شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

اصلاح الدین مغل
جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے۔ آج اگر ہم غور کریں تو داخلی سے لیکر خارجی محاذ تک، لسانیت سے لیکر فرقہ واریت تک، دھشتگردی سے لیکر امن و امان کی ابتر صورتحال تک، تعلیم سے لیکر صحت تک اور پانی سے لیکر بے روزگاری تک، غرض کون سا مسئلہ ہے جو ہمیں درپیش نہیں اور ان تمام مسائل کی وجہ سے ہی وطن عزیز کی سالمیت کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔
 
سوال یہ ہے کہ مسائل کا یہ انبار کیسے جمع ہو گیا اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ ہمارے  مقتدرادارے ہر حکومت کے کام میں مداخلت کرتے آئے ہیں اور انکی اسی روش کی وجہ سے آج تک جمہوریت اس ملک میں اپنے قدم نہیں جما سکی۔ یہاں انتخابات کے ذریعے حکومتیں تو بنتی رہیں لیکن اختیار دوسروں کے پاس رہا۔ عوام کی گالیاں سیاستدانوں کو پڑتی رہیں جبکہ حقیقتا وہ اسکے سزاوار نہ تھے۔
 
کیا اس ملک میں کسی ایک سول حکومت کو بھی آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا گیا ؟ جواب میں سوائے مایوسی کے اور کچھ بھی نہیں ملے گا۔ جو کھیل پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کے وقت سے شروع ہوا وہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد سیاستدانوں نے1956 میں ملک کا پہلا آئین ترتیب دیا جو صرف دو سال بعد مارشل لاء کے ساتھ ہی وفات پا گیا۔ ۱۳ سالہ مارشل لاء میں ملک و قوم کی بہتری کا کوئی کام تو کیا ہونا تھا الٹا ملک دو لخت ہو گیا۔
 
ذوالفقار علی بھٹو نے عنان حکومت سنبھالی تو ملک حقیقتا شدید بحران کا شکار تھا۔ ملک کی بقا پر سوالات اٹھائے جارہے تھے۔ ایک طرف ہمارے ۹۰ ہزار قیدی بھارت کی قید میں تھے تو دوسری طرف وطن عزیز کا ۱۵۰۰۰ مربع کیلو میٹر رقبہ ہمارے دشمن کے قبضہ میں تھا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا جس نے اپنی فراست سے ان گھبیر مسائل کو گفت و شنید سے حل کیا۔ بھٹو نے ہی پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا جو آج بھی اس ملک کی وحدت کی علامت ہے۔ بھٹو ہی تھا جس نے پاکستان کے ایٹمی منصوبے کی بنیاد رکھی۔ عرب ممالک سے بہترین تعلقات قائم کئے اور وہاں بیروزگاروں کی نوکری کا بندوبست کیا۔ ان سب کارناموں کے باوجود ہم نے بھٹو کیساتھ کیا کیا ؟
 
یہ بات صرف بھٹو تک محدود نہیں ہے۔ ایٹمی منصوبے کے تینوں کرداروں کیساتھ ہم نے کیا کیا ؟ بھٹو کو نا کردہ گناہ میں پھانسی چڑھا دیا، ایٹمی پاکستان کے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دنیا کے سامنے رسوا کیا اور ایک ایسے شخص کو گھر بٹھا دیا گیا جو پاکستان کیلئے مزید کئی کارنامے سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ بھارت کے ۵ ایٹمی دھماکوں کا جواب 6 دھماکوں سے دینے والا وزیر اعظم کیا اسی سلوک کا مستحق تھا جو اس سے روا رکھا گیا ؟
 
عوام کا جمہوریت پر سے اعتبار ختم کرنے کیلئے ایک خاص منصوبے کے تحت انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سارے سیاستدان کرپٹ ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آج اگر ہمیں پانی کی کمی کا سامنا ہے تو 90 کی  دھائی میں بھارت کو تین دریا کسی سیاستدان نے بیچے تھے ؟ کیا بنگالی بھائیوں کو پاکستان سے متنفر کرنے میں کسی سیاستدان کا ہاتھ تھا ؟ سیاچین اور کارگل پر کسی سیاستدان کی غفلت کی وجہ سے بھارت نے قبضہ کیا ؟ اسامہ بن لادن کی سکیوریٹی کسی سویلین کی ذمہ داری تھی ؟ جی ایچ کیو، نیول بیس، کامرہ ائر بیس، اے پی ایس اور دیگر محکموں کی سیکیوریٹی کیا سول حکومت کی ذمہ داری تھی ؟
 
شہروں میں دھشتگردوں اور سرحدوں پر دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے ہمارے ہی بچے ہیں اور انکی شہادت پر ہمارا دل بھی دکھی ہوتا ہے۔ ان جوانوں کے لواحقین کے غم میں پوری قوم شریک ہے لیکن خدارا جس ملک و قوم  نے آپ کو یہ عزت اور طاقت دی ہے اسکا احساس کریں۔ حکومتیں بنانے اور گرانے کا کام اب بند ہو جانا چاہیئے ہے۔ قائد اعظم نے کہا عوامی رائے کبھی غلط نہیں ہوتی۔ اپنی حکومت منتخب کرنے اور ختم کرنے کا کام عوام کی مرضی پر چھوڑ دیں اس سے آپکی عزت میں اضافہ ہی ہوگا

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here