حکومت کیا اب سانس لینے پے بھی ٹیکس لگانا چاہتی ہے؟

عرفان کیانی

ہم ہیں کہ آئے روز کسی نہ کسی ناگہانی آفت کا شکار بنتے چلے آ رہے ہیں یا بنائےجا رہے ہیں،بات ایک ہی ہے چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر ،کٹنا ہر دوصورت میں خربوزے کے نصیب میں ہے ۔

کچھ ایسی ہی حالت اس نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہے ۔ جس میں 20 کروڑ سے زائد ہجوم عرف عام میں جس کو عوام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہےاسے کاٹا جا رہا ہے اور یہ کٹ رہی ہے کبھی اسلام کے نام پر تو کبھی جمہوریت کے بقا کے نام پر۔

کبھی کوئی طالح آزما میرے پیارے ہم وطنوں کا نعرہ بلند کرتا میدان کارزار میں اترتا ہے اور چند دنوں میں قوم کی بگڑی صورت کو درست کرنے کا عندیہ دیتا ہے اور یہ ہجوم جو پہلے والے آقاوں سے نکو نک ہوا ہوتا ہے فل فور امید کے نیزے پے سوار ہو کر لبیک کہتا ہے مگر پھر کیا وہی نیزہ اس عوام کی پشت میں پیوست کر دیا جاتا ہے اور تب تک ایسا ہی رہتا ہے جب تک کوئی نیا مسیحا نہ آ جائے ۔

ملک عزیز کو بنے کم و بیش 70 سال سے زاہد ہی عر صہ ہو چکا ہے مگر شاہد ہی کوئی ایسا دور گزرا ہو جب کسی نے اس دھرتی کے لیے کچھ سوچا ہو۔

ان 70 سالوں میں کوئی ایک بھی مستحکم ادارہ سوائے فوج کے ہم اس ملک کو نہ دے سکے اور فوج نے بھی اپنی اس تنظیمی خوبی کو بہت احسن طریقے استعمال میں لایا اور ان ستر سالوں میں سے نصف سے زاہد سال اس ملک پے حکومت کی اور جم کر کی،اور جب کبھی کسی مصلحت یا مجبوری کے تحت اگر کبھی پیچھے ہٹنا بھی پڑا تواس عوام کو جمہوریت کا لالی پاپ دے کر بیک پے رہتے ہوئے بھی دست شفقت کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی پے رکھا ضرور۔

اور یوں ایک ایسی سوچ اور احتساب سے بالا ہونے کا زہر بڑے غیر محسوس طریقے سے قوم کی رگوں میں انجیکٹ کیا گیا کہ اب اس مقدس گائے کو چھونا تو دور کی بات اس پر بات کرنا بھی قابل تعزیر ٹھراااور ایک بیانیہ پیدا کیا گیا ۔

“فوج تو ہوگی، اپنی نہیں تو دشمن کی۔ اگر اپنی فوج پر تنقید کروگے تو دشمن فوج غالب آجائےگی۔ ہٹلر کہتا تھا کہ جس قوم کو تباہ کرنا ہو اس کو اس کی فوج کے خلاف کر دو۔”یہ وہ جملہ ہے جس سے ہر بحث کو جزباتی رنگ دیا جاتا ہے اور جب آپ اُس فوج کی پالسیوں کی اخلاقی اور قانونی دلیل طلب کر لیں توعجیب و غریب احمقانہ مفروضے سننے کو ملتے ہیں ۔

ہمیں اس شعور سے جان بوجھ کر دور رکھا گیا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ تنقید کا ہدف فوج کی پالسیاں ہوتی ہیں، فوج بحثیت ِ ادارہ اور اُس کی موجودگی کی اہمیت ہدفِ تنقید نہیں ہوتی۔

یعنی تنقید کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فوج اپنی پالسیوں کی اصلاح کرے یہ مقصد نہیں ہوتا کے سرے سے فوج ہی نہ ہواور اِس بحث کا احاطہ و اسلوب قانونی و سیاسی ہوتا ہے نہ کہ جزباتی اورجزباتیات سے جڑی یہ فکر فوج کو گویا احتساب سے مستثنی خیال کرتی ہے جس کے باعث ادارہ ادارہ نہیں رہتا ‘مقدس گائے’ بن جاتا ہے۔ جس کی غلطی بھی بھلائی لگنے لگتی ہے۔

اس مفلوج فکر کا لازم نتیجہ یہ ہے کہ ادارہ قانون سے برتر ہو جاتا ہے اور پھر ریاست کے ہر کام میں ٹانگ اڑانے لگتا ہے اور یوں ریاست کے اندر ایک ریاست کو وجود جنم لیتا ہے ۔

مگر اب کی بار اس کچلی عوام کیساتھ ایک نئے وژن کے ساتھ حملہ کیا گیا ہے
پہلے اس سوئی ہوئی قوم کو خواب غفلت سے جنجھوڑا گیا اس کو بتایا گیا کہ حق کیا ہوتا ہے اور حقوق کیا ہوتے ہیں اسے بتایا گیا کہ تم ہجوم نہیں بیس کروڑ جیتے جاگتے سانس لیتے انسان ہو اپنے آپ کو محسوس کرو اور یہ باز گزشت ، یہ تنویمی عمل لگاتار پانچ سال جاری رہا جس سے ہر پاکستانی یہ سمجھنے پے مجبور ہو گیا کہ اب وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے اس کے بھی ارمان ہیں وہ بھی اپنی مرضی سے زندگی بسر کر سکتا ہے اور اپنی طبعی موت مر سکتا ہے اور یہ کہ وہ آج سے پہلے ظالموں کے شکنجے میں پھنسا ہوا تھااور پھر اس تنویمی عمل کے مسیحا نے ایک آواز لگائی کہ اگر اس ظلم سے نجات چاہتے ہو تو اٹھو اور اس پوسیدہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ دو اور جو تمارا خون چوس رہے ہیں ان کو نشان عبرت بنا ڈالو۔اور پھر تاریخ نے یہ معجزہ بھی دیکھا کہ اس تن مردہ میں کیسے جان آئی اور پھر کیسے کیسے برج ہل گئے کہ جیسے صحفہ ہستی پے کبھی نام ہی ہو ۔

“تبدیلی ” جی ہاں یہ ہی وہ مسحور کن سرگوشی تھی جو نعرہ سے عمل میں جب ڈھلی تو بتائے گی ظالموں کا تخت سے تختہ ہو گیا اور بل آخر تبدیلی آگئی،مگر یہ کیا ابھی تو آنکھ اچھے سے کھلی بھی نہیں تھی کہآنے والی تبدیلی کے ناگ نے لانے والی اس عوام کو ہی ڈسنا شروع کر دیا ۔

اسے تو بتایا گیا تھا تبدیلی کا دریا پار کرتے ہی جو نیا پاکستان ملے گا اس میں دودھ اور شہد کی نہرہیں بہتی ہوں گیں ۔

مگر یہ کیا تبدیلی سرکار نے آتے ہی جو نعرا بلند کیا وہ یہ نکلا کہ جناب دودھ اور شہد تو پہلے والی ظالم حکومتیں کھا گئیں اور باقی بچھی خالی نہر!تواس میں اب اس عوام کو دفنانے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔

اب اس ستم کو کیا نام دیں کہ اس قسمت کی مارہی عوام کو اس طرح سے پیسا جاتا ہے کہ پہلے والا ظالم سے ظالم حکمران بھی فرشتہ صفت لگتا ہے اور پھرہر ٹرک کے پیچھے یہ لکھا نظر آتا ہے

” تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد”۔

بطور مسلمان ہمہ وقت ہمارے اندر یہ لازمی خواہش دفن ہوتی ہے کہ جس جگہ سے یہ دین ہم تک پہنچا اور ہستی کے زریعے پہنچا اس جگہ اس مقدس ہستی کے مقام کی زیارت لازمی کی جائے اور پھر جب یہ زیارت ہمارے دین میں فرض بھی قرار دی گئی ہو تو ذوق و شوق کا عالم کچھ اور ہی بڑھ جاتا ہے چاہے اس کو مشروط کر دیا گیا ہو کہ اگر طاقت رکھتے ہو تو تب ہی یہ زیارت کرو ورنہ نہ کرو مگر کون ایسا مسلمان ہو گا جو اس چھوٹ کے باوجود اس زیارت کی خواہش سے دستبردار ہو جاتا ہے بلاشبہ چھوٹ آسانی کے لیے دی گئی مگر وہ پھر بھی اس کوشش میں لگا رہتا ہے اور زندگی بھر کچھ نہ کچھ پس انداز کرتا رہتا ہے اس مقدس سفر زیارت کے لیے۔

مگر جہاں اور زیادتیاں دیکھنے کو آج کل مل رہی ہیں وہاں تازہ ترین وار تبدیلی سرکار نے اس مقدس زیارت کو اک غریب کی پہنچ سے دور کر کے کیا ہے،کوئی تو ڈھنگ کا کام کر دوامیر کو تو پہلے ہی کوی فکر نہیں تھی ۔

تم نے جب غریب کےمنہ سے نوالا چھینا تو اس نے رو دھو کے برداشت کیا مگر اب کی بار جو چوٹ دی اس سے اس غریب کے روح کا سلسلہ جڑا ہے جس کو تم توڑنے جا رہے ہو ۔

ظلم کی حد ہوتی ہے ایک غریب آدمی 4 لاکھ کہاں سے لائے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ 40 روزہ کونسا حج ہوتا ہے مسئلے اور بیغیرتیاں ان کی اپنی ہوتی ہیں جس کا خراج یہ عوام کا خون نچوڑ کے حاصل کرتے ہیں ابھی چند دن پہلے ہی ایک دوست نے حج کے حوالے سے آنے والے اخراجات کا ایک تخمینہ شیر کیا تھا۔ اپ بھی پڑھیں اور ان پے لعنت بیشمار کریں کہ انڈیا،افغانستان،بنگلہ دیش تک کے اخراجات ہم سے بہت کم ہیں ۔

سعودی عرب میں حج پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات۔۔۔

جدہ یا مدینہ کا لاہور سے ریٹرن ٹکٹ 1000 ریال تک مل سکتا ہے.
مدینہ میں سوریال اور مکہ میں 250 ریال تک فی دن مناسب ہوٹل مل سکتا ہے. پندرہ دن کے حساب سے 250*15+100*15= 5250 ریال
ایک فرد کا پندرہ دن کا کھانا پینا بہت اچھے معیار کا زیادہ سے زیادہ 400-500 ریال.

مکہ سے مدینہ اچھے معیار کی وین کا کرایہ 60 ریال، واپسی ملاکر 120 ریال، ایئرپورٹ سے ہوٹل آنا جانا بھی شامل کر لیں تو زیادہ سے زیادہ 300-400 ریال.

سب ملا کر زیادہ سے زیادہ 7150 ریال تک خرچہ ہے. مکہ میں منی و عرفات وغیرہ کی بسیں ویسے تو مفت چلتی ہیں لیکن ان کا بھی خرچہ شامل کرلو تو حج کا خرچ 7500 ریال سے زیادہ نہیں ہوسکتا.

پاکستانی روپے میں 279،000 روپے کا حج جس میں حکومت کی طرف سے کوئ سبسڈی نہ دی جائے،حکومت مانگ رہی ہے 430،000 ہزار روپے تقریباً.

یہ سارا خرچ بھی حج سے 6 ماہ پہلے لے کر بنکوں میں رکھا جاتا ہے اور اس پر سود کمایا جاتا ہے۔ حکومت حج سے کمائی کررہی ہے، سود بھی وصول کر رہی ہے، کجا یہ کہ سبسڈی دے.

درحقیقت حکومت سبسڈی دے نہیں رہی بلکہ حاجیوں سے لے رہی تھی ایک رپورٹ کے مطابق حج پر سبسڈی 9 ارب بنتی ہے جو گوارا نہیں کیا گیا، جو اصلا حاجیوں کے جمع کرائے گئے پیسوں سے ہی دی جانی تھی، مگر فرٹیلائزر اور ٹیکسٹائل وغیرہ کی اندسٹری کے مالکان کو 125ارب روپے معاف کر دیے گئے۔ یعنی نو ارب کا ریلیف دینا گوارا نہیں مگر 125 ارب قابل معافی ہیں۔ جس میں صرف اینگرو فرٹیلائزرز کو جہاں اسد عمر ملازم ہوا کرتے تھے، 16 ارب روپے معاف کیے گئے۔

ایک اور انکشاف یہ ہوا کہ دو سالوں میں ساڑھے چھ لاکھ لوگوں نے درخواستیں جمع کرائیں، اس سے ایک کھرب اڑتیس ارب بارہ کروڑ روپے جمع ہوئے۔ یہ رقم پانچ چھ ماہ تک بنک میں پڑی رہتی ہے اور حکومت اس پر سود وصول فرماتی ہے۔ یعنی کہا تو یہ جا رہا ہے کہ سودی معیشت سے سبسڈی اور حج، مگر حقیقت یہ ہے کہ حاجیوں کے پیسے سے خود سود کما رہے ہیں، اور اس پر کوئی شرم حیا بھی نہیں، جو کمایا گیا، اسی میں سے ہی خرچ کر دیا جاتا۔

صاحب استطاعت والی بات بھی کیا خوب کی کہ ایک بندے کی استطاعت پونے تین لاکھ تک تو تھی مگر آپ نے مذہب بیزار مشیروں کی زیر اثر فیصلے کرکے بتایا کہ اب صاحب استطاعت ہونے کا نصاب پانچ لاکھ بنتا ہے۔ حکومت کا کام تو سہولت فراہم کرنا، صاحب استطاعت بنانا ہے نہ کہ صاحب استطاعت کو بے استطاعت کرنا، یعنی کہ حد ہی ہو گئی بے حسی اور بے شرمی کی!
اور ملاحظہ کیجیے کہ یہ شقی القلبی پاکستان کے 21 کروڑ مسلمانوں کے لیے ہی ہے، ورنہ خان صاحب تو کرتارپور کو سکھوں کا مکہ مدینہ (نعوذباللہ) کہنے سے بھی نہیں ہچکچائے، اور ساتھ میں انھیں سہولتیں فراہم کرنے، کوریڈور کھولنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرنے کو بےتاب نظر آئے۔ مثال دیا کرتے تھے کہ کسی مسلمان کو مدینہ سے چار میل دور روک دیا جائے تو کیا کریں گے۔ اور اب مسلمانوں کو چار میل کیا، ہزاروں میل دور ہی روک دیا گیا ہے۔

اللہ پاک رحم کرے ہم سب پر امین ۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here