کشمیرکی جدوجہد آزادی کا تاریخی پس منظر

ظاہر قریشی

صدیوں سے کشمیری عوام استبداد کے تحت تکلیف دہ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے کشمیری بادشاہ (چند کو چھوڑ کر) ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا برتاؤ کرتے رہے . مغل بادشاہ اکبر کے دورحکومت میں کشمیر دہلی کے راج میں آ گیا مگر کشمیریوں کی زندگی میں کوئی فرق نہ آیا اور نہ ہی ان کے معاملات کی یہ ذلت آمیز کیفیت یہاں ختم نہیں ہوئی۔ برطانوی راج کے دوران انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر کشمیری مسلمانوں کو جموں کے ڈوگرہ راجوں کے ہاتھ فروخت کر دیا، جو انگریزوں کی سرپرستی میں ایک سو سال تک ان کے ساتھ زر خرید غلاموں کی طرح کا سلوک کرتے رہے ۔ سکھ حکمرانوں کے بعد جموں کے ڈوگرہ حکمرانوں نے کشمیری عوام کو دبانا اور دہشت زدہ کرنا فرض منصبی سمجھا. ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی 1857 کے بعد کچھ انگریز صحافیوں اور مصنفوں نے کشمیر کا دورہ کیا اور واپس برطانیہ جا کر وہاں کے کچھ رسائل میں اپنے مشاہدات لکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ کیسے ممکن ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی تقدیر کا فیصلہ ایسے حکمرانوں کو سونپ دیا گیا جو خود کئی دیوی اور دیوتاؤں کو پوجتے ہیں ۔ یہ ہندو حکمران ان کو اس وحشیانہ طریقے سے دہشت زدہ کیے ہوۓ ہیں کہ وہ فجر کی نمازکے دوران مسجدوں میں گِريَہ و زاری کرتے ہیں “۔ گزشتہ صدی کی تیسری دہائی میں کشمیری عوام نے مذہبی ,سیاسی اور معاشی استحصال کے خلاف باقاعدہ سڑکوں پر آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں 13 جولائی 1931 کا وہ سانحہ رونما ہوا جب ڈوگرہ پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کر کے سینٹرل جیل سری نگر کے سامنے 21 مسلمان مظاہرین کو شہید کر دیا. 1947 میں ہندوستان آزاد ہوگیا اور جنوبی ایشیا کے نقشے پر ایک نیا اسلامی ملک پاکستان ابھر کر سامنے آیا. پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کے لئے تاریخی فتح سے کم نہ تھا ۔ جموں و کشمیر کے عوام تحریک پاکستان کے ہمدرد تھے۔ ان کی نظر میں ہندوستان میں برطانوی راج کے خاتمے کا مطلب کشمیر میں انگریزوں کی سرپرستی میں چلتے ڈوگرہ راج کا خاتمہ تھا لیکن کس کو معلوم تھا کہ کشمیریوں کے لئے آزمائش اور گِريَہ و زاری کا ایک اور تاریک دور باقی ہے۔ . کانگرس کے شاطر دماغ خطہ کشمیر کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت سے بخوبی واقف تھے لہٰذا انہوں نے 1930 سے ہی کچھ کشمیری لیڈروں جن میں شیخ عبدللہ بھی شامل تھا کو مختلف قسم کی لالچ دے کر اپنی طرف راغب کرنا شروع کر دیا تھا ۔ چنانچہ ان کی منافقت اور پنڈت نہرو اور شیخ عبداللہ کے مابین تعلقات نے 1947 میں جموں و کشمیر کے مقدر پر غم کی طویل کالی رات لکھ دی۔ ہندوستان کی کانگریس قیادت خطہ کشمیر کے دور دراز پہاڑی سلسلوں ، چوٹیوں اور پانی کی اہمیت کی وجہ سے اپنے ساتھ رکھنا چاھتی تھی ۔ اور اس کا برملااظہار پنڈت نہرو کے ایک قریبی ساتھی راؤ بہادر وپالاپنگاننی مینن ( وی پی مینن ) نے اپنی کتاب “ دی سٹوری آف انٹیگریشن “ میں یہ الفاظ لکھ کر کیا ہے ‘کشمیر خطے میں ہماری سلامتی اور سالمیت کے لئے اہم تھا’۔ تقسیم ہند سے قبل گاندھی اور کچھ دوسرے کانگریسی قائدین نے کشمیر کے پراسرار دورے کیے اور ڈوگرہ حکمرانوں سے مل کر ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں اپنی آئندہ کی حکمت عملی تیار کر لی . میرے اس دعوے کی گواہی اندھرا گاندھی کے دور حکومت میں دہلی کے گورنر اور پھر 1990 میں کشمیر کے گورنر رہے جگ موہن کی کتاب “ دی فروزن ٹربیلنس ان کشمیر “ میں تقسیم ہند سے پہلے کے کشمیر سے جڑے پرسرار واقعات کو کچھ اس طرح لکھ کر دی ہے جگ موہن اپنی کتاب میں لکھتا ہے “گاندھی جی کا 1 جولائی 1947 کو کشمیر کا دورہ , گاندھی کی مہاراجہ سے ملاقات , رام چندرہ کاک کا 10 اگست 1947 کو وزیر ا عظم کے عہدہ سے برخاست ہونا , شیخ عبدللہ کا جیل سے رہا ہو ہونا, پٹھان کوٹ اور جموں کے مابین روڈ لنک کو مضبوط بنانا ، اور دریائے راوی پر کشتی پل بنانے کی اسکیم یہ سب ریاست کشمیر کے ہندوستان میں الحاق کے لئے زمین تیار کی جارہی تھی۔ شیخ عبد اللہ کی رہائی کے بعد ، پنڈت نہرو نے آل انڈیا عوامی کانفرنس کے سکریٹری جنرل داوریکا ناتھ کچرو کے ذریعہ شیخ عبد اللہ کو سری نگر میں ایک خط بھیجا ، ناتھ سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں کے اعلی سطحی اجلاس میں شریک ہوئے اور شیخ عبد اللہ سے ملاقات کر کےمسٹر نہرو کو ایک خط لکھا. خط کی عبارت کچھ اس طرح تھی “شیخ صاحب اور ان کے قریبی ساتھیوں نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ مگر وہ مصلحت کے تحت اس راز کو ابھی پوشیدہ رکھ کر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ نیشنل کانفرنس نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا “ ( موہن کرشن تنگ کی کتاب “ کشمیر آرٹیکل 370 “ میں اس خط کو پڑھا جا سکتا ہے )۔ اس خط کے منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستان کے اس جھوٹ کا راز فاش ہو گیا جس میں کہا جاتا ہے کہ ہندوستان نے کشمیر میں فوج پاکستان کی طرف سے قبائلیوں کے کشمیر پر حملے کے بعد اتاری سچ یہ ہے کہ ہندوستان تقسیم سے پہلے ہی کشمیر پر کشمیریوں کی مرضی کے خلاف قبضے کی سکیم تیار کر چکا تھا۔ کشمیر کو زبردستی ہندوستان کو سونپنے واسطے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف کے ذریعے بونڈری کمیشن میں پنڈت نہرو کے ساتھ مل کر گرداس پر کو بھارت میں شامل کر دیا اور یوں کشمیری عوام کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی ۔ اس کے بعد مہاراجہ کی طرف سے الحاق کا ایک فرضی خط تیار کیا گیا اور اس خط کا بہانہ بنا کر 27, اکتوبر 1947 کو بھارتی فوجی سرینگر میں اتار دیے گئے ۔ کشمیری عوام نے اس نئی للکار کو سن کر بہادری سے سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ہندوستانی حکومت کشمیری عوام کی ہندوستانی فوجوں کے خلاف مظاہروں اور پاکستان کا ردعمل دیکھ کر دیکھ کر بھوکھلا گئی ۔ لہذا لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے پاکستان اور کشمیر کے لئے اپنے الگ الگ پیغامات میں اس الحاق کو عارضی قرار دے دیا اور یقین دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی نگرانی میں کشمیری عوام کو ایک آزاد اور غیرجانبدارانہ راست استصواب کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا ہر موقع فراہم کیا جائے گا. 7 اگست 1952 کو پنڈت نہرو نے لوک سبھا سے اپنے خطاب میں کچھ اس طرح سے کشمیر کی صورتحال کو اپنی تقریر میں بیان کیا “ کشمیر اب ایک بین الاقوامی مسلہ ہے ہندوستان نہیں چاہتا کہ وہ لوگوں پر بندوق کے زور سے فیصلہ مسلط کرے ہم یہ زبردستی کی شادی نہیں چاہتے ۔ اگر جموں کشمیر کے لوگ استصواب راۓ سے ہم سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہم ان پر اپنی مرضی نہیں تھونپے گے ۔ گاندھی جی نے 77 سال کی عمر میں آخری سری نگر کا دورہ کیا۔ وہ زیرک سیاستدان تھے کشمیر میں رائے عامہ نے انھیں باور کرا دیا کہ یہ گٹھ جوڑ نہیں چلے گا چنانچہ گاندھی جی نے کہا: – “برطانوی سامراج کا دور ختم ہو چکا ۔ گورے ہندوستان چھوڑ چکے ہیں اسلئے اب ہندوستان کی ہر ریاست کے لوگ اپنی مرضی کے مالک ہیں ان کو کس کے ساتھ کیسے رہنا ہے اس کا فیصلہ بھی انھیں ہی کرنا ہے ۔”8 فروری 1957 کو ہندوستان کے وزیر دفاع کرشنا میننون نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا: – “اگرچہ کسی بھی خودمختار ریاست کے لئے کسی علاقے کو سنبھالنا ناممکن نہیں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کے کوئی ہمارے ساتھ نہ رہنا چاہے اور ہم زبردستی کریں ۔ اگر رائے شماری کے نتیجے میں لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں اگر کبھی ایسا ہوا تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی راۓ کو اپنا لیں. اسی تاریخ اور عالمی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ، سلامتی کونسل نے کشمیری کے عوام حق خود ارادیت کے اصول کو بھی برقرار رکھا اور اس بات کی تصدیق کی کہ کشمیری عوام کو آزادانہ ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں ہوۓ فیصلے کے بعد پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کرا کر کشمیر میں لائن آف کنٹرول قائم کر دی گئی ۔ کشمیری دو حصوں میں بٹ گئے اور کون جانتا تھا یہاں سے پھر ایک طویل کالی رات کا آغاز ہونے جا رہا ہے ۔ بھارتی حکومت نے اپنی زبان سے پھرتے ہوۓ کشمیر میں اپنی باقاعدہ فوج بھیجنا شروع کر دی ۔ ہندوستانی فوج نے سرینگر میں داخل ہوتے ہی پہلے ہی دن بادامی باغ کیمپ کے پاس کچھ کشمیریوں کو شہید کیا ایک اور جگہ کچھ خواتین کی تذلیل کی ۔ اس واقعہ کے خلاف کشمیری عوام لال چوک میں جمع ہو گئے اور ہندوستانی فوج مردہ باد کے نعرے لگاے ۔ بھارت نے دنیا کے سامنے جنرل اسمبلی میں رائے شماری کا وعدہ کیا تھا۔ کشمیری عوام رائے شماری کے انتظامات کو دیکھنے کے لئے بے چین تھے . جب کے ہندوستانی فوج نے کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا . ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو راتوں گھر سے اٹھا کر اذیت خانوں میں ڈال دیا گیا ۔ ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام کا رجحان بدستور پاکستان کی طرف تھا ۔ لہٰذا اب ہندوستان نے فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سیاسی حکمت عملی پر بھی عمل شروع کر دیا ۔ شیخ عبدللہ کو فراڈ انتخابات کرا کے حکومت سونپ دی گئی ۔ شیخ عبداللہ کی حکومت اور ان کی جماعت کو سخت قوانین کے ذریعہ حزب اختلاف اور آزاد پریس کو کچلنے کے لئے آزادانہ اختیار دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی قراردادکے باوجود ہندوستان نے فوج کی عددی طاقت بڑھانا شروع کر کے کشمیر میں اسلحہ اور گولہ بارود کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ ہندوستان راۓ شماری سے توجہ موڑنے کی خاطر انتخابات کا ڈھونگ رکھتا ہے جب کے اقوام متحدہ کی قرادادوں میں واضح لکھا ہے کہ انتخابات استصواب راۓ کا متبادل نہیں ہو سکتے ۔ ڈاکٹر جوزف کاربل ممبر یو ۔ این ۔ سی ۔ آئی ۔ نے ان کی کتاب “ ڈینجر ان کشمیر “ میں ان الفاظ سے ان فراڈ انتخابات کو بے نقاب کیاہے۔“ ایسے انتخابات بدترین آمریت میں ہی ہو سکتے ہیں “ جمہوریت کے بارے میں بلند و بانگ دعووں کے باوجود بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور ہر بار ریاست میں جعلی انتخابات کروا کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کرتا ہے ۔ جولائی 1977 میں جب سابق بھارتی وزیر داخلہ چرن سنگھ انتخابی مہم کے سلسلے میں کشمیر تشریف لائے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں ہوئے پچھلے تمام انتخابات دھاندلی زدہ تھے۔ شیخ عبد اللہ اور دہلی کے حکمران 1947 سے 1953 کے درمیان کشمیریوں کے جذبات کو دبانے ڈرانے اور استصواب راۓ متعلق رجحان تبدیل کرنے میں ناکام رہے. 9 جولائی 1953 کو عوام تمام ممنوعہ احکامات کو بالاۓ طاق رکھ کے ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں نوکدال سرینگر میں جمع ہوئے۔ احتجاج میں حکمران نیشنل کانفرنس کے کچھ سرکردہ ممبران اور خواجہ غلام محی الدین قرہ کی سربراہی میں کچھ ہندو وکلاء نے بھی حصہ لیا اور آزادی اور الحاق پاکستان کے لئے سیاسی تحریک کا آغاز کیا۔ اس احتجاج نے شیخ عبداللہ کی پارٹی کو بہت ہلا کر رکھ دیا نتیجہ شیخ عبد اللہ اور حکومت ہند کے مابین اختلافات پیدا گو گئے نتیجے میں شیخ عبد اللہ کو 9 اگست 1953 کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان سالوں میں جموں و کشمیر میں رائے شماری کی ایک مضبوط عوامی تحریک بڑھتی دیکھی ، اور ہزاروں لوگوں کو ایک ساتھ کئی دہائیوں تک قید ، اذیتوں ، نظربندیوں اور ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رہی ۔ ہزاروں سیاسی کارکنوں کو اس جرم کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا مگر یہ لہر ٹھہری نہ ۔ یقینی طور پر یہ دور کشمیر میں تحریک آزادی کا انوکھا دور تھا جب مقبوضہ لداخ سے لے کر کٹھوعہ تک کے باشندوں نے مذہب , رنگ اور نسل سے قطع نظر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ حکومت کا کوئی کالا قانون یا انتقامی اقدام عوام کو جدوجہد میں شامل ہونے سے روک نہیں سکا۔ دسمبر 1963 کو درگاہ حضرت بل سے حضرت محمّد کے داڑھی مبارکہ کے بال پرسرار طور پر غائب ہونے کے واقعہ نے وادی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے ۔ دسمبر 1963 کو درگاہ حضرت بل سے حضرت محمدﷺ کے داڑھی مبارکہ کے بال پرسرار طور پر غائب ہونے کے واقعہ نے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے ۔ ہندوستانی حکومت کے لئیے یہ حالات قابو سے باہر ہوۓ تو شیخ عبدللہ کو پھر سے رہا کر کے پنڈت نہرو نے کشمیر کے حل کے مجوزہ ممکن حل پر تجویز واسطے پاکستان بھیجا ۔ مگر بدقسمتی سے پنڈت نہرو کی اچانک موت کی وجہ سے شیخ دورہ نامکمل چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے ۔ سال 1965 میں کشمیر میں آزادی کی جدوجہد عروج پر تھی اور اور اس کی گواہی واشنگٹن پوسٹ کے اس وقت کے نامہ نگار سیلگ ہارسن کی رائے ہے: – “میں نے جولائی 1965 میں میں کشمیر کا دورہ کیا تھا ، اور مجھے معلوم ہوا کہ کشمیری ہندوستانی حکمرانی کے خلاف ہیں ۔” (واشنگٹن پوسٹ 14 اگست 1965 ) . صورتحال اس قدر گھمبیر ہو گئی کہ بھارتی حکومت نے بھوکھلا کر بین الاقوامی سرحد پر حملہ کر دیا ۔ استصواب راۓ کے متبادل کے طور پر بھارت نے شیخ عبدللہ کو ساتھ ملا کر “1975 میں اندرا شیخ عبدللہ معاہدہ “ پر رضامندی ظاہر کی جس کے مطابق کشمیر میں وزیر اعلی کی بجاے وزیر ا عظم اورگورنر کے بجاے صدر کا عہدہ کر دیا گیا ۔ کشمیری عوام نے اس ڈھونگ کو ماننے سے انکار کر دیا یہ الگ بات ہے کہ بھارت نے آج تک اس معاہدہ کی کسی شق پر عمل نہیں کیا. 28 فروری 1975 کو وادی کشمیر کی عوام نے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کی اپیل پر اندرا عبدللہ معاہدہ کے خلاف پوری ریاست کشمیر میں ہڑتال کی ۔ یہ ایک تاریخی دن تھا یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی پاکستانی وزیر ا عظم کی ہڑتال پر ریاست کشمیر کی عوام نے اس بڑے پیمانے پر احتجاج میں شرکت کی ہو ۔ 1980 کی دھائی میں کشمیری عوام نے ریاست جموں کشمیر میں مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کر دیا جو ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینے کے بعد آج تک جاری ساری ہے ۔ گزشتہ 73 سالوں کے دوران ہندوستان نے کشمیر میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کی نسل کشی اور قتل کے علاوہ مردوں ، خواتین اور بچوں پر انسانی حقوق کی بے مثال زیادتیوں کی شکل میں بھیانک جرائم کا ارتکاب کیا۔ مقبوضہ خطے میں بھارت کا عصمت دری ، قتل ، لوٹ مار اور آتش زنی کا برہنہ ناچ آج بھی جاری ہے. تحریک آزادی کشمیر کی جڑیں کی تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ کشمیری عوام غیر منقول جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ظلم کے کے دور میں بھی سمجھوتہ کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے اصول پر مبنی ہے۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی موجودہ جدوجہد کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی ہے۔ بھارت اس تحریک کو باہر سے لائی گئی دہشت گردی قرار دیتا ہے جو ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔ کشمیریوں اور آزادی پسندوں کے درمیان ایک مقصد کا گہرا رشتہ ہے۔ کشمیری عوام نے اس تحریک آزادی کو قبول کیا ہے اور معاشرے کے ہر طبقے نے آزادی کی شاندار مقصد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ طبقاتی , فرقہ وارانہ ، مذہبی جنگ یا کشمکش نہیں ہے بلکہ کشمیریوں کی جدوجہد کا حتمی مقصد ہندوستان سے آزادی ہے۔ کشمیری عوام کی موجودہ جدوجہد میں کشمیریوں کا مقدس لہو شامل ہے امید ہے اللہ تعالٰی کی مدد سے وہ اپنی منزل تک پہنچیں گے ۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here