چھوڑ دیں وہ راستہ جو کہیں نہیں جاتا

 افضال خان

ایک ہی تجربہ باربار کیاجارہاہے,ہربار تباہ کن نتائج سامنے آرہے، سمجھ نہیں آرہا ہے کہ تجربہ کرنے والوں نے آخرکتنی بار ایک ہی تجربہ کرنے کا سوچ رکھا ہے؟ یاپھر انہیں ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں,معلوم نہیں کہ باربار پہیہ ایجاد کرنے کا شوق کیوں ختم نہیں ہورہا؟
سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پاکستان کے تقریباًگیارہ ماہ پرانے وزیراعظم نے مسائل کا کوئی حل پیش کرنے کی بجائے انہیں مزید بڑھادیاہے۔ اوپر سے وہی پرانی رٹ کہ خزانہ خالی ہے، بہت لوٹ مارہوئی ہے وغیرہ سے باہرنہیں نکل پارہے، جبکہ کارکردگی کے نام پر عملی طورپر صرف چند خطاب اورکچھ شورشرابا ہے۔ جس ملک کاوزیراعظم ہی کنفیوژ ہوتو ملک کس طرح آگے بڑھ سکتاہے۔ اور حکومت کا سربراہ ملک ملک جاکر یہ شورمچائے کہ ہمارے ہاں لٹ مچی ہے، نہ قانون ہے نہ طاقت ور کو کوئی پوچھنے والا، اب میں آگیا ہوں توسب ٹھیک ہوجائے گا،پھر اگلے جملے میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہاہو توبھلا کون خبطی اس ملک میں سرمایہ کاری کرے گا۔سرمایہ کاربہت کایاں ہوتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کسی ملک میں استحکام چنددن میں نہیں آتااورقانون پرعملدرآمدکوئی جادونہیں ہے کہ پلک جھپکتے سب کچھ بدل جاتاہے۔ یہی وجہ ہے سرمایہ کارتوادھر کانام نہیں لیتاجبکہ سرمایہ کاری کا وعدہ کچھ ممالک نے تعلقات اورکچھ معلوم اور نامعلوم مفادات کے تحفظ کی بناء پر کر لیا ہے لیکن حقیقی سرمایہ کاری کیلئے نہ ماحول ہے اورنہ کوشش۔
اورحیران کن بات یہ بھی ہے کہ دوسروں کے قرضے کوبراکہتے کہتے پچھلے گیارہ ماہ میں تقریباًسولہ ارب ڈالر کا قرضہ لیاگیاہے۔ چین سے 4.6 ارب ڈالر،جس میں ڈیپازٹ اور قرضے شامل ہیں، سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کیش ڈیپازٹ اور 3.2 ارب ڈالر تیل کی تاخیر سے ادائیگیوں سے متعلق ہے۔واضح رہے کہ چین کے دو ارب ڈالر ڈیپازٹ پر ایک فیصد سود ادا کرنا ہوگا جبکہ باقی 2.6 ارب ڈالر پر سود کی شرح 5.5 فیصد ہے۔ سعودی اور یو اے ای سے 3.2 فیصد سے زائد سود ادا کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 6 ارب ڈالر کا قرض مختلف اداروں سے بھی حاصل کر رکھا ہے جس میں بینک بھی شامل ہیں جبکہ آئی ایم ایف سے بھی 6 ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری کا امکان ہے۔اورمزے کی بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر صرف 7.6 ارب ڈالر زہیں۔
دوسری طرف عالمی ادارے پاکستانی معیشت کومسلسل منفی ریٹنگ پر رکھ رہے ہیں۔روپے کی قیمت ہر روز گررہی ہے۔ سٹاک مارکیٹ کی تنزلی رکنے کا نام نہیں لیتی،اوپر سے فنانشل ٹاسک فورس کی سخت شرائط سے نبردآزما حکومت اورادارے ملک میں سیاسی عدم استحکام کوبڑھاتے نظرآتے ہیں۔ایسے حالات میں ریاست کے اندرونی تضادات کھل کر سامنے آرہے ہیں جونئے بحرانوں کو جنم د ے رہے ہیں۔
تو پھر حل کیا ہے؟
حل بہت سیدھا اورسادہ ہے بلکہ آزمودہ ہے، مکمل جمہوریت۔ الیکشن میں مداخلت نہ کی جائے اورجیسی بھی لولی لنگڑی جمہوریت میسرہو اس کو چلنے دیا جائے لوگوں پراعتماد کیاجائے۔ ایسا تب ہوگا کہ اپنے ا ندرکے خوف کو ختم کریں کیونکہ مسئلہ اندرکا خوف ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔اپنی نام نہاد چودھراہٹ کیخلاف ہرطرف سازشیں اورسازشی دکھائی دیتے ہیں۔ ہرطرف دشمن نظرآتے ہیں۔ جوکھل کے بات کرتاہے غدار کہلاتا ہے۔بات کرنے والااگراس وار سے بچ جاتاہے توکافرکہلوانے سے کیسے بچ پائے گا؟۔ اگرکوئی اس وار سے بھی بچ جاتاہے توغائب ہوجاتاہے۔
یعنی سوچ کوقیدکرنے سے لے کر جسم کو قیدکرنے کے مراحل مرحلہ وار طے کروائے جاتے ہیں۔پھر بھی کسی کے دماغ میں کیڑابرقراررہے تووہ کیڑے سمیت کبھی واپس نہیں آتااوریہ سب سترسالوں سے ہورہاہے،
اب مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ایساسترسالوں سے ہورہاہے، بڑامسئلہ یہ ہے کہ کب تک ایسے چلتارہے گا۔ آخرکب تک بنیادی آزادیوں پرجبرکے پہرے بٹھائے جاسکتے ہیں۔ ہوسکتاہے وقتی طورپر حالات کسی کے اختیار میں ہوں اورطاقت ورکا پلڑا بھاری ہو، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایساہمیشہ کہاں رہتاہے۔
یادرکھیں کہ دنیاکاایک عام فہم نظام ہے کہ ممالک اپنے مفادات کے تحت پالیسیاں بناتے ہیں اورزیادہ سے زیادہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے پلاننگ کرتے ہیں۔ اس پلاننگ کو ہمارے ہاں سازش کا نام دیا جاتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ آپ سے پلاننگ نہیں ہورہی ہے توپلاننگ کرناسیکھیں، بجائے اس کے دنیاکوگالیاں دینے کے۔دنیا سے زبانی دشمنی سے کچھ حاصل توہونے والا نہیں ہے۔ اپنی علمی وعقلی سطح کو بلندکریں۔ بنیادی انسانی آزادیوں پریقین رکھیں اورانسانی سوچ کو آزادی دیں۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس کیلئے اناؤں اوروقتی مفادات کی قربانی دینا ہوگی۔ حالات کو سمجھنا ہوگاورنہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک جیسے تجربات کو دہر انے کے باوجود ہم گھوم پھر کے سترسال بعد بھی وہیں آکھڑے ہوتے ہیں جہاں سے چلے تھے۔کیونکہ ہم جس سفر پرنکلے ہیں اس کی منزل تک پہنچاتوکجا،ہم تو اس راستے کے مسافر ہیں جو کہیں نہیں جاتا۔

 

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here