نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

اصلاح الدین مغل

گو کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پچھلے
سال ہی بغض نواز میں کہہ چکے تھے کہ وہ آئندہ مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں بننے دینگے اور پھر انہوں نے بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت گرانے میں ‘شریکوں’ کا بھرپور ساتھ دیا۔ اب بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان کی جانب سے اقرار کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت گرا کر ہم نے بہت بڑی
غلطی کی تھی۔
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس ذود پشیماں کا پشیماں ہو نا
کہتے ہیں اشتعال عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور یہی جناب آصف علی  زرداری صاحب کیساتھ ہوا۔ زرداری صاحب کیلئے مشہور ہے کہ وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں لیکن مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی مخالفت میں وہ اتنے آگے چلے گئے کہ آنے والے طوفان کا اندازہ نہ کر سکے۔ زرداری صاحب نے نہ صرف بلوچستان حکومت گرانے میں کردار ادا کیا بلکہ طے شدہ معاہدے سے بھی انحراف کیا اور اسکے باوجود کہ ن لیگ نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے سید خورشید شاہ کو ووٹ دیا لیکن وزیر اعظم اور صدر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو ووٹ نہیں دیا۔ زرداری صاحب کو امید تھی کہ ان ‘خدمات’  کے طفیل انکی اینٹ سے اینٹ بجانے والی بات بھلا دی جائیگی لیکن یہاں بھی وہ دھوکہ کھا گئے؛
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
بلوچستان کے اسمبلی توڑ کر ‘شریکوں’ نے اپنی ‘کٹھ پتلی’ حکومت قائم کر کے زرداری صاحب کے ہی تعاون سے سینیٹ انتخابات میں اپنا چیئرمین بھی منتخب کر وا لیا جبکہ ن لیگ زضا ربانی کے نام پر ووٹ دینے کو تیار تھی۔ اب زرداری صاحب سوچتے تو ہونگے کہ کس قدر گھاٹے کا سودا کیا۔ ‘شریکوں’ نے ان سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا اب انہیں زرداری صاحب کی ضرورت نہیں رہی لہذا اب انکے خلاف بھی ریفرینس فائل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دیکھتے ہیں اب زرداری صاحب اپنی ‘پٹاری’ میں سے کیا نکالتے ہیں۔ 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here