طالبان امریکہ امن معاہدہ ،دل نہیں مانتا ۔۔۔۔۔

 

رشید بلوچ

گزشتہ رات کوئی 11 بجے یوں ہی ہاکی چوک سے جناح روڈ کی طرف گاڑی کا رخ موڑا سائنس کالج چوک تک ٹریفک کو جیسے ایلفی سےچپکایا گیا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا جمع غفیر کی وجہ کیا ہے ، دل ہی دل میں سوچا شہر میں رات کے اس پہر خدا نخواستہ کوئی وقعہ پیش نہ آیا ہو ؟ جب کوئی ٹریفک جام ہوتا ہے تو ہم کوئٹہ والوں کو ہمیشہ جلسہ جلوس ،وی آئی موومنٹ کا اشارہ ملتا ہے لیکن اس وقت ایسے خرافات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ، جھٹ سے سیل فون آن کیا وٹس پر انگلی ماری لیکن ایسی کوئی معلومات کہیں سے نہئں مل رہی تھیں ،ایک دو ،دوستوں کو کال کرکے معلومات لینے کی کوشش کی لیکن “سب اچھا “ کا جواب ملا ،رینگتے رینگتے سول ہسپتال کی گیٹ تک پہنچا تو چند سفید رنگ کی جھنڈیاں نظر آئیں جن پر سیاہ حروف میں کلمہ لکھا ہوا تھا ،چند داڑھی ولے نوجوان نعرہ لگا رہے تھے تب معلوم ہوا امریکہ طالبان “امن” معاہدہ اور طالبان کی فتح کی خوشیاں منائی جارہی ہیں ۔۔۔۔۔۔

میری دلی خواہش ہے کہ افغانستان میں جنت نظیر امن قائم ہو اور یہ امن تاقیامت جاری و ساری رہے لیکن نہ جانے کیوں دل طالبان آمریکہ امن معاہدہ ماننے کو تیار نہیں دل کے کسی گوشے میں کڑکاسا لگا ہے ،امریکہ کی جانب سے شرائط کچھ مبہم ہیں جسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن سمجھ نہیں پارہا ۔۔۔۔۔۔

افغانستان میں مزید ایک سال تک امریکن ٹروپس موجود رہیں گی تب تک امریکہ میں صدارتی الیکشن بھی ہو چکے ہوں گے ،ٹرمپ نے اپنے پچھلے الیکشن مہم میں امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کا وعدہ کیا تھا آنے والے الیکشن میں اسی معاہدے کو بنیاد بنا کر دوبارہ الیکشن میں جائے گا ۔۔۔۔

افغان حکومت اس معاہدے سے خوش نظر نہیں جب کہ طالبان کے اندر بھی بہت سے فیکٹرز موجود ہیں جن کا خیال ہے کہ امریکہ سے معاہدہ نہیں بلکہ اسے غیر مشروط بھگادینا چاہئے ساتھ ہی اسکی کیا گارنٹی ہے کہ ایک سال بعد امریکہ عہد وفا نبھائیں گا۔۔۔۔۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here