جانتی ہیں آپ کہ ڈاکٹر مبشر حسن ہیں کون؟

نادیہ بخاری

غالبادو ہزار سات ماہ اگست کی بات ہے مجھے میرے ٹی وی کے نیوز ڈائریکٹر افتخار کاظمی صاحب نے کہا کہ نادیہ جب آج کوریج سے فارغ ہوں تو ڈاکٹر مبشر حسن کو ان کے گھر سے واپسی پہ پک کر لینا۔ایڈریس بہت آسان ہے لبرٹی مارکیٹ کے بالکل مخالف مین روڈ پہ انکا گھر ہے بہت آسانی سے مل جائے گا۔میں اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ سے فارغ ہوئی تو میں نے ڈرائیور سے کہا کہ گلبرگ چلو گیسٹ کو پک کرنا ہے۔ گھر تو آسانی سے مل گیا اور ہم سیدھا گاڑی انکے گھر کے اندر لے گئے۔ کیمرہ مین نے کہا مس جی یہاں تو کوئی شخص ہی نہیں دکھائی دے رہا؟ میں نے کہا چلو میں اتر کے دیکھتی ہوں اچانک سے کیمرہ مین بولا مس جی چلیں غلط جگہ آگئے وہ دیکھیں ڈڈو کار بھلا اس زمانے میں ڈڈو کار (فاکسی) کون استعمال کرتا ہے؟ ہماری گفتگو کے دوران کسی کے چلنے کی آواز آئی تو میں نے مڑ کہ دیکھا ایک شخص نمودار ہوا میں نے فورا کہا کہ ہم ٹی وی سے آئیں ہے وہ کہتا جی جی ڈاکٹر صاحب تیار ہیں آپ کا انتظار کر رہے ہیں میں ملازم کے پیچھے چل پڑی کیا دیکھا سفاری سوٹ میں ملبوس نہایت پروقار دراز قد شخصیت نہایت پرکشش مسکراہٹ کے ساتھ نمودار ہوئی میں نے سلام کیا انھوں نے جواب دیا میں نےاپنا تعارف کرواتے ہوئے ان سے پوچھا آپ تیار ہیں وہ بولے جی ۔ چونکہ نیوز کوریج کے لئے ہم کیری ڈبہ استعمال کرتے تھے مجھے تھوڑا سا عجیب لگا کہ یہ دراز قد شخصیت کیسے آسانی سے بیٹھ پائیں گے؟ خیر آخری سیٹ پہ وہ بیٹھ گئے میں بھی انکے ساتھ بیٹھ گئی اس دن میں اپنی چھوٹی بہن صدف سکینہ سے ناراض تھی میں نے ان کے ساتھ صدف کی باتیں کرنا شروع کردی وہ چپ کر کے میری اور صدف کی لڑائی کی تفصیل سنتے رہے اور مجھے سمجھاتے رہے صدف سے مت الجھیے اسے اسکی مرضی کرنے دیجیے میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں اپنے گھر میں سب سے بڑی ہوں اور وہ سب سے چھوٹی ہے بھلا بتائیں کیسے اسے اس کہ حال پہ چھوڑ دوں بہت نافرمان ہوتی جارہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب پیار سے مجھے سمجھانے لگ پڑے لیکن گرمی کی شدت سے ان کا پسینہ نکل رہا تھا جسے وہ اپنے ہاتھ سے بار بار صاف کر رہے تھے۔ میں جیسے ہی آفس پہنچی افتخار کاظمی صاحب سے کہا کہ میں لے آئی ڈاکٹر صاحب کو انھوں نے کہا ویلڈن ! میں نے کہا کہ مجھے ان پہ بہت ترس آیا پسینے سے ان کا برا حال ہورہا تھا کہتے کیا مطلب میں نے کہا کہ
کیری ڈبے میں کونسا اے سی لگا ہوتا ہے؟

کہتے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ڈاکٹر صاحب کو کیری ڈبے میں لے کے آئی ہیں میں نے کہا جی ہاں کیونکہ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ کوریج سے واپسی پہ ڈاکٹر صاحب کو پک کر لینا کاظمی صاحب نے مجھ پہ شاوٹ کیا
“نادیہ بخاری آپ جانتی ہیں کہ ڈاکٹر مبشر حسن ہیں کون؟
آپ انھیں نئی کار میں کیوں نہیں لائیں؟ کرتا ہوں بات آپ سے زرا پروگرام سے فارغ ہو لوں ۔میری نئی جاب تھی میں ڈر گئی۔اچانک سے دیکھا کہ میرے ٹی وی کے مالک نے بھاگ کہ ڈاکٹر صاحب کے لئے دروازہ کھولا میں انکاپر وٹوکال دیکھ کہ حیران رہ گئی تھی۔ میں نے اپنے ایک سینئر سے پوچھا یہ کون ہیں جواب ملا آدھے لاہور کے مالک زینت لیبارٹری کا پتہ ہے وہ بھی ان کی ہے اور تو اور ڈاکٹر صاحب کی لاہور میں موجود پراپرٹیز گنوانے لگا۔اتنے میں پاس کھڑے ڈرائیور نے کہا اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی ڈڈو کار ؟یہ سنتے ہماری ہنسی چھوٹ پڑی سینئر صحافی نے کہا کہ ارے واہ یہ تو میں بھول ہی گیا تھا وہ جو ڈڈو کار (فاکسی) وہ انھیں بھٹو نے اپنی ذاتی استعمال کی گاڑی انکو گفٹ کی تھی اور کمال کی بات یہ ہے کہ اس عمر میں یہ آج بھی فاکسی خود ہی ڈرائیو کرتے ہیں ۔میں چونکہ اس وقت سٹوڈنٹ تھی میں نے پوچھا کہ بھٹو صاحب ان کے کیا لگتے تھے ؟
کہنے لگے دوست اور جو پاکستان پیپلز پارٹی ہے نہ یہ ان کے گھر جہاں سے انکو آپ لے کہ آئی ہیں اسی گھر میں میں بنی تھی۔
مجھے کاظمی صاحب سے مذید خوف آنے لگا میں نے دل میں ٹھان لی کہ پروگرام ختم ہونے سے پہلے ہی میں اپنے ہاسٹل دوڑ جاؤں اور ایسا ہی کیا میں نے ۔چونکہ میری اپنی فیملی جیالوں کی فیملی تھی میں نے ابو کو فون کیا اور پوچھا کہ ابو آپ کوئی ڈاکٹر مبشر حسن کو جانتے ہیں ابو نے کہا کہ کون نہیں جانتا بھٹو کے دور میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور بہت پڑھے لکھے شخص ہیں اقتصادیات پہ کتب بھی انکی شائع ہو چکی ہیں ۔
میں نے اتنا کچھ جاننے کے بعدابو سے کہا کہ اپ واقعی خوش قسمت ہیں آپ کو جوانی میں انسان وزرا ملے جن میں نہ ہی اپنی ثروت مندی اور نہ ہی اپنی علمی بلندی کا غرور تھا۔
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے جب میں دوسری بار ملی تو سمجھا کہ مجھے بھول چکے ہوں گے لیکن انھوں نے اپنی صدارتی کرسی کے ساتھ مجھے کرسی دی اور بہت محبت سے پیش آئے۔ڈاکٹر صاحب سے ہونے والی ہر ملاقات ہی ایک دلچسپ واقعہ کی صورت میں میرے دل میں موجود ہے
ڈاکٹر صاحب انکے بھائ شبر صاحب ،ڈاکٹر مہدی حسن ،انکے بھتیجے حیدر حسن،آنٹی شاہدہ کاظمی کن کن کا نام لوں یہ لوگ وہ گوہر نایاب ہیں جنھیں اللہ نے ایک ہی دھاگے میں پرو رکھاہےیااللہ جو ان میں سے حیات ہیں انھیں صحت کیساتھ لمبی عمر عطا کر اور جو ہمیں داغ مفارقت دے گئے انکی مغفرت فرما الہی آمین۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here