بزدار سا ٹھسدار فیصلہ

اسد حسن

مجھےتو لگتا ہے کہ خان صاحب کے کان میں کسی نے کہا۔۔ پنچاب کا وزیراعلیٰ اس شخص کو ہونا چاہیے (جو پی ٹی کا نہ لگتا ہو) جو جنوبی پنجاب کے ایسے علاقے سے ہو جہاں ” جدید شیطانی دور” کے اثرات بجلی، مواصلات، ترقی کی صورت نہ پہنچے ہوں، سورج جب طلوع ہوتا یو تو اس کی پہی کرنیں اس زاویے سے اس گاوں پر پڑتی ہوں جہاں جنات کے قصے عام ہوں۔

امیدوار کا جنم عقرب کی رات ہوا ہو، نام کے اعداد یہ بنتےہوں، اپنا نام ع سے شروع ہوتا ہو تو افضل ہے، عمر کا ہندسہ فلاں ہو۔۔۔۔ اور پھر اس سانچے ہر عثمان بزدار پورے کے پورے اتر آئے ۔ اگر یہ فیصلہ اس بنیاد ہر نہیں تو خان صاحب بتائیں پارٹی اجلاس میں کب مشاورت ہوئی۔۔

پانچ ماہ پہلے پارٹی میں آنے والا برسوں کے ورکرز، پی ٹی آئی فیسز پر کیسے ترجیح پا گیا؟ کیا انتظامی ہنر آشکار ہوئے خان صاحب پر۔۔ ؟ علاقے کی غربت معیار کب ہو سکتا ہے؟ اگر یہ معیار ہے تو اس کے ذمہ دار بزدار جیسےخاندان خود نہیں؟۔۔

یہ ملکی، قومی اور پارٹی کے مفاد کے فیصلے ہیں، جادو ٹونوں یا چلوں کی بنیاد پر نہیں کیے جا سکتے۔۔نہ دولت کی چمک سے مرعوبیت کے تحت۔۔ یاسمین راشد وزیراعلی بنائی جاتیں یا کوئی ورکر فیس۔۔

تو پی ٹی آئی تو کیا نواز لیگ اور پی پی کے ورکرز بھی داد دیتے۔۔اور دباؤ خاندانی وراثتی سیاست پر بڑھ جاتا۔۔خان صاحب پہلے دونوں اوورز برے پھینکے آپ نے۔۔۔۔دعا ہے میچ بہرحال آپ جیت جائیں ۔ مزید ہار کا یارا نہیں۔

اسد حسن وائس آف امریکہ میں صحافی ہے

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here