سانحہ آرمی پبلک سکول اور سانحہ مشرقی پاکستان ایک ساتھ

محمد نثار خان

پاکستانی قومی آج سانحہ آرمی پبلک سکول بنا رہی ہے ، یقینا سانحہ آرمی پبلک سکول پاکستانی قوم کے لیے نا قابل فراموش سانحہ ہے ، اس سانحے نہ صرف سینکڑوں خاندانوں کو اذیت دی بلکہ پوری پاکستانی قوم اس سانحے پر دکھی ہے۔

16 دسمبر 2014 کو تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کیا اور اس حملے میں 144 معصوم بچوں کی جانیں گئیں ، اس سانحے میں کل 156 شہادتیں ہوئیں، اس سانحے کے زخم نہ دھلنے والے ہیں ، جن والدین نے اپنے لخت جگر کھوئے ان کا دکھ کوئی نہیں بانٹ سکتا لیکن ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔

سانحے کو 4 سال بیت گئے لیکن تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی اور نہ بتیا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کہاں تیار ہوئی ، اتنی سخت سکیورٹی ہونے کے باجود ہمارے ادارے اس سانحے کو رونما ہونے سے نہ بچا سکے ، ہماری انٹیلی جنس ایجنسی دنیا کی نمبر ون انٹیلی ایجنسی ہے لیکن اس سانحے کو وہ بھی نہیں روک سکی۔

دوسری جانب 16 دسمبر 1971 کو بھی دنیا پر ایک بڑا سانحہ رونما ہوا جسے ہم سانحہ مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس دن ہم نے اپنا ایک بازو گنوا دیا ، سیاسی چپلقش اور اقتدار کی لالچ نے ملک دو لخت کر دیا ، ہماری ایک لاکھ کے قریب فوج نے ہتھیار ڈالے لیکن آج تک اس سانحے کی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں آئی، آخر کیوں ؟ کب ہم پاکستانی عوام کو حقیقت معلوم ہو گی کوئی بھی بات جس کا تعلق عسکری ادارے سے ہو اس کے حقیقت عوام کو نہیں بتائی جاتی۔

دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور اسلامی ریاست کا شیرازہ بکھر جانا ایک معمولی جرم نہیں جسے بھلا دیا جائے لیکن افسوس کہ نہ صرف ہم اس عظیم سانحہ کو بھول چکے ہیں بلکہ اس سانحہ سے کوئی سبق بھی نہیں سیکھنا چاہتے اور ماضی کی غلطیوں کو اب بھی مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس عظیم سانحہ کے کرداروں کا تعین کرنے والی حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ تک کو دبا دیا گیا اور ذمہ داران میں سے کسی کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔

سانحہ مشرقی پاکستان میں بھی لاکھوں خاندان ایک دوسرے سے بچھر گئے اس کا ذمہ دار کون ہے ، یقینا اقتدار کے لالچی آمر اس سانحے کے ذمہ دار ہیں ، اس کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  نومبر 1971 ء کے آخر میں جب مشرقی بازو کےدہکتے الاؤ ملک کو خاکستر کر رہے تھے تو ایک سینئر بیوروکریٹ یحییٰ کے پاس گیا اور کہا “سر! یوں لگتا ہے کہ مشرقی پاکستان پھسلتا جارہا ہے، ہمیں کچھ نہ کچھ اب ضرور کرنا چاہیے۔” جس پر یحییٰ خان نے کہا “اسے بھول جاؤ، یہ اتنا قیمتی نہیں کہ ہم کالے بنگالیوں سے لڑتے پھریں،پھر سب نے دیکھا کہ 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو کر الگ ملک بن گیا لیکن فوجی آمروں نے سبق نہیں سیکھا۔

سوال یہ ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول ہو یا سانحہ مشرقی پاکستان یا سانحہ اوجڑی کیمپ؟ تحقیقاتی رپورٹ کب سامنے آئے گی۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here