قوم کے وسیع تر مفاد میں


عمار مسعود
اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرس مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں منعقد ہوئی۔ بی این پی اس کانفرنس میں بوجوہ شرکت نہیں کر سکی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس سے کچھ لوگ مایوس بھی ہوئے۔ مہنگائی سے پسے ہوئے عوام اس موقعے پر کسی معجزے کے منتظر تھے۔ لوگوں کو اس کانفرنس سے توقعات تھیں کہ اس کے نتیجے میں ان پر آنے والی افتاد سے کسی طرح نجات ملے گی۔ مگر آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں حکومت پر تنقید تو بہت کڑی کی گئی مگر عملی اقدامات کی طرف کم ہی اشارے ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہر جماعت کے سربراہ نے حکومت کی بری کارکردگی پر دل کھول کر تنقید کی۔ ہوشربا مہنگائی کا بھی بارہا ذکر ہوا، ڈالر کی بڑھتی قیمت پر بھی اظہار خیال کیا گیا، روپے کی گرتی قدر پر بھی بات کی گئی، معاشی بحران کا بھی ذکر کیا گیا، حکومت کی ووٹ چوری کے معاملات بھی زیر بحث آئے، سیاسی انتقام کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،میڈیا پر نادیدہ قوتوں کے قبضے کی بھی بات ہوئی، عدلیہ کے معزز ججز کے خلاف ریفرنسز کا بھی تذکرہ ہوا، سیاسی قیدیوں کی بریت کے حوالے سے بھی بات کی گئی، عوام کی حالت زار پر بھی ماتم کیا گیا ۔ لیکن اس سارے معاملے میں نیا کچھ بھی نہیں تھا ۔ یہ وہی سب کچھ ہے جس کا ذکر ہم روز کے اخباروں میں پڑھتے ہیں، انہی معلومات سے اخبارات کے ایڈِٹوریل بھرے ہوتے ہیں، یہی ذکر ہر خبر نامے میں ہو رہا ہوتا ہے، ہر ٹاک شو میں اسی بحث سے ریٹنگ حاصل کی جا رہی ہوتی ہے ۔تو پھر اس ساری گفتگوکے لیئے آل پارٹیز کانفرنس کے جھنجھٹ کی کیا ضرورت تھی؟ اس کانفرنس سے تو لوگ توقع کر رہے تھے کہ اگر حکومت کے خلاف احتجاج کرنا ہے تو اس کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا؟ بتایا جائے گا کہ احتجاج کا مرکز کس شہر کو بنایا جائے گا؟ کتنے دن تک احتجاج جاری رہے گا؟ قافلے کہاں کہاں سے پہنچیں گے؟ اگر اپوزیشن کی جماعتوں نے استعفے دینے ہیں تو اس کی تاریخ کیا ہے ؟ اس کے مضمرات اور ثمرات کیا ہیں؟ اپوزیشن کے احتجاج میں نعرہ کونسا لگے گا ؟ کون سی جماعت ہراول دستہ بنے گی؟ حکومت کو کیا الٹی میٹم جاری کیا جائے گا؟ کیا وزیر اعظم کا استعفی طلب کیا جائے گا؟ کیا ان ہاوس تبدیلی قبول کی جائے گی؟ میڈیا سے کون اور کیا بات کرے گا؟ کیا نئے الیکشن کا مطالبہ قبل از وقت ہے ؟ اگر نئے الیکشن کی طرف بات جاتی ہے تو اپوزیشن کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ یہ وہ تمام فیصلے تھے جو اس آل پارٹیز کانفرنس میں ہونے چاہیں تھے۔ لیکن اگر معاملہ صرف حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد یوم سیاہ منانے تک محدود رہے گا تو عوام کی اس اعلامیئے سے تشفی نہیں ہوگی۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ اس آل پارٹیز کانفرنس میں کوئی اہم فیصلے نہیں ہوئے۔ کم از کم دو فیصلے ایسے تھے جن کو بہت اہم تصور کیا جا سکتا ہے۔ پہلا اہم فیصلہ چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا تھا۔ اس متفقہ فیصلے پر تمام جماعتوں کا اتحاد بھی ہے۔ موجودہ چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی کی وہ تاریخی غلطی ہے جس گرہ کو اب دانتوں سے کھولنا پڑے گا۔ سینٹ میں اپوزیشن ارکان کو واضح عددی برتری حاصل ہے۔ اس کے باوجود یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں۔ اس لیئے کہ یہ فیصلہ اگر عمران خان کی حکومت کے خلاف ہوتا تو شائد اس میں اس قدر دشواری نہیں ہوتی۔ یہ فیصلہ دراصل” ماورا قوتوں” کے خلاف اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ اس میں کامیابی جمہوریت پسندوں کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جائے گی اور سول سپریمسی کی طرف پہلا قدم کہلائے گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جب تک اس مرحلے کی نوبت آئے گی کتنی پارٹیاں ثابت قدم رہ سکیں گیں اور کتنی” قوم کے وسیع تر مفاد میں” اس اتحاد سے کنارہ کش ہو جائیں گی۔ دوسرا اہم فیصلہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا تھا ۔ اس پر بھی تمام پارٹیاں متفق تھیں اگر چہ اسکی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں کہ اس احتجاج کا نقطہ اغاز کیا ہوگا اور انجام کی صورت کیا ہو گی۔ لیکن اگر تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کی اس تحریک کا آغاز کرتی ہیں تو اس سے حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل جائے گی اور عوام کو اپنے غصے کے اظہار کا ایک پلیٹ فارم میسر آئے گا۔
اس آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے شنید یہ بھی ہے کہ تمام پارٹیوں کے سربراہان نے اس میں خطاب کیا ۔ البتہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے خطاب کی خصوصی درخواست کی گئی۔ اس لیئے کہ سب جانتے ہیں کہ اب بھی سیاسی منظر نامے کی سب سے مضبوط آواز نواز شریف ہے اور مریم نواز اپنے باپ کے نقش قدم پر بڑی ثابت قدمی سے چل رہی ہیں۔ ملک بھر کےعوام اگر ابتلاء کے اس دور میں کسی ایک لیڈر کی آواز پر لبیک کہہ سکتے ہیں تو وہ مریم نواز ہی ہیں۔ مریم نواز نے شروع میں تو یہ عذر پیش کیا کہ جب میری پارٹی کے قائد خطاب کر چکے ہیں تو میرا کچھ کہنا بنتا نہیں ہے۔ لیکن پھر مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کی درخواست پر مریم نواز نے بولنا شروع کیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس خطاب میں جس دلیری اور بہادری کا مریم نواز نے مظاہرہ کیا اس کی وجہ سے دوران خطاب مکمل سناٹا چھایا رہا اور انکی تقریر کے خاتمے پر دیر تک ڈیسک بجائے گئے۔ مریم نوازنے نہ صرف موجودہ حکومت کو ایک کٹھ پتلی اور مہرہ حکومت کہا بلکہ انکے لانے والوں پر بھی کھل کر تنقید کی۔ انکے خطاب میں یہ بات واضح ہوئی کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے اس نااہل حکومت کے خلاف اب بھی کچھ نہیں کیا تو انکے ووٹرز انکو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انکے کہنے کے مطابق “قوم کے وسیع تر مفاد میں ” مصلحت آمیز سمجھوتے کرنے کا وقت گزر گیا ہے۔ اب عوام اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں بات کرنی ہوگی۔
حکومت وقت کے خلاف اپوزیشن پارٹیز کا اتحاد اور آل پارٹیز کانفرنس کوئی نئی بات نہیں ۔ یہ روایت بہت پرانی ہے ۔ ایسے اتحاد ہمیشہ بہت جذے سے بنتے ہیں۔ لیکن ماضی میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے اتحادوں کو ان کے اندر سے ہی نقصان پہنچتا ہے۔ انہی اتحادیوں میں سے کچھ مقدمات سے ڈر جاتے ہیں ، کچھ گرفتاریوں کے خوف سے الگ ہوجاتے ہیں، چند وقتی مراعات پر پھسل جاتے ہیں اور کچھ پر خوف غالب آ جاتا ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اکتوبر کے آخری عشرے میں شروع ہونے والی اس احتجاجی تحریک سے کچھ پارٹیاں “قوم کے وسیع تر مفاد میں” الگ ہو جائیں گی۔ اس احتجاجی تحریک میں آخر میں صرف مسلم لیگ ن ، مولانا فضل الرحمن اور چند چھوٹی جماعتیں ہی رہ جائیں گے۔ کیونکہ موجودہ وقت میں ان جماعتوں کا بیانیہ کسی بھی سیاسی مصلحت سے عاری ہے۔ ویسے توحکومت گرانے کے لیئے یہ پارٹیاں بہت کافی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے مخلص کارکن اور ن لیگ کی جی ٹی روڈ کی حمائت اس ملک میں کوئی بھی فیصلہ منوا سکتی ہیں اور ایسا ہم عدلیہ بحالی تحریک میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ اب رہا سوال کہ یہ تحریک کب شروع ہو گی ، آخری وار کب ہو گا؟ حتمی نعرہ کب لگے گا تو یاد رکھیئے اس کا فیصلہ بدترین سیاسی انتقام کا شکار، کوٹ لکھ پت میں قید ،ایک ستر سالہ دل کا مریض کرے گا۔ اس سیاسی منطر نامے کا سب سے طاقتور کھلاڑی آج بھی نواز شریف ہی ہے۔ اگر نواز شریف اس سال کے آخری مہینوں تک جیل میں ہی ہوئے تو مریم نواز انکی آواز بنیں گی اوراپنے والد سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر اس احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گیں۔

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here