نواز شریف ڈیل کیوں نہیں کر رہے؟

عمار مسعود
اگرچہ میڈیا میں ہر چوتھے دن ایک غلغلہ مچ جاتا ہے کہ نواز شریف نے ڈیل کر لی۔ اس کار نیک کو آپ تک پہنچانے میں بہت سے تجزیہ کار، اینکر اور صحافی شامل ہیں۔ کوئی کہتا ہے نوازشریف لندن جا رہے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے کوئی شنوائی سناتا ہے کہ ڈیل کے تحت مریم نواز کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کوئی یہ خوش خبری لے کر آتا ہے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہے اور پارٹی رہنماوں کے دباو میں آکر نواز شریف نے ڈیل قبول کر لی ہے۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ ہزاروں ارب روپے میاں صاحب نے دینے کا وعدہ کر دیا ہے اور اسکے نتیجے میں جلد ہی وہ قید سے رہا ہو جائیں گے۔ کوئی علالت کو ڈیل کی وجہ بتاتا ہے اور کوئی کڑے احتساب کے خوف کو ڈیل کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود نواز شریف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی نہ ہی تاحال نواز شریف اپنے بیانیئے سے پیچھے ہٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کو گذشتہ دو برسوں میں بہت دفعہ ڈیل کی آفر کی گئی۔ لندن کے قیام میں بھی یہ قصہ سنا گیا۔بیگم کلثوم نواز کی علالت کے وقت بھی ڈیل کا نعرہ دوہرایا گیا۔ لندن سے واپسی کی فلائٹ پر بھی یہ کوشش کی گئی۔ جیل کے دنوں میں بھی رابطے کئے گئے۔ ضمانت کے ایام میں بھی یہ تذکرہ ہوا۔ لیکن نواز شریف ابھی تک ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ نوازشریف کےاس اعتمادکی وجہ ہے  کیااس پربات کرنےکی ضرورت ہے۔
سنیئر صحافی جناب ضیاء الدین نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بہت واضح طور پر یہ بات کہہ دی ہے کہ “ڈیل کی ضرورت اس وقت غیر جمہوری قوتوں کو ہے نواز شریف کو نہیں”۔ دو ہزار اٹھارہ کے متنازعہ انتخابات جس طرح سے ہوئے اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ن لیگ کے بغض میں تحریک انصاف کے ساتھ واضح جانبداری برتی گئی۔ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ منصوبہ سازوں نے جو چاہا وہ ان متنازعہ انتخابات میں کر دکھایا۔ ن لیگ پنجاب میں بھی حکومت نہ بنا سکی۔ وفاق میں بھی انکی نشستوں کی تعداد بہت کم ہوئی۔ دیگر صوبوں میں بھی انکا کا کوئی نام لیوا نہیں رہا۔ خیبر پختون خواہ میں ناقص کارکردگی کے باوجود تحریک انصاف کو فتح نصیب ہوئی۔ سندھ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں تقسیم رہا وہاں بھی تحریک انصاف نےا چھی خاصی نشستیں لے لیں۔ ان نتائج کے حصول کے لیئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے اس پر پھر کبھی بات ہو گی۔ کہنے کا مقصد یہ کہ منصوبہ سازوں نے ایک ایک نشانہ درست لگایا اور ہر مہرہ درست جگہ آکر بیٹھا۔ مطلوبہ نتائج حاصل ہو گئے اور کہنے کو ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہو گیا۔
اس سارے منصوبے میں بس دو باتیں ایسی تھیں جو توقع کے برخلاف ہوئیں۔ باقی توسب ” آل اوکے” کی رپورٹ رہی۔ ان دو باتوں میں سے پہلی بات نواز شریف کی لندن سے واپسی تھی۔ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ کرپشن کے اتنے الزامات کے باوجود ، جیل اور قید کی دھکمیوں کے باوجود ، کلثوم نواز کی شدید علالت کے باوجود نواز شریف وطن واپس آ جائیں گے۔ مشرف کے دور میں جب دس سال کے لیئے سعودیہ چلے گئے تھے تو اب کہاں واپس آئیں گے۔ نواز شریف نے ان تمام افواہوں کے برخلاف وطن واپسی کا سفر کیا ۔ جانتے بوجھتے ایک نام نہاد مقدمے میں بار بار عدالت میں پیشیاں بھگتیں۔ شدید علالت میں قید کو برداشت کیا مگر ڈیل کا لفظ زبان پر نہیں لائے۔ نواز شریف کا یہ طرز عمل منصوبے سے میل نہیں کھاتا تھا۔ اس سے سارے منصوبے میں جھول آگیا ہے۔ دوسری بات جو منصوبے کا حصہ نہیں تھی وہ یہ کہ ارادہ تو یہ تھا کہ تحریک انصاف کی کمزور حکومت کو لا کر پیچھے سے خود حکومت چلائی جائے۔ اس کٹھ پتلی حکومت میں اتنا دم نہیں کہ کسی بھی بات پر سوال کر سکے ، مزاحمت کر سکے۔ یہی ہوا اور کابینہ میں حالیہ ردوبدل اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ حفیظ شیخ ، فردوس عاشق اعوان ، زبیدہ جلال ، رزاق داود اسکی دلیل ہیں۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ حکومت غیر جمہوری قوتوں کے اشاروں پر چل رہی ہے۔ نہ کوئی مزاحمت کرتا ہے اور نہ ہی کسی میں مخالفت کی جرات ہے۔ کمزور حکومتوں کی یہی خوبیاں ہوتی ہیں۔ بیساکھیوں پر برسر اقتدار آنے والے یہی فرمانبردارنہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ لیکن جو بات منصوبے کے برخلاف ہوئی وہ یہ تھی کہ جمہوریت کا ڈھونگ چل نہیں سکا۔ مخفی قوتیں چھپ نہیں سکیں۔ آپ پاکستان کے کسی گلی کوچے میں جا کر دریافت کر لیں کہ عمران خان کو برسراقتدار کون لایا تو پتہ چل جائے کہ جو بات خفیہ رکھنی تھی وہ عیاں ہو گئی ہے۔
اس راز کے افشاء ہونے میں تحریک انصاف کی بے مثال معاشی کارکردگی کو مورود الزام ٹھرانا چاہِے ۔ اس منصوبے پر عمل پیرا ہونے سے اگر شرح ترقی پانچ اعشاریہ آٹھ سے سات فیصد ہو جاتی تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا مگر بدقسمتی سے یہ شرح ترقی اب دو اعشاریہ نو فیصد ہوگئی ہے ۔ ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور روپے کی قدر پاتال میں چلی گئی ہے۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتیں روز بڑھ رہی ہیں۔ سٹاک مارکِٹ کبھی سانس لیتی اور کبھی نیم مردہ سی پڑی رہتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ ختم ہو چکا ہے۔ لوگ مہنگائی سے تنگ ہیں اور اگر سیاسی جماعتیں کوئی تحریک نہیں چلاتیں تو حکومت سے نجات کی آوازعوام کی طرف سے آئے گی جس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
اس صورت حال میں جیل میں قید نواز شریف کو اس بات کا اچھی طرح ادارک ہے کہ اس طرح حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ اسطرح معیشت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ اس طرح ملک زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ جلد یا بدیر اس ملک میں ری الیکشن کا غوغا مچے گا اور اگر صاف، شفاف اور منصفانہ الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ ن کو فتح سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ پیپلز پارٹی اگرچہ بلاول کی قیادت میں بہت درست بیانیئے کی ساتھ چل رہی مگر بری گورننس کا جو تجربہ پاکستانیو کو ہو چکا ہے اس کے بعد ووٹر دوبارہ اس چال میں نہیں آنے والا۔ پنجاب میں اگر منصفانہ انتخابات ہوں تو اب بھی سب سے بڑی قوت مسلم لیگ ن ہے۔ تحریک انصاف کی عبرتناک معاشی کارکردگی کے بعد انکا مستقبل ملکی سیاست میں بہت تاریک ہے۔ نواز شریف کو اس بات کا بھی پتہ ہے کہ پارٹی میں اختلافات کے باوجود کوئی ایک شخص بھی نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ تو صاحبان نواز شریف اس لیئے کوئی ڈیل نہیں کر رہے کہ انہیں پتہ ہے کہ آنے والا دور ان کاہے۔ جعلی مقدمات ماضی میں بھی سیاستدانوں کے خلاف اسی شدت سے قائم ہوئے ہیں مگر ہم نے دیکھا کہ بیک جنبش قلم ایسے مقدمات اور سزائیں ہوا ہو جاتی ہیں۔ جیل میں قید نواز شریف کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ انکا جیل میں گذرا ایک ایک دن عمران حکومت کے لیئے بھاری ہے ۔ اور یہی نواز شریف کی فتح ہے۔ یہی نواز شریف کے بیانیئے کی فتح ہے۔یہی ڈیل نہ کرنے کی وجہ ہے۔

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here