ہوں عموما کہتا ہوں میں وہ واحد لیڈر ہوں جو باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتا ہوں ۔غازی کی بیٹی اپنے باپ جیسی دلیر ہے اسے آج بھی فخر ہے کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہے عزیز الرحمان نیوی آفیسر تھے انہیں حکم ملا کہ موت کا سفر ہے مشن زندگی سے ہاتھ دھونے کے مترادف تھا لین اردو سپیکنگ فیملی سے تعلق رکھنے والے اس افسر نے پاکستان کے لئے موت کے مشن کو اپنایا لیکن بفضل اللہ وہ بچ گئے وہ پاک نیوی کا مان تھے یہاں سعودی عرب آ گئے یہیں 1976میں سمیرہ مکہ مکرمہ کی پاک سر زمین پر پیدا ہوئیں۔پاکستان کی یہ بیٹی کراچی میں تعلیم حاصل کرتی رہیں اور یہاں سے جا کر جامعہ کراچی میں امتحان دیتی رہیں۔ایک وقت آیا سمیرہ اور میں ایک ہی اخبار کے لئے کام کرتے تھے مرحوم اردو نیوز کے اردو میگزین کاپورٹر تھا جبکہ سمیرہ جو اس وقت سعودی ہو چکی تھیں وہ اس پرچے کی کل فی کل تھیں۔اچھا وقت گزرا میں پاکستان چلا گیا اور سمیرہ عزیز کو سعودی نیشنیلٹی مل گئی۔وہ پاکستان کئی بار گئیں لیکن مجھ سے ایک ہی بار ملاقات ہوئی سمیرہ اور افضل بٹ کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا جہاں اور کھل کر باتیں ہوئیں۔اس بہادر خاتون کے قصے لکھنے کے لئے کالم نہیں کتاب چاہئے۔لیکن میری کوشش ہو گی کہ اس بنت حر سے جڑی باتیں لکھ دوں میرا اس بار سعودی عرب کا دورہ ایک لحاظ سے منفرد تھا کہ میں نے سعودی کمیونٹی میں داخلہ کیا پالیسی ساز لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور یہ بند دروازہ سمیرہ عزیز نے کھولا برادر ملک محی الدین میرے اس وقت کے دوست ہیں جب نہ تو پی ٹی آئی تھی اور نہ ہی نون لیگ۔میں وزٹ ویزے پر ہوں مجھے وہ ہر جگہ لے کر گئے سخت گرمی انتہائی شاندار فورڈ جیپ لیکن اے سی سے محروم ،اس کے باوجود ملک صاحب نے کافی وقت دیا۔سمیرہ کا انٹرویو کیا میں نے ان سے پوچھا ایک منحنی سی خوبصورت دوشیزہ پردے کے پیچھے سے سعودی معاشرے میں کیسے اٹھی یقین کیجئے میں تو ویسے پہلے سے ہی جانتا تھا کہ سعودی خواتین بزنس جانتی ہیں مجھے اپنی ماں کا خیال آیا ماں خدیجہ جو شام کے سفر کے لئے سامان بھیجا کرتی تھیں عرب خواتین میں کاروباری شخصیات پاکستان سے زیادہ ہیں۔چیمبر آف کامرس کی رجسٹریشن سے انداز لگا لیں۔سمیرہ نے مجھے سعودی معاشرے کے ان پہلوﺅں سے بھی آگاہ کیا جن سے آشنائی نہ تھی۔اس بار حسان شوربجی سے ملاقات ہوئی وہ سمیرہ کے پی آر مینجر ہیں ایک ایسا شخص جسے ملیں تو آپ کا جی بھی چاہے کہ اس کا ماتھا چومیں ہر مسئلے کا حل حسان کے پاس ہے ۔ہمارے ایک بھائی ہوتے تھے بھائی جبار جنہیں ہم کہا کرتے تھے مشکل میں ہم نے تجھ کو پکارا بھائیا جبارا بھائیا جبارا ہر دم مسکراتا مساح گوجری کا بھائی اب دنیا میں نہیں ہے یہ بھائی جبار ثابت ہوئے ۔اس شہر دلفریب کی ایک شخصیت جس کا نام سردار رحمت خان تھا اس نے دنیا چھوڑنے میں جلدی کی اس کی یاد میں جب ایک تقریب کا انعقاد کیا تو سوچا اس کے ساتھ ساتھ وہ کام بھی کر جاﺅں جو کسی نے نہ کیا ہو ایک دوسری تقریب بھی اسی دن رکھ دی جو سعودی صحافیوں کے اعاز میں تھی جس میں سعودی پالیسی ساز بلائے یہ ایسی تقریب تھی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ گزشتہ چالیس سالوں میں ایسی تقریب اس شہر میں نہیں ہوئی جس میں جنرل عشقی جنرل جہنی جنرل حارثی کے علاوہ سابق سفراءاور میدان ثقافت کے مایہ ناز جرنیل سیوفی بھی آئے سعودی صحافی بھی بھرپور انداز میں شریک ہوئے سمیرہ عزیز سچ پوچھیں رونق محفل تھیں استاد حبیب العلاوی جو سعودی عرب میں اس وقت بڑے پائے کا شاعر ہیں انہوں نے جو قصیدے سنائے دل عش عش کر اٹھا کلام پاک سنایا میرے پیارے دوست قاری آصف نے ان کے ساتھ برادر انجینئر علیم بھی تھے جنہوں نے اقبال کی ترجمانی کی بہجت نجمی چھائے رہے ملک محی الدین اور چودھری اکرم گجر کا خطاب بھی والہانہ تھا۔اللہ نے عربی بولنے کی مہارت دے رکھی ہے ۔عرب حیران تھے کہ پاکستانی سیاست کا ایک متحرک شخص ہمارا اپنا ہی ہے جو اتنی اچھی عربی بولتا ہے قارئین ہماری سب سے بڑی بد قسمتی ہے کہ ایک اچھا مسلمان اور اسلام سے پیار کرنے والا ہونے کے باوجود ہم قران کی زبان نہیں سیکھتے یہاں اس دن محفل میں ایسے لوگ بھی تھے جو چار دہائیوں سے اس ملک میں موجود تھے اور عربی سے نا آشناءتھے لکھ کے رکھ لیجئے جب تک آپ عربی سمجھنے والوں کو عرب ممالک میں نہیں بھیجیں گے آپ سمجھئے گونگے بہرے ہیں۔آپ حیران ہوں گے چائینہ کا قونصل جنرل عربی بولتا ہے ہمارے بہت اچھے ہوں گے لفظ نہیں آتا اس محفل میں پاکستانی شعراءکا کلام بھی سنوایا گیا نعیم بازید پوری یہاں سے چالیس سال بعد جا رہے تھے ان کے کلام کا ترجمہ مجھے کرنا پڑا۔سمیرہ عزیز یہاں بھی اپنی ایک خوبصورت غزل سنا گئیں ۔مجھے اس خاتون کے بارے میں بہت کچھ کہنا ہے آج مجھے جان کر دلی دکھ ہوا کہ پاکستان کی اس بیٹی کے بارے میں چند لوگوں نے منفی پراپوگینڈا کیا وہ دکھی اس بات پر ہے کہ میں اب سعودی شہری ہوں پاکستان کے لئے نرم گوشہ ہی نہیں سخت جذبات رکھتی ہوں ان دشمنوں کے بارے میں جو کھاتے پاکستان کا ہیں اور اس کو برا کہتے ہیں۔جی قارئین ہیں ایسے لوگ جو صحافت کے نام پر ایک داغ ہیں لوگوں کو بدنام کرتے ہیں۔بد گمان کرتے ہیں۔کسی کے کان میں اگر یہ بھی کہہ دیا جائے کہ فلاں نے آپ کے بارے میں بات پھیلائی ہے تو ضرور بد گمانی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے گندے لوگ دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور یہاں بھی موجود ہیں جو خود تو چار عشروں میں کچھ کر نہیں سکے البتہ دوسروں کے راستے میں کانٹے بچھاتے نظر آتے ہیں۔سمیرہ پر ان گھدوںنے بھی جپٹنے کی کوشش کی مگر ایک ایک ہی وارننگ سے یہ سنپولئے اور زلف تراش بالشتئے چپ ہو کر رہ گئے۔
سمیرہ کی شادی اپنی فیملی میں ہی ہوئی جو مکہ مکرمہ کے معروف سکندر خاندان سے ہیں جو مطوف کا کام کرتے ہیں۔زاہر سکندر دراز قد سعودی دانشور ایک نئے جذبے کے ساتھ ایک نئے آئیڈیے کو لے کر نکلا ہے اس نے ٹھانی ہے کہ وہ عرب نوجوانوں کو عمران خان کے بارے میں آگاہ کرے عربی میں لکھی جانے والی اس کتاب میں معاونت کروں گا،
اس خوش شکل عورت نے سمیرہ عزیز گروپ کے نام سے ایک کمپنی کھول رکھی ہے جو چین سے اشیاءمنگوا کر یہاں مارکیٹ کرتی ہے۔ایک اور بات بتاﺅں سمیرہ فرمان علی خان کے نام سے ایک فلم بنانے جا رہی ہے یہ سوات کا وہ پشتون ہے جس نے 2010کے سیلاب میں سولہ سعودیوں کی جان بچائی تھی اور سترویں کو بچاتے ہوئے خود شہید ہو گیا تھا جدہ کے اسی محلے کی شارع فرمان علی خان پاک سعودی تعلقات کی گواہی دے رہی ہے اس روز عرب شیوخ نے اسی جذبے کا اظہار کیا تھا جنرل (ر) انور العشقی کا کہنا تھا کہ پاکستان امت مسلمہ کا سرخیل ہے اس کی فوج جذبہ ءجہاد پر کھڑی ہے اور تو اور یونٹوں کے نام بھی صحابہ پر ہیں۔سلام جنرل عشقی آپ کے پیار اور آپ کی محبت کا شکریہ کل فون کیا اور کہا مہندس اللہ معکم اللہ آپ کے ساتھ ہے فوج اور عمران خان اکٹھے واشنگٹن میں ہیں یہ اچھی بات ہے۔مجھے پورا یقین ہے اس ملاقات جانفزاءکے اہتمام میں پیار کرنے والوں کا بھی ہاتھ ہے۔لوگ تو کہتے ہیں سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر اعلی نے یہ کام کیا ہے۔امن پیار محبت جو سمیرہ نے مجھے پیغام دیا ہے اس کی خوشبو واشنگٹن میں محسوس کی جا رہی ہے اسی دیس کے بڑے ہمارے ہمیشہ کام آئے۔سمیرہ کا پروجیکٹ بالی وڈ لے رہا ہے یعنی فرمان علی خان پر بننے والی فلم وہاں ممبئی میں بننے جا رہی ہے اس نے ہیرو کی تلاش شروع کر دی ہے۔سیف علی خان اور عامر خان دل چسپی لے رہے ہیں اسی دوران میں نے بھی پاکستانی عدنان حیدر کی تصویر سامنے رکھ دی جو چینل ۵ کے اینکر اور روزنامہ خبریں کے کالمسٹ رہے ہیں۔سمیرہ کا وہ پسند آئے ہیں میں نے میسینجر پر رابطہ کرا دیا۔مجھے اڑنے دو خلینی اطیر سمیرہ کا ایک اور پروجیکٹ ہے ملتان کی ایک لڑکی جو اس کے گھر کام کرتی ہے اس پر بھی کام ہو رہا ہے۔اس کے دفتر میں جائیں آپ کو حیرت ہو گی کہ پاکستان کی بیٹی سعودی عرب کی نیشنیلٹی ہولڈر کس طرح مقام بنا چکی ہے ملکہ کا تاج اس کمپنی کا سلوگن ہے سمیرہ کا خیال ہے کہ ہر عورت ملکہ ہے۔یقینا ہر عورت ملکہ ہے اور ہر
بیٹی شہزادی۔میں نے دیکھا ہے سعودی عرب کی اس ملکہ کو سعودیوں نے بہت پیار دیا ہے اس نے بڑے بڑے معرکے انجام دئے ہیں جو وہ خود بھی نہیں چاہتی کے وہ شیئر کرے۔اس کی آواز کا دکھ میں محسوس کر رہا ہوں وہ کہہ رہی تھی کہ میں پاکستان کی بیٹی ہوں مگر انڈیا مجھے زیادہ عزت دیتا ہے فرمان علی خان کا پروجیکٹ انڈیا نے کھلے دل سے قبول کیا ہے میں نے محسوس کیا کہ پاکستانی سفارت خانہ قونصلیٹ اسے نظر انداز کر رہا ہے لیکن مجھے راجہ علی اعجاز اور قونصلیٹ میں بیٹھے لوگون سے امید ہے کہ وہ اس کا خیال رکھیں گے۔کاش اس دن قونصلیٹ کے عاطف ڈار اس تقریب میں آتے اور دیکھتے کہ پاکستان کا بیٹا افتخار سعودی عرب کی ملکہ کے ساتھ مل کر کیا رول اداکر گیا ہے جہاں ہر سعودی نے پاک سعودی دوستی زندہ کہا انویسٹمنٹ کرنے کا اعلان کیا۔میری خواہش تھی کہ وہ آتے اور سفیر پاکستان کو ان نئی راہوں کی بابت آگاہ کرتے۔ جو میں نے اس دورے میں چنی ہیں
پاک سعودی دوستی زندہ باد سمیرہ عزیز زندہ باد سمیرہ عزیز کی اڑان کو سلام

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here