گلوبل آرڈر اور امریکہ کی فوجی اہلیت

اسد حسن 

بشکریہ وائیس آف امریکہ اردو

جنرل ڈنفرڈ نے کہا ہے کہ اب بھی دو وجوہات ایسی ہیں جو امریکہ کی فوج کو دنیا کی دیگر طاقتوں اور اپنے مدمقابل فوجوں سے ممتاز کرتی ہیں۔’’ایک ہمارا نیٹ ورک ہے جو ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں پر مشتمل ہے۔ دوسری ہماری اہلیت جو ہمیں، بوقت ضرورت ہمارے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنے کے قابل رکھتی ہے‘‘۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنرل جوزف ڈنفرڈ نے کہا ہے کہ روس اور چین جیسی بڑی طاقتیں جدید ٹیکنالوجی اور فوجی مہارتوں کے سبب امریکہ کی قیادت والے گلوبل آرڈر کے لیے چیلنج بن رہی ہیں۔ ’’لیکن، امریکہ اب بھی بڑی فوجی قوت ہے‘‘۔

ان کے بقول، ’’امریکہ کو نہ صرف جدید فوجی ٹیکنالوجی پر دسترس ہے بلکہ اتحادی ممالک میں رسائی اسے باقی مدمقابل قوتوں سے ممتاز کرتی ہے‘‘۔

تاہم، انہوں نے اس امر کو تشویشناک قرار دیا کہ ’’امریکہ کے اندر 70 فیصد نوجوان جدید فوجی تقاضوں کے مطابق بھرتی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اور دوسری جانب چین میں کاروبار کرنے والی امریکہ کی کمپنیاں چینی مصنوعی ذہانت کو بہتر بنا رہی ہیں، جو امریکی فوجی برتری کے لیے چیلنج بن سکتی ہے‘‘۔

امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، ’اٹلانٹک کونسل‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، جنرل جوزف ڈنفرڈ نے کہا کہ 1998 کی امریکہ کی فوجی حکمت عملی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس میں چین کا ذکر ہی نہیں ہے۔ روس کا تذکرہ نیٹو کے ساتھ اس کے مذاکرات کے پس منظر میں موجود ہے، اس کے علاوہ ناکام ہونے والی اور ناکامی سے دوچار ریاستوں کے سبب خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے اور پرتشدد انتہاپسندی اور اس کے بڑے پیمانے پر انسانی تباہی کا سبب بننے والے ہتھیاروں سے تعلق کے بارے میں کافی کچھ درج ہے۔ لیکن دنیا کی طاقتوں کے ساتھ جو تقابلی فضا آج موجود ہے، پہلے نہیں تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’1998 میں اقتصادی، سفارتی اور فوجی اعتبار سے ہمارے مدمقابل کوئی نہیں تھا۔ آج چین دنیا کی سٹیج پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ اور پھر فوجی اعتبار سے آج چین اور روس کے پاس جس طرح کی فوجی ٹیکنالوجی میں اہلیت کی جانب گامزن ہیں، وہ ہمارے لیے کئی شعبوں میں چیلنج پیدا کرتا ہے۔‘‘

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اب بھی دو وجوہات ایسی ہیں جو امریکہ کی فوج کو دنیا کی دیگر طاقتوں اور اپنے مدمقابل فوجوں سے ممتاز کرتی ہیں۔’’ایک ہمارا نیٹ ورک ہے جو ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں پر مشتمل ہے۔ دوسری ہماری اہلیت جو ہمیں، بوقت ضرورت ہمارے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنے کے قابل رکھتی ہے‘‘۔

’عظیم طاقتوں کے درمیان تقابل کے عہد میں امریکہ کی فوجی حکمت عملی‘ کے موضوع پر ہونے والے پروگرام کی میزبان ’سی این این‘ کی پنٹاگان کے لیے نامہ نگار، باربرا سٹار کے اس سوال پر آیا روس ایسی اہلیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے وہ امریکہ پر حملے کے قابل ہو؟

جنرل ڈنفرڈ نے کہا کہ ’’مجھے ان کے ارادوں اور اہلیت کو واضح کرنے دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جو استعداد حاصل کرنے میں مصروف عمل ہیں وہ خاص طور پر یہ سوچ کر ڈیزائن کی گئی ہے کہ اس سے وہ یورپ کے اندر ہمارے اتحاد کے لیے ہماری کمٹمنٹ کو چیلنج کر سکے۔ وہ اس چیز کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے استعداد کار بڑھا رہے ہیں۔ کیا وہ ہماری اہلیت کا توڑ کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ کیا وہ ہمارے مدمقابل اس انداز میں آ سکتے ہیں جس کے بارے میں دس پندرہ سال پہلے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے؟ اس کا جواب ہے ہاں؛ کیونکہ آج ہمیں یورپ کے اندر اپنی طاقت برقرار رکھنے میں جو چیلنجز ہیں، دس پندرہ سال پہلے نہیں تھے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ایسے میں جب ہماری توجہ صرف پرتشدد انتہاپسندی پر مرکوز تھی انہوں نے مختلف سطح پر فوجی اہلیت حاصل کرنے پر توانائی صرف کی ہے‘‘۔

امریکہ کے جوانٹ چیفس آف سٹاف نے دنیا کی سٹیج پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا اور انٹلکچول پراپرٹی رائٹس کے ’کمپرومائز‘ ہونے کے امریکہ کے پرانے خدشے کا اظہار کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’امریکہ کے اندر پرائیویٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ہماری فوجی استعداد بڑھانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ شی جنگ پنگ بھی اس سے واقف ہیں اور سول ملٹری فیوژن کی بات کرتے ہیں۔ جب یہی کمپنیاں چین میں کاروبار کرتی ہیں وہاں واحد حکمرانی کمیونسٹ پارٹی کے لوگ یہاں اپنے سیل بنا لیتےہیں۔ اور اس طرح انٹلیکچول رائٹس کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ چین کے اندر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بڑی امریکی کمپنیوں کا کاروبار چین کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے لے جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس مسئلے پر آئندہ ہفتے انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے عہدیداروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل جوزف ڈنفرڈ نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی انٹیلی جنس کے ایجنٹوں کی امریکہ میں موجودگی ایک خطرہ ہے۔ لیکن اس بارے میں حتمی بات ایف بی آئی کے حکام بتا سکتے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ بات ڈائریکٹر ایف بی آئی بتا سکتے ہیں کہ روسی انٹیلی جنس والے یہاں کتنا بڑا خطرہ ہیں اور وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹ رہے ہیں۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا خطرہ موجود ہے۔‘‘

اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کی فوج کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات فوج میں بھرتی کی اہلیت پر پورے اترنے والے نوجوانوں کی کمی ہے۔

بقول اُن کے، ’’میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے صرف انتیس تیس فیصد نوجوان جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے فوج میں بھرتی ہونے کے اہل ہیں۔ یہ کافی حد تک تشویش کی بات ہے۔ یہ بتا دوں کہ آج ہم بہترین فوجی بھرتی کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ شعبوں میں ہمیں معیار تک پہنچنے میں دشواری ہے، جیسے ہمیں ایک دو ہزار پائلٹ بھرتی کرنا تھے، اس طرح انٹیلی جنس کے شعبوں میں سخت مقابلہ تھا۔ لہذا، بھرتی کے لیے پول محدود ہے۔ میں اس کو بحران کا نام نہیں دوں گا۔ لیکن، اس مسئلے کے حل کے لیے کئی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘

اس موقع پر جنرل جوزف ڈنفرڈ نے یہ بھی یاد دلایا کہ امریکہ کی فوج کو گیلپ سروے میں اپنے 70 فیصد سے زائد عوام کا اعتماد حاصل ہے، جو بہت ہی حوصلہ افزا بات ہے۔ بشکریہ وائیس آف امریکہ

اسد حسن وائس آف امریکہ میں صحافی ہے

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here