پانامہ لیکس سے پاجامہ لیکس تک

سید طلعت حسین

یہ بھی ایک حیرت انگیز اتفاق ہے کہ یہ قصہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب نیب چیئرمین اپنے بیانات کی حد تک کھل کر کھیلنے کی بڑھکیں مار رہے تھے۔

پانامہ لیکس کے بعد شروع ہونے والا احتسابی عمل اب پاجامہ لیکس میں تبدیل ہو گیا ہے۔ لوگوں کی عزتیں تار تار کرنے کا طریقہ کار آغاز میں ہی برا تھا اب ایسا جن بن گیا ہے جس کو بوتل میں بند کرنا ناممکن ہے۔ اب ہر گھر اس کی زد میں ہے۔ سر تا پا کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں۔

نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پچھلے ہفتے ایسی ہی صورتحال میں پھنس گئے۔ ایک چینل، جس کے مالک وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خاص تھے، نے یہ خبر نشر کی کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نیب کیسز سے منسلک خاتون سے مبینہ طور پر نازیبا گفتگو کرتے ہوئے پائے گئے۔ ایک ٹیلی فون کال کے چند ٹکڑے اور موبائل سے بنی ہوئی ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی۔ ٹی وی اینکر نے ’شرمناک اور سکینڈل‘ جیسے الفاظ استعمال کر کے خبر کو مزید بھاری بھرکم کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ کچھ دیر بعد یہ مواد نشر ہونے سے روک دیا گیا اور اس کی جگہ نیب کی طرف سے جاری وضاحت کو سکرین پر لایا گیا۔
ہاتھ سے تحریر شدہ اس پریس ریلیز میں خبر کی تردید کی گئی تھی۔ اس کا مقصد نیب چیئرمین کی ساکھ کو مجروح کرنا بتلایا گیا اور وضاحت کی گئی کہ اس کے پیچھے بلیک میلرز کا ایک گروپ ہے جس پر درجنوں مقدمات بھی ہیں اور جس کا سربراہ فاروق کوٹ لکھپت جیل، لاہور میں قید ہے۔

نیب نے کمال فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوز ون ٹی وی کی تردید اور معذرت کو بالواسطہ طور پر قبول کیا اور اس کو صحافت کے اصولوں کے عین مطابق قرار دیا۔

بدقسمتی سے یہ تمام مواد سوشل میڈیا پر نشر مکرر بن چکا ہے، جس کی مانگ ڈالر سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ وٹس ایپ گروپس میں روزہ دار اس کو ہر زاویہ گھما رہے ہیں اور ابھی اس کی ریٹنگ کئی دوسری بڑی خبروں سے بہتر ہے۔

تردید کے باوجود تذلیل کا یہ عمل براہ راست اس ثقافت سے جڑا ہوا ہے جو پانامہ لیکس کی بحث اور دھرنوں کے ذریعے دشنام طرازی کی باہم رفاقت سے پیدا ہوئی۔ اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے کیچڑ اچھالنا وہ وطیرہ ہے جو ہماری رگوں میں بس چکا ہے۔ متنازع پیشانیوں پر کلنک کے ٹیکے لگانے کے اس قومی کھیل میں نیب نے خود سے بڑا حصہ ڈالا ہے۔ موجودہ نیب چیئرمین کے آنے کے بعد یہ عمل نہ صرف تیز ہوا بلکہ اس کو تفاخرانہ انداز میں سر کا تاج بنا کر پیش کیا گیا۔ ہتھکڑیوں میں جکڑے عمر رسیدہ پروفیسر اور پابند سلاسل لاشیں اور خودکشیاں بھی عزتوں کی اس نیلامی کو نہ روک سکیں۔ یہ تاحال جاری ہے۔ اس ماحول میں جب چسکے دار قسم کی افواہ یا خبر ایک مرتبہ گردش کرنا شروع کر دیتی ہے تو پھر رکنے کا نام نہیں لیتی۔

ویسے بھی جو مواد جسٹس ریٹائرڈ جاوید کے بارے میں سامنے آیا نیب نے اس کو جھوٹا قرار دینے پر خاص زور نہیں ڈالا۔ لہذا اس افواہ نما خبر سے متعلق سوال ابھی بھی گھوم رہے ہیں۔ کیا ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو جعل سازی ہے؟ کیا آمنے سامنے بیٹھ کر کی گئی گفتگو میں نظر آںے والا شخص کوئی اور ہے؟ کیا فون پر خاتون کو جس فاروق سے بوجۂ رقابت گلے نہ ملنے کا حکم صادر کیا جا رہا ہے یہ وہی فاروق ہے جو کوٹ لکھپت جیل میں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

چیئرمین نیب کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کو موثر بنانے کے لیے تین چار سادہ سے جملے درکار تھے جو ابھی تک میسر نہیں ہیں۔ مثلاً ’فون پر جس شخص کی آواز سنائی جا رہی ہے وہ میں نہیں ہوں۔ ویڈیو میں نظر آنے والا فرد میں نہیں ہوں اور نہ ہی دکھایا جانے والا دفتر میرا ہے۔‘ اگر یہ ذاتی تردید مہیا کر دی جاتی تو اس گھٹیا مواد کے بنانے والے اور اس کے نشر کرنے والے دونوں کی گردنیں ناپی جا سکتی تھیں اور جسٹس جاوید با آسانی اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ مگر نجانے کیوں یہ سادے جملے لکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے؟

یہ اتفاق بھی حیرت انگیز ہے کہ یہ قصہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب نیب چیئرمین اپنے بیانات کی حد تک کھل کر کھیلنے کی بڑھکیں مار رہے تھے۔ کالم نویس جاوید چوہدری کو دیے گئے کالمی انٹرویو میں انہوں نے سب کے احتساب کے تار چھیڑے اور خود کو فرشتہ صفت احتساب کا مجاہدِ اول قرار دیا۔ دو دن بعد ایک اور بیان سامنے آیا جس میں چینلوں پر چلنے والے ٹِکرز کے مطابق انہوں نے حکومتی اراکین پر شفقت فرمانے کا اعتراف کیا۔ ایک اور خبر یہ چلی کہ چیئرمین نیب کے مطابق اگر وہ حکومتی اتحادیوں کو گرفتار کریں تو حکومت دس منٹ میں گر جائے گی۔

ایسے میں ایک حکومت نواز چینل کی طرف سے چیئرمین نیب پر وقتی بجلی گرانے کا جو بندوبست کیا گیا اس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو راہ راست پر رکھنے کے لیے کوئی اہتمام کیا گیا ہے۔

ویسے بھی اپوزیشن کے اعتراضات تو ایک طرف، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نیب کے عزت کُش طور طریقوں سے بہت نالاں ہیں۔ علیم خان کو ثبوتوں کے بغیر جیل میں رگڑا، وزیر دفاع پرویز خٹک کو جیل میں ڈالنے کے عندیے اور پھر ان کی صحت کے حوالے سے ٹھٹھہ، وزیر اعظم عمران خان پر ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کے حوالے سے وارننگ، سب کچھ ایسے حالات کو جنم دے چکا ہے کہ نیب چیئرمین پر الزامات لگنے کے بعد نیب کے علاوہ کوئی بھی ان کے حق میں گواہی دینے کو تیار نہیں ہے۔
ظاہر ہے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اس رسوائی کو شہادت میں تبدیل کرنے پر کوشاں رہیں گے۔ وہ خود اپنے تئیں قوم و ملک کے ان معماروں کے ساتھ جوڑیں گے جو عوام کی فلاح کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہر دم تیار رہتے ہیں۔ مگر یہ قصہ یہاں پر ختم ہونے والا نہیں۔ بعض اوقات ایک کچوکا ان تمام بدروؤں کے باہر نکلنے کا باعث بن جاتا ہے جو ہم نے زندگی بھر اس گمان میں اندر چھپا کے رکھی ہوتی ہیں کہ بے داغ کپڑوں اور رتبے کے پیچھے ان پر کسی کی نظر نہیں پڑے گی۔

وقتی طاقت اور شہرت جو ڈنڈے کے زور پر حاصل کی جاتی ہے اور پریس ریلیزوں اور کیمروں کی مرہون منت جِلا پاتی ہے، اکثر وقت آنے پر ریت کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

روز محشر جو حساب ہو گا وہ تو تب ہو گا، اس وقت کی لڑائی طاقت کا وہ غلیظ مگر نہ ختم ہونے والا کھیل ہے جس میں سب کچھ چلتا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پرانے کھلاڑی ہیں۔ وہ اس عہدے پر عبادت کی سیڑھی سے نہیں پہنچے۔ ان کو پتہ ہے کہ ویڈیو بنانے والا نوکری دینے والے سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ اب یا تو وہ راہ راست پر آ جائیں گے یا باقی دامن بچا کر چادر اوڑھ لیں گے۔ مگر وہ ویسے نہیں رہیں گے جیسے اس مواد کے نشر ہونے سے پہلے تھے۔

یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ اس تمام معاملے کے بعد نیب کے قانون میں ایک کلیدی تبدیلی درکارہے۔ جو نیب کی طرف سے فوراً تجویز کر دینی چاہیے۔ اور وہ یہ کہ آج کے بعد نیب چیئرمین کے آفس میں کیمرے والا فون لے جانے پر مکمل پابندی ہو گی۔ اس شق سے ہر شک دور ہو جائے گا اور ہر آنے والا چیئرمین ہر وہ کام سکون سے کر سکے گا جس سے اس کا اقبال بلند ہوتا ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here