امریکی سنڈی اور ناجائز تجاوزات

اصلاح الدین مغل

کچھ عرصہ قبل تک وطن عزیز میں امریکی سنڈی کا بہت چرچا رہا۔ ہمارا کسان اس سندی سے بہت پریشان تھا کیونکہ بیچارے کسان کے شب و روز کی محنت یہ سنڈی خاک میں ملا دیتی تھی۔ کسان اپنی فصل پر دن رات محنت کرتا ہے، اپنا خون پسینہ بہاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف اسکا اور اسکے بچوں کا پیٹ بھرتی ہے بلکہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے پیٹ کی آگ بھی بجھاتی ہے۔ بالآخر بعد از خرابئی بسیار مختلف حکومتوں نے سائینس دانوں کے تعاون سے اس مسئلہ پر قابو با ہی لیا اور کسان نے سکھ کا سانس لیا۔

مریکی سنڈی سے جان چھوٹنے پر کسان تو کسی حد تک مطمئن ہو گیا لیکن قوم کو ایک اور مسئلے نے آ لیا۔ یہ تھا با اثر لوگوں کی آ شیرباد سے زمینوں پر ناجائز قبضوں کا لا منتاہی سلسلہ۔ اس سلسلہ میں ایک اصطلاح ‘چائنہ کٹنگ’ کے نام سے بہت مشہور ہوئی، اس میں لوگ زمینوں پرقبضہ کر کے اس کو پلاٹوں میں تقسیم کر کے بیچ دیتے ہیں۔ دروغ بر گردن رااوی لیکن پاکستان کی بڑی تعمیراتی کمپنی کے روح رواں بھی اس کاروبار میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ ہمارے موجودہ چیف جسٹس صاحب کچھ حوالوں سے تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں لیکن انکے اس حوالے سے احکامات کو عوام نے بڑی حد تک سراہا بھی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا صرف زمینوں پر قبضہ ہی تجاوزات کے ضمن میں آتا ہے یا کسی دوسرے کے اختیارات میں مداخلت بھی ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر ادارہ دوسرے سے شاکی نظر آتا ہے۔ انتظامیہ عدلیہ سے نالاں ہے، عدلیہ حکومتی ادارووں سے ناراض ہے، سیاستدان نیب سے شکوہ کناں ہیں۔ غرض کوئی بھی ادارہ دوسرے سے خوش نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک یہ صورتحال اتنی گھمبیر نہیں تھی لیکن ۲۰۱۶ کے بعد سے اس کھینچا تانی نے اداروں کے کام کرنے کی صلاحیت پر بہت منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔

سیاستدانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر ناجائز ذرائع سے مال بناتے ہیں اور محض الزام کی پاداش میں روز عدالت میں بلا کر انکی تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ابھی تک ثابت کچھ بھِی نہیں ہوا۔ دوسری طرف نطر ڈالیں تو ہمارا ایک ادارہ ایسا بھی ہے جو جہاز سے لیکر بیکری تک چلا رہا ہے۔ ہر شہر کے کم و بیش آدھے حصے پر انکا قبضہ ہے۔ ان کے رہائشی پروجیکٹس میں ایک بڑی آبادی اسی ادارے سے وابستہ لوگوں کی ہے۔ باقی صاحب ثروت لوگ ہیں جنہوں نے اس ادارے کے لوگوں سے پلاٹ یا گھر مہنگے داموں خرید کر وہاں رہائش اختیار کرلی ہے۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ آج تک عدلیہ نے اس ادارے کے کسی کاروبار کے بارے میں جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی اس ادارے سے وابستہ کسی فرد کو عدالت میں طلب کیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی مثال سامنے ہے۔ ان حضرت کی ایمانداری کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انکی لندن اور دبئی میں نہ صرف جائدادیں نکل آئیں بلکہ لاکھوں پونڈ، ڈالر اور درھم انکے اکاوؑٹس میں ہونے کا چرچا زبان زد عام ہے۔ عدالت کو قانون کا مطابق فیصلہ دینا ہوتا ہے اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ کیا عدالت پرویز مشرف کو انکے سابقہ ادارے کے ذریعے طلب نہیں کر سکتی؟

ایک اور ادارہ نیب کا ہے جس کی تجاوزات سے سب پریشان ہیں۔ اس ادارے کو سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے تخلیق کیا گیا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی نیب اسی ادارے کے زیر اثر ہے۔ چیئرمین کس کو بنانا ہے اسکا فیصلہ بھی وہی لوگ کرتے ہیں حکومت سے صرف اعلان کر وایا جاتا ہے۔ کس سیاستدان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے یہ بھی وہی ادارہ طے کرتا ہے، کیس کس جج کے سامنے لگنا ہے وہ بھی انہی کے حکم پر منحصر ہے۔اعلیٰ عدالتیں انکے تابع، احتساب عدالت انکی باندی، میڈیا انکے مکمل قبضہ میں یہاں تک کہ الیکشن کمیشن بھی انکے سامنے دست بستہ۔ آج جو حکومت ہم دیکھ رہے ہیں یہ بھی ق لیگ کی طرح انہی کی تخلیق کردہ ہے لحاظہ انکی تابع فرمان ہے۔

طاقت سے اگر ملک چلا کرتے تو سوویت یونین آج بھی قائم و دائم ہوتا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا۔ سیانے کہتے ہیں کہ یہ سب بھی امریکی سنڈی کی ہی قسم ہے۔ اس سنڈی نے ہمارے میڈیا، الیکشن کمیشن، احتساب عدالت، اعلیٰ عدالتوں، حکومت حتیٰ کے ملک کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ شہید طاہر داوڑ کے جنازے پر لگنے والے نعرے یقینا قابل مذمت ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس قسم کے منفی نعرے لگے ہی کیوں؟ وقت آگیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے اسکے اسباب پر غور کریں اور اپنی اناوؑں سے اوپر اٹھ کر محض ملکی مفاد میں فیصلے کریں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here