گلتی سڑتی بیوروکریسی

عائشہ صدیقہ

نظام کےلئے کام کریں عوام کی بھلائی کے لئے نہیں

ایک سرکاری ملازم خورشید احمد خان مروت کے 20 جون کو دی نیوزاخبارکے صفحات پر شائع ہونے والے مضمون نے مجھے بیوروکریسی کے ساتھ اپنے تجربے کی یاد دلادی۔

1992 میں ، ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے مجھے اس وقت کے ایک نئے پروبیشنری آفیسر سے ملنا یاد آیا۔ وہ ہمارے محکمہ میں ممکنہ اچھی پوسٹنگ کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ پہلی نظرمیں ہی یہ واضح ہوگیا کہ وہ پیسہ کمانے کے مواقع اور ایک باس کی تلاش میں تھا جو نظم و ضبط کی اتنی پروا نہ کرے۔

میں ریاستی بیوروکریسی میں شامل ہونے کے پیچھے اس کے حقیقی عزائم ظاہرکرنے میں بے باکی دکھانے پرحیرت زدہ تھی۔ میرے 127 افسروں کی کھیپ میں عام طور پر اپنے عزائم جو ہمیشہ پیسہ کماناکے بارے میں نہیں تھے لیکن یقینی طور پرمجبورعوام کی خدمت کرنابھی کسی کامطمع نظرنہیں تھالیکن ان عزائم کے بارے میں ہمارے درمیان خاموش رہنے کی رسم تھی۔

ہماری کھیپ میں سندیافتہ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعدادموجودتھی جن میں سے بعض نے معقول تنخواہیں چھوڑکرابتدائی تنخواہ 2800 روپے وصول کرنا منظورکرلیاتھا اور اس دوران وہ اپنے خاندان کی کفالت بھی کررہے تھے۔سرول سروس اکیڈمی میں تربیت کے دوران ہی یہ آرام سے ہی اندازہ لگایاجاسکتاتھا کہ ان کامطمع نظرپیسہ کماناہے حالانکہ وہ لوگ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔

ان میں بعض افراد ایسے شامل تھے جوغصے کی وجہ سے بیوروکریسی میں شامل ہوئے تھے کیونکہ سندیافتہ ڈاکٹراورانجینئرہونے کے باوجودانہیں سرکاری افسروں کے دروازوں پرانتظارکرایاجاتاتھااوروہ بھی افسروں کوحاصل اختیارات اورطاقت کے حصول کیلئے بیوروکریسی میں شامل ہوئے تھے تاکہ بے اختیار لوگوں پراپنے اختیارکی دھونس جماسکیں۔

ان میں سے بہت سوں کا سماجی رتبہ بلند ہوگیا کیونکہ انہیں شادیوں کی منڈی میں بہتررشتے ملنا شروع ہوگئے۔

یہ بات عجیب نہیں کہ طاقتور سیاسی ، کاروباری ، زمیندار اور فوجی گھرانے بھی اپنے بچوں کو سول سروس میں شامل کررہے ہیں یا پھر ان کی شادیاں سول بیوروکریٹس سے کرواتے ہیں۔

ذاتی طور پر ، میں اپنی والدہ کے مشورے پر بیوروکریسی میں شامل ہوئی تھی جو زمینوں کی ملکیت کے سفاک ماحول میں میرے زندگی بسر کرنے کے متعلق فکر مند تھیں۔ میں نے جس سال امتحان پاس کیا تھا وہ اسی سال انتقال کر گئیں اور اس طرح مجھے اپنی والدہ کے میرے زندگی کے متعلق منصوبے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ میں ایک ایسے خاندان کا حصہ بن چکی تھی جو میرے کیریئر کے راستے سے قطع نظر مجھے تحفظ فراہم کرتا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سول سروس میں اصلاحات نے وسیع پیمانے پر پھیلی ریاستی بیوروکریسی کو ایک بہت بڑے خاندان میں تبدیل کردیا تھا۔ یقیناً آپ کا اس حد تک خیال رکھا جاتا ہے کہ آپ اختیارات کے کھیل میں حصہ ڈالتے ہیں جس کے لئے آپ کوتیار کیا گیا ہے۔ نو ماہ کی تربیت میں سے ایک ماہ فوج کے ساتھ لگایا جاتا ہے تاکہ دوسری بیوروکریسی سے واقفیت حاصل کی جا سکے۔

تاہم بھٹو کی سول سروس اصلاحات کے پیچھے بنیادی اچھا مقصد جس پر بدقسمتی سے عملدرآمد نہیں ہوا وہ سی ایس پی کیڈر کی طاقت کو توڑنا تھا جو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کے پیش رو تھے اور نہ صرف یہ کہ وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے بلکہ سول سروس کی بنیادی خامی ایک ایسا ڈیزائن بنی ہوئی ہے جو پولیس کے مقابلے میں ڈی ایم جی کی طاقت کے گرد گھومتی ہے کیونکہ دونوں میں واضح طور پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کافی صلاحیت ہے۔ سول سروس میں اصلاحات کی متعدد کوششیں کوئی خاص تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں۔

پاکستان کی بیوروکریسی کافی حد تک بہتر تربیت یافتہ ہے اور 1960 کی دہائی سے امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کی غیر ملکی تعلیم کے دوروں سے فائدہ اٹھا رہی ہے تاہم یہ تربیت اورڈگریاں ذہنی صلاحیتوں یا پیشہ ورانہ مہارت میں زیادہ تبدیلیاں نہیں لا سکیں۔ سول سروسز اکیڈمی میں بطور سرکاری ملازمین مشترکہ تربیتی پروگرام میں شرکت کرنے والوں کو کامنر کہا جاتا ہے اور وہ سماجی و سیاسی اور سماجی و معاشی جبلتوں پر چلتے ہیں ۔ اگرچہ انکم ٹیکس اور کسٹمز اور ایکسائز جیسی مالیاتی خدمات انتہائی تکنیکی ہیں لیکن ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ (ایم ایل سی) گروپ کے ساتھ مل کر آسان آمدن کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

اس میں حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ 1990 کی دہائی کے وسط یا آخر میں فارن سروس کے کچھ افسران جو انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ڈیپوٹیشن پر گئے تھے اپنے محکموں میں واپس نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ایسا گروپ جو تھانہ ، کچہری اور پٹوارخانہ میں مدد نہیں دے سکتا یا غیر ملکی ویزا حاصل کرنے میں بھی مدد نہیں کرسکتا ہے خاص طور پر دیہی یا چھوٹے شہر کے متوسط طبقے کے امیدواروں کے لئے جو بڑی تعداد میں میں شامل ہوئے ہیں کے لئے بہت کم اہمیت کا حامل ہے۔

یہاں تک کہ ملک کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں حصہ بننے کے قابل ہونا بھی اب متاثر کن نہیں رہا کیونکہ یہ کام فارن سروس کے افسر نہیں کرتے تو پھر انفارمیشن ، آڈٹ اور اکائونٹس، ریلویز ، ڈاک ، کامرس اور تجارت جیسے گروپوں کو کون اہمیت دیتا ہے؟

برصغیر کی سول بیوروکریسی برطانوی نوآبادیاتی ضروریات کے مطابق تشکیل کی گئی ہے جو بدلتی ہوئی ملکی ضروریات اور اپنی اپنی ریاستوں کے سیاسی تناظر کے تابع تبدیل ہوئی۔ اگرچہ مختلف ممالک میں سول سروس کے اختیارات مختلف ہیں لیکن ریاست کو چلانے کے لئے درکار ضروری اس انسانی مشینری کے اختیارات کے مراکز پر انحصار نمایاں طور پر کیا جاتا ہے۔

لیکن فلپ ووڈرف کی دو جلدوں پر مشتمل”ہندوستان پر حکمرانی کرنے والے لوگ“ پڑھنے سے ایسے دانشورانہ قابلیت کے حامل، مہم جوئی کے جوش اور عیسائیت کی تبلیغ کے جذبے کا احساس ہوتا ہے جو جدید ہندوستان کے معمار تھے۔ محافظوں کی اگلی نسل نے مقامی لوگوں کو ایک ساتھ چلانے کے لئے درکار قوانین اور اصولوں کو تیار کرنے کے لئے سخت محنت کی۔ وہ سفاک اور حالات کے مطابق چلنے والے تھے ، انہوں نے پڑھا اور تخیل سے کام لیا اور نئی دریافتیں کیں کیونکہ سلطنت ان پرانحصار کرتی تھی۔

اگرچہ برطانوی قوانین زیادہ تر اسی طرح برقرار رہے اور ’ مقامی لوگوں‘ کے ساتھ رویہ بھی وہی رہا لیکن

بیوروکریسی کا فکری معیار تبدیل ہوگیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سول سروس اکیڈمی میں اگر کوئی روزانہ اخبارات یا کتاب پڑھتا ہوا پکڑا جاتا تو اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا کہ وہ زیادہ اختیارات والے گروپ میں جانے کے لئے دوبارہ امتحانات کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ سول سروس اکیڈمی یا اعلیٰ تربیت کے دیگر اداروں میں تربیت کے دوران کتابیں پڑھائی جاتی ہیں لیکن ذہنی فکر کو بلند کرنے کے لئے ضروری دانشورانہ مصروفیات شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں مفکرین پیدا نہیں ہوئے۔ اگرچہ مختار مسعود اور شیخ منظور الٰہی جیسے لوگوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن انتظامیہ ، سیاست یا حتی کہ سابقہ بیوروکریٹس کی لکھی ہوئی خارجہ پالیسی سے متعلق معنی خیز کتابیں بہت ہی کم ہیں۔

یہاں بھی یہ مسئلہ انفرادی بیوروکریٹس کا نہیں ہے بلکہ ایک سماجی و سیاسی نظام ہے جو گہری سوچ کی قدر نہیں کرتا ۔ جنرل (ر) عتیق الرحمن جو شاید فیڈرل سروس کمیشن کے سب سے بہترین چیئرمین تھے، کے بعد بہت سوں نے معیار کو مزید گرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جنرل ضیا الحق کے مقرر کردہ فیڈرل سروس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ایڈمرل (ر) محمد شریف جو پست ذہنی اور فکری صلاحیتوں کے باعث جانے جاتے ہیں کا نام ایف پی ایس سی کا معیار نیچے گرانے والوں کے زمرے میں خصوصی طور پر بتانے کی ضرورت ہے۔ انٹرویو نیلام گھر کی طرح کئے گئے تھے جو امیدواروں کو دعائے قنوت کی تلاوت کرنے کے لئے کہا جاتا یا بنیادی عمومی سائنس کے سوالات پوچھے جاتے تھے۔

سول سروسز اکیڈمی سے باہر نکلتے وقت تک اگر کسی کے جذبے اور آئیڈیلزم باقی بچے ہوتے تو اکثریت کو کچھ ہی وقت میں اس حقیقت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ختم کرنا پڑتے ، خاص طور پر جب نوجوان افسران ایسے نظام میں زندہ رہنے کی حقیقت کا مقابلہ کرتے ہیں جو خود ہی کئی عشروں کی سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ آخر میں بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ اس نظام کے لئے کیا کام کرتے ہیں نا کہ عوام کی بھلائی کے لئے کوئی بہتری کا کام کریں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here