امید کی فصلیں

نورین حیدر

جوان ہوتی اولاد اور پک کر تیار ہوتی فصل دونوں ہی انسان کی بھرپور آرزوؤں اور امیدوں کا مرکز ہوا کرتی ہے،گرمیوں کےطویل جھلسا دینے والے دن ہوں یا موسم سرما کی یخ بستہ صبحیں کشتکار کے لیے اس کی ساری محبت اور توجہ کا مرکز اس کی کھیتیاں اور لہلہاتی فصلیں ہوتی ہیں جن کے ساتھ اس کے آس کے بندھن بندھے ہوتے ہیں اور وہ اسے اپنی اولاد کی طرح چاہتا ہے۔ کیسی کیسی البیلی امیدیں اور خوشیاں اس فصل کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں،وہ فصل جو قرضوں کی ادائیگی بھی ہے سارے سال کا سرمایہ بھی ہے بزرگوں کا حج اور سہاگنوں کا گہنا بھی۔

بھرپور فصلوں کی کٹائی کے موسم کو ہر کاشتکار کے گھر کے لئے خوشخبری اور خوشحالی کی ضمانت ہونا چاہیے مگر افسوس کہ پنجاب کا کاشتکار گزشتہ کئی برسوں سے اس خوشی سے محروم ہے بلکہ مسلسل اذیت اور مایوسی کا شکار ہے۔ فصل کو کاشت کرنے اور محنت سے پروان چڑھانے کی تمام تر کوشش کے باوجود پنجاب کے کاشتکار کو اپنی فضل سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو پا رہا۔

حکومت پنجاب کی کسان کش پالیسیوں نے کاشتکار کو مایوسی اور پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ عرصہ دراز سے سردیوں میں پنجاب میں آلو اور گندم کی کاشت کی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی برس سے گندم سے خاطر خواہ منافع نہ ہونے کے باعث اس سال کاشتکاروں نے بڑے پیمانے پر آلو کاشت کیے۔ فصل میں ریکارڈ اضافہ ہونے کے باعث منڈی میں اس کی قیمت گر گئی اور کاشتکار کو اس کی پیداواری قیمت کا نصف بھی نہیں مل پا رہا۔ پنجاب میں آلو کا کاشتکار بری طرح بحران کی زد میں ہے. ڈوبتی فصل کی فکر , ذہنی اذیت, گاہک کی تلاش اور مزید قرضوں کا بوجھ۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے کاشتکار سراپا احتجاج ہیں مگر حکومت پنجاب’ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد’ کی تصویر بنی ہوئی ہے،ایک جمود ہے جوحکومت پر طاری ہے.

اگرچہ کہ حکومت کے اندر بھی ایسے وزراء موجود ہیں جو کہ مسئلہ کی نوعیت کو خوب سمجھتے ہیں مگر کچھ بھی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وزیر زراعت پنجاب فرماتے ہیں کہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں ہیں ہے کہ وہ اضافی آلوخرید سکے اور اس کے اختیارات بھی وفاقی حکومت سے منقسم ہیں۔ وفاقی حکومت کے سیکرٹری زراعت کا کہنا ہے کہ زراعت کلی طور پر پنجاب حکومت کا محکمہ ہے اور وفاق کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ جیسے چاہیں مسئلہ حل کریں۔ صورت حال یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ پچاس لاکھ ٹن اضافی آلو موجود ہے جس کے لیے مقامی منڈی میں گاہک موجود نہیں ہے.

عالمی منڈی میں اگرچہ کہ گاہک موجود ہیں مگر درمیانے درجے کے کاشتکار کے پاس وہ وسائل ہی نہیں کہ وہ اپنی فصل باہر بھیج سکے یا اس کو سٹور ہی کر لے.

گزشتہ کئی سالوں سے آلو افغانستان اور ایران بھیجا جاتا تھا مگر نئی عائد شدہ ڈیوٹیوں کے باعث وہاں بھیجنا بھی منافع بخش نہیں رہا،ادھر کاشتکار حضرات بھی ایسے جمود کا شکار ہیں کہ آلو اور گندم کے سوا انہیں کوئی فصل سجھائی ہی نہیں دیتی جو منافع بخش بھی ہو اور اس کے فروخت کے لئے فوری منڈی بھی موجود ہو
الغرض بغیر کسی پلاننگ کے، بغیر کسی تحقیق کے اور بغیر کسی اعدادوشمار کے ایک بڑے رقبے پر آلو کی کاشت دھڑا دھڑ جاری ہے اور ہر سال ایک بحران کو جنم دیتی ہے ۔اگر وقت پر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں کاشتکار خط غربت سے نیچے کھسک جائیں گے ۔ حکومت پنجاب کو ہر قیمت پر کاشتکار کو اس بحران سے باہر نکالنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہیے اور اس سے نمٹنے کے بعد مربوط پالیسی ترتیب دینی چاہیے کہ کتنے رقبے پر کتنی اور کونسی کاشت کرنی ہے اور کونسی فصل کہاں منافع بخش طریق پر فروخت ہوسکتی ہے۔

محکمہ زراعت کو تو یہ توفیق بھی نہیں کہ وہ فصلوں کے درست اعدادو شمار ہی جمع کر لیں ایک موٹے اندازہ اور مفروضوں پر تمام محکمہ چل رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے سو روزہ پلان میں یہ شامل تھا کہ زراعت کے محکمے میں نئی اور جدید جہت پیدا کی جائے گی اور نئی اور اچھوتی طرز زراعت کا اجرا کیا جائے گا تاکہ وہ اجناس اگای جا سکیں جن کی عالمی منڈی میں مانگ ہے مگر اب ہر طرف سناٹا ہے اور اس مسئلے پر کوئی پیشرفت نہیں ہے۔

لطف کی بات تو یہ ہے کہ یورپ اور روس کی منڈی میں نئے آلو کی مانگ موجود ہے۔ اگر حکومت ایکسپورٹر کی مدد کرے تو بے شمار آلو باہر بھیجا جا سکتا ہے مگر ہنوز ادھر کوئی توجہ نہیں ہے ۔ حکومت کو فوری بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ یورپ فروزن چپس اور آلو کے پاؤڈر کی بڑی منڈی ہے اور وہاں آلو فروخت ہو سکتے ہیں۔ آلو کی پروسیسنگ کے کارخانے لگائے جانے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ کاشتکار کو دوسری اجناس اگانے کی طرف راغب کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث لاکھوں کاشتکار بحران کا شکار ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب اس مسئلے کے حل کے لیے مکمل بے بس نظر آتے ہیں۔ وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد صاحب کی ترجیحات میں کہیں دور دور بھی پنجاب کے کاشتکاروں کی حالت زار اور آلو کی خراب ہوتی فصل نہیں ہے اور وزیراعظم صاحب شاید اس مسئلے کے وجود سے ہی بے خبر ہیں۔ ان حالات میں کسان کا پرسان حال کون ہے۔

ڈرنا چاہیے اس وقت سے جب کاشت کار کی فصل سے حاصل ہونے والی خوشی اس سے ہمیشہ کے لیے روٹھ جائے اور دکھ اور مایوسی میں بدل جائے۔ یہ امید اور خو شی روٹھ گئی تو پنجاب سے ہریالی اور خوشحالی روٹھ جائے گی۔ فصلیں امید کے چراغ جلانا بند کردیں تو کسان کھیتوں میں آس کی فصلیں بونا بن کر دیں گے۔ وہ فصل جو خوشیوں کی پیامبر ہے سہاگنوں کے گہنے بنتی ہے بزرگوں کا اطمینان اور اولاد کا بہتر مستقبل ہوتی ہے آج مایوسی اور اذیت کا باعث بن چکی ہے ۔ حکمرانوں سے درخواست ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دیں اور پنجاب کے کاشتکار کو اس کی امید کی فصل لوٹا دیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here