“سر تواڈی پین دی سری”

وقاص احمد

بیس برس گزرتے ہیں کہ سر نے خبر دی تھی کہ اقتدار کا ہما انجام کار امام کپتان کے سر پر بیٹھے گا اور آخر کار اس قوم کو انکا مسیحا مل جائے گا- یہ پیش گوئی پچیس جولائی کو وقوع پذیر ہو گئی- سر فرماتے ہیں کہ اگر امام زمانہ کپتان مدظلہ علیہ نہ پیدا کیے جاتے تو آج ملک میں کنویں خشک ہو جانے تھے، یہاں تک کہ اپنے حصے میں آیا سمندر بھی خشک ہو جاتا- اس کے علاوہ جو کچھ سر نے کہا، یہاں لکھ کر آپ کا تراہ نہیں نکالنا چاہتا-

ارے یاد آیا کہ سر کا تعارف تو کروایا ہی نہیں آپ سے- سر کا تعلق خطہ پوٹھوہار سے ہے، سر روحانیت کی جس منزل پر فائز ہیں وہاں تک خاتونِ اول کی رسائی بھی نہیں، سر کے کروڑوں کے پیروکار ہیں جن میں بظاہر نظر آنے والے چند درجن ہی ہیں- یہ بھی سلوک کی ایک اعلیٰ منزل ہے کہ آپکے کروڑوں پیروکار ہوں لیکن عوام کو ان میں سے چند ہی دکھائی دیں- ابھی تو سر کے ترکش کا صرف ایک تیر ہی ٹی وی سکرین اور اخبار میں کچھ بول دے تو ملک میں بھونچال آ جاتا ہے، عوام سر کے اس تیر کو خلیفہ کے نام سے جانتی ہے- یہ سر کی کسر نفسی ہے کروڑوں تیروں کو تھام رکھا ہے ورنہ خلیفہ جیسا ایک بھی تیر نکال دیتے تو شاید نوجوانوں کو انکے گناہوں کی سزا واش رومز میں ہی ملنا شروع ہو جاتی-

سر کے معجزات کی بات چل ہی پڑی ہے ایک واقعہ گوش گزار کرتا ہوں – دفتر کا ایک کولیگ سر کا بہت مخالف تھا، ایک دن ہم نے اسے سرگوشی کی کہ سر نے پیشگوئی کی ہے کہ تیرے علاقے سیالکوٹی خواجہ تہس نہس ہو جائے گا، سڑکوں پر بھیک مانگے گا لیکن وہ smol man میرا تمسخر اڑانے لگا پھر چشم فلک نے دیکھا کہ سیالکوٹی نااہل ہوا، ہم نے مٹھائی لی اور دفتر پہنچے، لیکن بقول امام زمانہ کپتان مدظلہ علیہ smol man جب بڑے عہدے پہنچ جائے تو مستقبل کی کیا پہچان رکھ سکتا ہے، مٹھائی ڈکارنے کے باوجود وہ ناہنجار سر کے ہاتھ بیعت ہونے سے انکاری ہو گیا-

میں نے دل میں سوچ لیا کہ یہ smol man اب بہت جلد عتابِ سر کا شکار ہو گا- میں کچھ عرصہ اسی سوچ میں تھا کہ smol man پر عتاب کس شکل میں نازل ہو گا کہ ایک دن وہ دفتر میں چیختا چلاتا داخل مجھے پکار پکار کہنے لگا، جو اس نے سر کے بارے کہا وہ لکھنے سے قبل ٹھہریے، میں زرا کانوں کو ہاتھ لگا لوں، مجھے تو لکھتے ڈر لگ رہا ہے کہیں جل کر خاک نا ہو جاؤں، کہنے لگا “تیرے سر کی پین دی …..،،، سیالکوٹی خواجہ اہل ہو گیا ہے”- مجھے smol man کی بات پر یقین نا آیا، فوری ٹی وی آن کیا آگے ڈان نیوز چل رہا تھا خبر تو اہلیت کی چل رہی تھی فوری چینل اے آر وائی لگایا شاید وہاں کچھ اور خبر ہو لیکن…. خیر یہ ظاہری شکست شاید میرے سر سے روحانی تعلق کی آزمائش تھی، ہمیں بھی یقین تھا سر نے خود اس شخص کو اہل کروایا، شائید سر اس شخص کا غرور آنے والی 25 جولائی کی عوامی عدالت میں توڑنا چاہتے، خیر اب دھاندلی کا تو توڑ نہیں نا سر کے پاس بھی… سمول مین کے بارے مجھے انتظار تھا کب سر اسکو عتاب کا نشانہ بنائیں گے-

امام زمانہ کپتان سر کی پیشگوئی کے مطابق وزارتِ عظمیٰ سنبھال چکے تھے، بیرون مک سے ڈاکٹروں اور پروفیشنلز کی لاکھوں کی تعداد ملکِ خداداد تشریف لا رہی تھی اور ایک کروڑ نوکریوں کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی تھی، کہ ہماری فرم نے ڈاؤن سائزنگ کا اعلان ہو گیا. مجھے اب یقین تھا smol man اب سر کی پین کی شان کی گستاخی کا عتاب بھگتے گا.

ایک صبح ہم دفتر داخل ہوئے ایک کولیگ نے خبر سنائی، سمول مین کو ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی ہے ابھی اسی ہیبت ناک خبر کے صدمے سے دوچار، اپنی ای میل پر کمپنی کی طرف سے ڈاؤن سائزنگ کا شکار افراد میں خود کا نام نمایاں نظر آیا بس بےخودی میں ہم بھی پکار اٹھے “سر تواڈی پین دی سری”.

 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here