تم بہت بھولے ہو!

محمد اسد شاہ

وہ جنوبی پنجاب کے ایک پس ماندہ علاقے کا نوجوان ہے۔ والد مزدور تھے، چناں چہ گھر چلانے کے لیے اس کی والدہ کو بھی چھوٹی موٹی گھریلو دستکاری پر کام کرنا پڑتا تھا۔ نوجوان کو پڑھنے کا شوق تھا۔ ٹیوشنز وغیرہ پڑھا کر اس نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کر لی۔اس دوران اسے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہاتھوں ایک عدد لیپ ٹاپ بھی مل گیا۔ملک سے باہر جانے اور مزید تعلیم کے خواب اس کی آنکھوں سے چھلکتے تھے۔ لیکن وسائل نہیں تھے۔ اس نے پڑھائی چھوڑی اورایک پرائیویٹ کالج میں ملازمت اختیار کر لی۔ پھر ماموں کی بیٹی سے شادی ہو گئی۔ 2013میں وفاق میں بھی مسلم لیگ (نواز شریف) کی حکومت قائم ہو گئی تو اس نوجوان پر اللہ کا خاص کرم ہوا کہ سکالرشپ مل گیا اور وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک یورپی ملک میں پہنچ گیا۔وہاں جب کبھی وطن کی یاد ستاتی تو وہ لیپ ٹاپ پر پاکستانی نیوز چینلز دیکھتا۔ یہ وہ دور تھا جب تمام چینلز اور بے شمار اینکرز اور صحافی کسی نامعلوم ڈوری سے بندھے نظر آتے تھے۔ عوام کو نواز شریف سے متنفر کرنا، اور سابق کرکٹر عمران خان کو ایک مسیحا بنا کر پیش کرنا جیسے کسی غیبی ہاتھ نے ان کے لیے بقاء کا مسئلہ بنا دیا تھا۔وہ نوجوان بھی اس”میڈیائی جدوجہد“ سے بہت متاثر ہوا۔ جب وہ ایک اور ڈگری کا تاج سجائے وطن واپس پہنچا تو لوگ اس سے علمی باتیں اور یورپ کے حالات پوچھتے۔ لیکن جواب میں وہ ہر ایک کو یہ کہتا کہ پاکستان کو نواز شریف سے نجات دلوانا اس کی زندگی کا مشن ہے ۔

جولائی2018میں اس نے اپنے اہل خانہ کو مجبور کیا کہ وہ اس امیدوار کو ووٹ دیں جس نے ایک ماہ پہلے ق لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف کا ٹکٹ لے لیا تھا۔ امیدوار پر کرپشن کے کئی الزامات تھے لیکن نوجوان کو اب وہ صاف شفاف نظر آ رہا تھا۔ نوجوان کو عمران خان کی ان باتوں پر ایمان کی حد تک یقین تھا کہ جب وہ وزیراعظم بنیں گے تو اپنی ہی پارٹی کے کرپٹ لوگوں کو پھانسیوں پر لٹکادیں گے اور روزگار اتنا عام ہو گا کہ یورپ کے شہری پاکستان میں نوکریاں مانگتے نظر آئیں گے، ملک کے لیے قرض لینے کی بجائے وہ خودکشی کر لیں گے۔ خان صاحب تو وزارت عظمیٰ کی منزل تک پہنچ گئے لیکن اس کے بعد وہ نوجوان روزگار کی تلاش میں ایک سال تک اپنی ملکی و غیر ملکی ڈگریاں اٹھائے لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے چکر کاٹتا رہا۔آخر کار اسی پرائیویٹ کالج میں پناہ ملی جسے یورپ جانے سے پہلے اس نے چھوڑا تھا۔

گزشتہ دنوں مجھے معلوم ہوا کہ اس نوجوان کا گھرانہ کرونا میں مبتلا ہو گیا۔ میں نے خیریت معلوم کرنے کواسے فون کیا تو وہ جیسے آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔اسے اب کرونا پر یقین تھا اور نہ ہی خان صاحب پر۔اس کا خیال تھا کہ اس کے کسی بھی رشتے دار کو کرونا وغیرہ نہیں تھا، بل کہ شاید لوگوں کو زبردستی مریض ظاہر کر کے ڈالرز کمائے جا رہے ہیں۔ میں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ کرونا ایک عالمی وباء ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں، لیکن وہ میری بات سننے کو تیار نہیں تھا۔اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ زرداری دور میں اس کی ایک قریبی عزیزہ کو جو بیوہ اور معذور ہے، ماہانہ 2 ہزار روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ملتے رہے۔پھر نواز شریف دور میں بھی وہ پروگرام جاری رہا، اس کا نام نہیں بدلا گیا، بل کہ ماہانہ رقم 2سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دی گئی۔ لیکن عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی پہلے تو اس پروگرام کا نام بدل کر ”احساس پروگرام“ رکھا، پھر اس کے کارڈ پر تحریک انصاف کا پرچم پرنٹ کرایا۔ چار ماہ تک لوگوں کے پیسے روکے رکھے۔ اس اذیت کے بعد چار ماہ کے12ہزار اکٹھے دے کر تصویریں کھنچوانے پر مجبور کیا گیا۔اسی طر ح نواز شریف کے شروع کردہ ”پاکستان صحت کارڈ“ کا نام بھی بدل کر اپنی پارٹی کے نام پر ”انصاف صحت کارڈ“ رکھ کر اس پر بھی اپنی پارٹی کا پرچم پرنٹ کروانا بہت ضروری سمجھا۔

نوجوان کی جوشیلی تقریر بہت طویل تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سائیکل پر دفتر جانے، کرپٹ ساتھیوں کو پھانسیاں دینے، روزگار عام کرنے، 100دنوں میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، انصاف عام، 200عالمی ماہرین کی ٹیم، پروٹوکول اور قرض نہ لینے، بجلی گیس پٹرول اور آٹا سستا کرنے وغیرہ جیسا سب کچھ دھوکہ تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا حل کیا ہے؟ اس نے فوراً کہا؛ ”نواز شریف“! میں نے اسے یہ یاد دلاناتو مناسب نہ سمجھا کہ وہ نواز شریف سے پاکستان کو نجات دلوانا اپنی زندگی کا مشن قرار دیا کرتا تھا۔ البتہ یہ کہا؛ ”اللہ کے بندے، تم بہت بھولے ہوجو اب بھی یہ سوچتے ہو کہ شاید اس ملک میں حکومتیں بننے اور ٹوٹنے کا عمل تمھاری خواہش پر ہوتا ہے۔ بلا وجہ خود کو اذیت مت دیا کرو۔ خوش رہا کرواور اپنے عزیزوں کو بھی خوش رہنے دیا کرو!

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here