محض اسی سال اور

نورین حیدر

صاحب علم اور کم علم میں اتنافاصلہ ہوتا ہے کہ دنیاجہان کی دولت اورطاقت بھی اسے پاٹ نہیں سکتی۔ صاحب علم کا رتبہ اور مقام کسی شارٹ کٹ، کسی لاٹری، کسی مکاری، سازش، ڈرامے یا کسی کا آلہ کار بن کر حاصل نہیں ہو سکتا جبکہ دولت اور طاقت کے حصول کے لیے یہ تمام مندرجہ بالا طریقے کامیاب ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ دولت، طاقت اور اقتدار ہر دور میں کم علم لوگوں کو ملا ہے اور بہت سوں نے تو تادیر حکومت کی ہے۔ بھلی بری الگ بات ہے بہرحال کی ہے۔

اسی طرح دولت کی بہتات بھی نہ عقل دیکھتی ہے نہ شکل، نہ سچا نہ جھوٹا۔ ہر قسم کے جاہل اور بے عمل پر دولت کی دیوی مہربان ہو سکتی ہے۔ مگر صاحب علم کے لیے راستہ سخت ہےاور انتھک محنت، ریاضت، مطالعہ، تدبر، تفکر اور شب بیداری کے بعد ہی علم و حکمت کا در نایاب حاصل ہوپاتا ہے۔ صاحب اقتدار چاہے قارون کے خزانوں کا مالک کیوں نہ ہو آخر صاحب علم کا محتاج ہے۔

شہنشاہ ہند مہابلی اکبر اس کلیے سے باخبر تھے اور جب ایک عظیم سلطنت کی حکمرانی کی توان کے ارد گرد عالم فاضل رتن موجود تھے جو ہر قدم پر قیمتی مشورے دیتے اور اکبر کو مشکلات سے باہر نکالتے جس کی بدولت اکبر کے عروج کو زوال نہ ہوا۔

تاریخ کے ان ہی زریں اصولوں کے مطابق آج پاکستان کے حکمرانوں کے اردگرد جو تابناکی اور رونق ہے وہ پر حکمت رتنوں کی مرہون منت ہے۔

حاسد اور تنقید کرنے والے کس دور میں نہیں ہوتے مگر آفرین ہے اس حکومت پر کہ ہر تنقید کا مدلل اور شافی جواب موجود ہے جوکہ ناقدوں کی زبان بندی کے لئے کافی ہے. ناقد تو یہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سادگی اپنائیں گے اور اب یہ حال ہے کہ دو دو محلات میں مقیم ہیں اور سفر کرنے کے لئے مستقل سواری ہیلی کاپٹر ہے،انداز وہی شاہانہ ہے نوکروں کی فوج ظفر موج قائم ہے اور عوام سے ملاقات تو درکنار عام لوگوں کو کبھی دکھتے بھی نہیں, سات پردوں میں ملفوف اور پارلیمان سے غائب تو ناقدوں کا منہ بند کرنے کو بس جواب یہی کافی ہے کہ این آر آو کسی کو نہیں ملے گا اور نیلسن منڈیلا بننے کی کوشش کوئی نہ کرے.

جب ناعاقبت اندیش حاسد مخالف یہ کہتے ہیں کہ جناب وزیراعظم کا دعوی تھا کہ پولیس غیر جانبدار ہو گی اور غیر سیاسی ہوگئی مگر اب حالت یہ ہے کہ کسی صوبے کے آئی جی کو انگوٹھے سے نیچے سرکنے کی اجازت نہیں ،آئی جی کے چوں وچراں کرنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ دفتر سے باہر نکال دیا جاتا ہے. وہ ٹینور پوسٹ کا کیا بنا تو ان لوگوں کی زبان بند کرنے کے لیے پر حکمت جواب یہی ہے کہ وزیراعظم نے بے گھر افراد کے لیے عارضی شیلٹر بنوا دیے ہیں اور اس درد دل رکھنے والے حکمران کا اس سے بہتر جواب نہیں ہوسکتا۔

کچھ ناقد یہ سوال کرتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے دعویٰ تھا کہ خود کشی کو آئی ایم ایف کے قرضہ پر ترجیع دی جائے گی تو ان کا منہ بند کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں اور پرانی گاڑیاں مناسب داموں فروخت کی جا چکی ہیں،سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس کے بعد مزید کیا حجت رہ جاتی ہے۔

کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اور رتن فرماتے تھے کہ پچھلی حکومتوں نے قرضوں کا بوجھ ڈال کر معیشت کو کمزور کیا مگر اب ریکارڈ قرضے لئے جارہے ہیں گیس بجلی پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ٹیکسوں کے انبار لگ ادیئے گئے ہیں، اور اسدعمرصاحب جو دعوے کرتے تھے کہ وہ پی آئی اے اور اسٹیل مل سمیت تمام ادارے چلا کر دکھائیں گے،وہ آج ریلوے اور کے الیکٹرک سمیت تمام بیمار اداروں کو234 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں اور کام یوں ہی چلا رہے ہیں ہاں البتہ حاجیوں سے پانچ ارب کی سبسڈی واپس لے لی گئی ہے تو ان ناعاقبت اندیش لوگوں کے لیے یہ جواب ہے کہ وزیر اعظم اپنی پر حکمت انڈوں مرغیوں اور کٹوں کی پالیسی لانچ کرچکے ہیں اور مزید کئی ریلوے کی بوگیوں اور گاڑیوں کاافتتاح بھی۔ اس کے بعد کسی تنقید کی گنجائش نہیں رہتی ۔

آلو کے کاشتکار پنجاب میں بحران کا شکار ہیں لاکھوں کاشتکار خط غربت سے نیچے کھسک رہے ہیں اوروسیم اکرم پلس خاموشی اورسادگی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں تو عرض ہے کہ ان کے گاؤں میں بجلی نہیں ہے اور اس بات کی موجودگی میں یہ اعتراض بنتا ہی نہیں رہ گئ بات کہ پولیس والوں کے ہاتھوں کسی شہری کی جان مال اور عزت محفوظ نہیں۔ ساہیوال واقعہ کے بعد سارا ملک بلا کے کرب میں مبتلا ہے۔ معصوم بچوں کے ہاتھوں میں دودھ کے فیڈر اور گولیوں کے زخم دونوں ہی چشم حیراں نےدیکھےتواس دردکادرماں کون تواس کا جواب یہ ہے کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے اوورسیز اربوں ڈالر پڑے ہوئے ہیں اور جب وہ اپس لائے جائیں گے تو ملک کےحالات یکسر بدل جائیں گے ۔

نواز شریف کے علاوہ دیگر کرپٹ لوگوں کے بھی اربوں کھربوں ڈالرباہر کے ممالک میں موجود ہیں اور ان کے آنے کی دیر ہے کہ محض اسی سال کی قلیل مدت میں پاکستان اس صدی کے آخر تک دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت بن جائے گا اس لئے ناقدین کو ذہن میں رکھناچاہیے کہ حکیم اور دانا رتنوں کی موجودگی میں ہر قسم کی تنقید کا مدلل اور مؤثر جواب موجود ہے اور ناقدین کو اپنے منہ بند رکھنے چاہیں ۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں۔

اسی سال کی مدت قوموں کی تاریخ میں کوئی معنی نہیں رکھتی اور چند سو ارب ڈالر تو ہمارے اپنے ہی باہر موجود ہیں بس ذرا ان کودسترس میں آ جانے تو دیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here