تبدیلی سوچ کے بدلنے سے آئے گی نا کہ یہ منحوس چہرے!

تحریر:عرفان کیانی

کس بات کو روہیں اور کس پے سر پیٹیں؟موجودہ حکومت بلا شبہ ابھی تک اپنا درست ٹریک نہیں پکڑ سکی،بھا ی لوگ ابھی تک کنٹینر کی چھت سے اترنے کو تیار نہیں ہیں۔ عوام کو نواز ، زرداری سے کوی زاتی دشمنی نہیں تھی کہ حالیہ الیکشن میں نون کا نون غنا کر دیا بلکہ وہ امید دکھاے گے سپنے تھے جس سے لگتا تھا انے والا کل کچھ بہتر ہو گا،باقی دنیاں کا تو پتا نہیں مگر ملک عزیز میں چہروں کی تبدیلی کا نام ہی سیاست ہے ۔

ہر آنے والی حکومت کو خزانہ ہمیشہ سے خالی ہی ملا اور اس نے اس کو بھرنے کے لیے عوام کو کچل کر کھربوں کمائَے اور ہزاروں خرچ کیے جس سے ایک یہ بیانیہ بھی ابھر کر سامنے آیا کہ “کیا ہوا اگر نواز شریف کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے” ۔
اور کی دہائیوں سے اسی لگائی گئی بخشیش کے سہارے ان کی سیاست زندہ ہے وگرنہ کسر چھوڑی کوئی نہیں مال حرام سے شکم پری کی۔

اس میں تو دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ دونوں سیاسی پارٹیاں نون اور پی پی اب ایک ہی پیج پے آگئی ہیں اپنے افعال بد کی وجہ سے مگر دوسری جانب حکومت وقت اپنے قبلے کی سمت متعین کرنے میں مخمصے کا شکار ہے جس وجہ سے تاحال اپنے اپ کو ایڈجیسٹ نہیں کر پا رہی ہے ۔ مانا کہ آپ کرپشن کے خاتمے کے اجینڈے تلے الیکشن جیت کر آئے ہیں تو بابا کس نے روکا ہے احتساب سے ؟ احتساب ضرور کرو ہم بھی یہی چاہتے ہیں مگر یہ ڈرامے بازیاں بند کرو ۔ جن سے ملک انارکی کی طرف بڑھ رہابے تم لوگوں کے طفل تماشوں کی وجہ سے ۔ کبھی نیب کا ادراہ پکڑتا ہے عدالت جا کر ضمانت ہو جاتی ہے مطب صاف ہے کہ آپ اپنے کیس کی صیح طرح سے پیروی نہیں کر پا رہے ہو اور مستند چور ڈاکو اپ کے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں عوام سے کشید کیا گیا پیسا الگ سے برباد ہوتا ہے اور دوسری جانب اقتدار سے پہلے اپ ہی کی جانب سے ڈکلیئر ڈاکوں اپ نے گود میں بٹھا رکھے ہیں ۔ نکلو اس کنفیوزن سے بائر احتساب کے علاوہ ملک کو بھی چلانا ہے کچھ ادھر بھی نظر کرو اور اب یہ بھی یقین کر لو کہ تم لوگ حکومت میں ہو اور اس ملک کو چلانا نون لیگ کی ذمہ داری نہیں ہے ۔

بڑے بڑے نعرے تو چھوڑو چھوٹے چھوٹے کام ہی کر لو ۔ عوام کا آئے روز جن جگہوں سے روزانہ کی بنیاد پر سامنا رہتا ہے تھانہ، کیچری، ہسپتال ، اسکول ان کی حالت زار ہی درست کر ڈالو ، میگا پراجیکٹس کو بنانا اور ان پے کام کرنا اس پانچ سال میں آپ کے بس کی بات نہیں۔ کہ حکومت کی پہلے سات ماہ اٹھان نے ہی واضح کر دیا ہے کہ یہ تبدیلی سرکار اعلی درجے کی انفراسٹرکچر سوچ سے عاری ہے اور اب لوگ بھی یہ امید چھوڑ چکے ہیں ۔پے درپے ایسے واقعات رونما ہو رے ہیں جن سے حکومت سے ہمدردی کا رجحان دن بدن کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔

ملک کے اہم ترین صوبے کے پپٹ وزیر اعلی کی تخلیق سے لیکر سانحہ ساہیوال اور حالیہ پنجاب اسمبلی کے ممبران کی تنخواہیں اور مراحات بڑھانے تک بے حسی اور بیغیرتی کی ایک داستان رقم کی جا رہی ہے ،جو جانے والوں کی یاد بھلانے نہیں دے رہی ہے آج بھی اگر ایک سروے کیا جاے ان اسمبلی میں جانے والے ممبران کا تو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا کہ جو کروڑ پتی نہ ہو۔
یہ تو وہ اثاثے ہوں گے جو اس نے ظائر کر رکھے ہیں مگر پوشیدہ مال حرام کا علم تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ اور پھر اس پر بھی بیغیرتی بے حسی ملاحظہ ہو عوام کا ایک عام شہری بارہ ہزار کی بنیادی تنخواہ پے رکا ہوا ہے لاکھوں نوجوان بےروزگار ہیں آئے روز بجلی گیس پیٹرول کی اشاء ضرویہ کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچایا جا رہا ہے ، ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال ہے ، نوکریوں پے سالوں سے پابندی ہے وہاں ان حرام خوروں نے انن فانن بل پیش بھی کیا اور پاس بھی کر لیا ۔

آخر کب تک اس عوام کو کھوتا بنایا جاتا رہے گا یا پھر یہ عوام ہے اس قابل کہ اب ان کو ان میں فرشتے نظر آتے ہیں نون والوں کو دیکھو تو وہ سزا بگھتنے والے مجرم سابق وزیر اعظم کا دفاع ایسے کر رہے ہوتے ییں کہ اللہ کی پناہ اور دوسری جانب پی پی کی قیادت اور جیالے اس طرح مورچہ زن ہیں کہ جیسے ان کے سرٹیفائیڈ چور لیڈر فرشتے تھے کہ جن سے برائی سرزد ہو ہی نہیں سکتی۔

یہ ناسور اور پیراسائٹ جو ہمیں چمٹے ہوے ہیں تو ہماری وجہ سے ہی ہیں آج بھی کوی فرد بائر نکل کر نہیں بولا کہ میں نون لیگ سے تھا یا پی پی سےاور ان کی ملک دشمن پالیسیوں اور لوٹ کھسوٹ سے نکو نک ہو کے ان پے لانت ہزار بیھج کر آ گیا ہوں مجھے یہ ملک عزیز ہے ۔

ابھی کل ہی بلاول بھٹو جس زبان میں بات کر رہا تھا کسی آزاد ملک میں ہوتا جہاں عوام حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے مستسفید ہو رہے ہو یا اگر یہ بھارت میں ایسی لاف زنی کرتا تو وہاں اس کو سولی پے لٹکا دیا جاتا کہ یہ بد بخت جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں ۔

ابھی کل ہی کا واقعہ ہے کہ جس صوبے پے ان حرام خوروں نے تیس چالیس سال سے حکومت کی ہے اور ابھی بھی حکومت کر رہے ہیں اس صوبے کے شہر کراچی میں ایک سترہ منزلہ عمارت میں آگ لگ گی اور دو جانیں گیں مگر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کہ جس کی آبادی تقریبا دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اس میں فائر برگیڈ کے پاس خاطر خواہ انتظام ہی نہیں ۔
گھوسٹ فائر سٹیشن ہیں عملہ گھر پے تنخواہ وصول کر رہا ہے ۔

اس اتشزدگی کے واقعہ کے بعد ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کراچی شہر کے چیف فائر افیسر کو بلایا گیا تھا وہاں پر پروگرام کی میزبان کی طرف سے ہر سوال کا ایک ہی جواب انہوں نے دیا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں گاڑیاں نہیں یہ نہیں تو وہ نہیں اور جو چیز تھی تو صرف کرپشن حرام خوری۔ کہاں گیا بلاول جو منہ کھول کھول کے بھاشن دیتا ہے کہ ملک کی معشیت کی شاہ رگ شہر کراچی اتنا لاوارث کیوں ۔ کیونکہ یہ حرام خور کھا گے ہیں اس ملک کے وسائل کو اور یہی وہ وجہ ہے جن سے ان کا بھٹو زندہ ہے اور مخلوق خدا مر سسک سسک کر مر رہی ہے کیڑے مکوڑوں کی طرح۔

مختصرا کہنا یہ ہے چاہے پنجاب ہو یا سندہ ، بلوچستان یا پھر کے پی کے یا یوں کہیں سارا ملک ان خون چوسنے والے درندوں کے قبضے میں ہے اور یہ خون اشام درندے اس عوام کو کھوتے کھلا کہ ان پر سواری فرماتے رہیں گے اور ان کا بھٹو تب ہی مرے گا جب یہ عوام اپنے اندر سے غلامی کے ان جراثیم سے چھٹکارہ نہیں پا لیتی کہ جس سے یہ جوتے بھی کھاتے جاتے ہیں اور جن خادموں کو اپنی نمائندگی کے لیے اسمبلیوں میں بیھجتے ہیں وہ اپنی ہی شکم پروری کرتے ہیں اور یہ بیس کروڑ سے زائد ہجوم کہ جسے عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے ان ہی کے گن گاتے رہیں گے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here