ہم نہ ہونگے تو ہمیں یاد کریگی دنیا

اصلاح الدین مغل
سمجھ میں نہیں آتا ہمیں کیا ہو گیا ہے۔ کیا ہم اپنے مذہب، تہذیب اور روایات سے اتنے باغی ہوگئے ہیں کہ اپنے مخالف کو تکلیف میں دیکھ کر اسکا مضحکہ اڑانا شروع کر دیں۔ کیا ہم اللہ کے خوف سے بالکل ازاد ہو گئے ہیں۔ بیماری اور موت سے کس کو مفر ہے لیکن ہم اسکا بھی چسکا لیتے ہیں۔ کیا ہم ایک بیمار معاشرے کی تصویر نہیں  بنے ہوئے ہیں۔
 
 
لفافہ پکڑ اینکر حضرات سے کوئی گلہ کرنا عبث ہے کیونکہ ان غریبوں تو اپنی روزی روٹی ‘حلال’ کرنی ہوتی ہے لیکن اعتزاز احسن جیسے کہنہ مشق سیاستدان نے محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کے بارے میں جو الفاظ استعمال کئے وہ انتہائی قابل مذمت ہیں۔ بجا کہ کل انہوں نے اپنے رویہ پر معذرت کرلی لیکن کیا اب وہ گھاوؑ بھر پائے گا جو انکے الفاظ سے شریف فیملی کو لگا ہے۔ کیا یہی اعتزاز احسن نہیں تھے جو اپنی ہی حکومت کے دوران ججز بحالی تحریک میں دو مرتبہ اسلام آباد سے ناکام و نامراد لوٹے لیکن جب نواز شریف کا ہاتھ تھاما تب تحریک کو کامیابی نصیب ہوئی؟ کیا آج وہ نواز شریف کا احسان بھول گئے؟
 
 
یاد کیجیئے ۲۰۰۷ کے انتخابات سے قبل جب بینظیر بھٹو شہید ہو گئی تھیں تو تمام خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نواز شریف سب سے پہلے اسپتال پہنچے تھے جبکہ بابر اعوان اور عبدالرحمن ملک وہاں سے فرار ہوگئے تھے جس کے صلہ میں بعد ازاں انہیں زرداری حکومت میں وزارتوں سے نوازا گیا۔ ۲۰۱۳ کے انتخابات سے قبل جب عمران خان لفٹ سے گر کر زخمی ہو گئے تو نواز شریف نہ صرف انکی عیادت کیلئے اسپتال گئے بلکہ انہوں نے ایک دن کیلئے اپنی الیکشن مہم بھی معطل کردی تھی۔
 
 
ہماری عدالتوں نے جو اپنا مذاق اڑوایا ہے وہ بھی قابل افسوس ہے۔ کلثوم نواز شدید بیماری میں مبتلا تھیں نواز شریف بار بار عدلیہ سے چند دن کا استثنٰی مانگ رہے تھے لیکن عدلیہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ عید کی چھٹیوں میں میاں صاحب اپنی بیٹی مریم کیساتھ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کو لندن پہنچے تو محترمہ کومہ میں جا چکی تھیں۔ عدالت کو بھی فیصلہ سنانے کی جلدی تھی کہ سارے ملک میں یہی ایک کیس تھا جس سے ملک کی تقدیر جڑی ہوئی تھی۔ عدالت اگر چند دن کیلئے فیصلہ موؑخر کر دیتی تو کوئی قیامت نہیں آ جانی تھی لیکن بے حس معاشرے میں انسانی ہمدردی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
 
اب جبکہ محترمہ کلثوم نواز مرحومہ ہو چکیں تو ان تمام لوگوں کے تعزیتی پیغامات ٹی وی اسکرینوں کی زینت بنے ہیں جو کسی نہ کسی حیثیت میں اس المیہ کے ذمہ دار ہیں۔ مانا کہ ‘موت کا ایک دن معین ہے’ لیکن اگر چند دن نواز شریف اور مریم نواز کو محترمہ  کلثوم نواز کیساتھ گزار لینے دیتے تو آج انکے غم کی شدت اس نہج پر نہ ہوتی۔
 
محترمہ کلثوم نواز صرف ایک بیوی اور ماں ہی نہیں تھیں۔ پرویز مشرف کے دور آمریت میں اپنے میاں اور بیٹوں کی نظر بندی کے بعد جس طرح انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو سنبھالا اور تحریک اٹھائی وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنے محسنوں کی کسی نہ کسی طرح تذلیل کی ہے۔  ہمارے معاشرتی رویہ پر تبصرہ کرنے کو یہ شعر ہی کافی ہے؛
 
اب تو بے داد پہ بے داد کرے گی دنیا
ہم نہ ہونگے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here