عمران کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی حقیقتوں میں تصادم

حسین حقانی

شاہ محمود قریشی کے بیان نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا

  کشمیرپر تنظیم اسلامی کانفرنس (او آئی سی) کے غیر معمولی اجلاس کی طلبی کے لئے  پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کوغیر معمولی الٹی میٹم سے  ریاض کے ساتھ عمومی طور پر خوشگوار تعلقات کو خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔ قریشی نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب کی زیرقیادت او آئی سی اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہی تو پاکستان او آئی سی کے بغیر بھی اجلاس بلانے کے لئے تیار ہے۔ 

سعودی عرب کے حاکم اس قسم کی دھمکیوں سے صرف نظر نہیں کریں گے اور انہیں مزید غصہ اس بات پر ہو گا کہ دھمکیاں بھی وہ  ملک  دے رہا ہے  جو اس شاہی خاندان کی حکومت سے اکثر مالی امداد لیتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں پاکستان کے لئے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ کی ادائیگی میں مدد کرنے سے لے کر دو سال قبل ادائیگیوں کے توازن پر قابو پانے میں مدد فراہم کے لئے 6 ارب ڈالر کے قرض تک ہرمشکل وقت میں سعودیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔

 تارکین وطن پاکستانی مزدوروں کو سب سے زیادہ ملازمتیں سعودی عرب نے دی ہوئی ہیں اور اس طرح ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ کچھ پاکستانی رہنما سعودیوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مساجد اور مدارس کی مالی اعانت کے ذریعے ملک میں بنیاد پرستی اور اسلام پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں  ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے سعودی معاشی تعلقات نے ایسے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا ہے جو عالمی امورکو ہندوستان اورپاکستان کے تناظر میں دوست یا دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی تعلقات کی کچھ بنیادی  حقیقتوں کو سمجھنے میں دشواری  ہے۔ دونوں ممالک کے مابین روایتی تعلقات کی وجہ سے موجودہ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے 2007 میں یہ تبصرہ کیا تھا (وکی لیکس کے ایک لیک کیبل کے مطابق) کہ  ہم سعودی عرب  والے  پاکستان میں مبصر نہیں بلکہ اس میں شراکت دار ہیں۔

  پاکستان خود کو پیداواری معیشت بنانے میں ناکام رہا ہے اس کی وجہ سے سعودی عرب کے ساتھ اس کی باہمی تجارت 3.6 ارب ڈالر ہے۔ دوسری طرف بھارت کے ساتھ سعودی تجارت بڑھ کر27 ارب ڈالر ہوگئی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب والے پاکستان کو امداد  لینے والا ملک سمجھتے ہیں جسے براہ راست بجٹ کے لئے رقم، موخر ادائیگی کی بنیاد پرتیل اورغیر ہنر مند کارکنوں کے لئے کئی لاکھ نوکریوں کی شکل میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے لئے ہندوستان ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

اس بے جوڑ تعلق کی حقیقت کے پیش نظرپاکستان میں ایک کے بعد آنے والی دوسری حکومت نے اس شاہی حکومت کے ساتھ عاجزانہ رویہ رکھا۔ لیکن عاجزی یا شکرگزاری وزیر اعظم عمران خان کی عوامی حکومت کے بنیادی بیانیہ کے برعکس ہے۔ اس بیانئے کے مطابق پاکستان دنیا کی واحد مسلم جوہری طاقت ہے اورمسلم دنیا کی رہنمائی کرنا اس کا حق ہے اوراس وجہ سے دوسرے مسلم ممالک کو اس کی حمایت کرنا چاہئے۔

خان پاکستانیوں کو بتاتے ہیں کہ خواندگی اورسکولوں میں داخلہ کی کم شرح کے باوجود وہ عظیم قوم ہیں جنہیں صرف ناقص قیادت نے ہی پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ اب جب کہ انہیں خان کی صورت میں ایک “ایماندار رہنما” مل گیا ہے پاکستان بھارت سے بدلہ لے سکتا ہے، کشمیرکو آزاد کرا سکتا ہے اور عالمی سطح پروہ مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا یہ عظیم ملک حقدار ہے۔

اس بڑھک بازی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو باہمی مفادات کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے اور اپنےعظیم رہنماعمران خان کی زیرقیادت پاکستان یہ ایجنڈا طے کرے گا کہ دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کریں۔

اس طرح کی شان و شوکت والی باتیں بہت سے پاکستانیوں کو اچھی لگتی ہوں گی لیکن پاکستان سے باہر اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اس کے نتیجے میں پچھلے دو سالوں میں پاکستان کے سفارت کارعالمی رہنماؤں کی منت سماجت کر رہے ہیں جب کہ خان اور ان کے وزرا دنیا کے دارالحکومتوں میں غم و غصہ اورغلط فہمیوں کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

 شاہ محمود قریشی کی طرف سے برسرعام کی جانے والی توہین کا سعودی عرب کی طرف سے فوری ردعمل یہ ہے کہ ریاض نے مختصر مدت کی بنیاد کے لئے دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگ لیا ہے اورادھار تیل کی فراہمی کے  معاہدے کی تجدید  کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سعودی قرض کی واپسی شروع کرنے کے لئے پاکستان نے چین سے ایک  ارب ڈالر قرض لیا جو زید کو ادائیگی کے لئے بکر سے قرض لینے کی ایک عمدہ مثال ہے۔

 اب یہ کچھ وقت کی ہی بات ہے کہ پاکستانی حکام عمران خان اور قریشی کو سعودی عرب پر پاکستان کے انحصار اور چین کی طرف سے مزید رقم دینے کا نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ اگرچہ چین پاکستان کو قرض کی صورت میں مزید نقد رقم دے سکتا ہے اور ملک پر اپنا اثر مضبوط کرسکتا ہے لیکن اس کے پاس تیل کی رسد کو برقرار رکھنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔

  یہ حیرانی کی بات نہیں ہوگی کہ اگر خان اپنے وزیر خارجہ کی سعودی عرب کے بارے میں سخت باتوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ سیاست ، معیشت ، خارجہ تعلقات ، صحت عامہ اور یہاں تک کہ کھیلوں سے متعلق اپنی پہلے کہی ہوئی باتوں سے مکر جانے کی وجہ سے انہیں یوٹرن خان سمیت متعدد ناموں سے جانا جاتا ہے۔ ایک بارانہوں نے اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانے کی صلاحیت کو عظیم قیادت کا خاصہ  قرار دیا تھا۔

بدقسمتی سے موقف تبدیل کرنے کی وجہ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہونے کی بجائے خان کا انا پرست ہونا، کمزور اور ناقابل اعتماد ہونا ہے۔

اگر ہم ان کی کورونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نظر ڈالیں تو ملک کو متحد کرنے اور بحران پر قابو پانے کے لئے قومی حکمت عملی اپنانے کی بجائے خان نے اپنے قول و فعل سے عوام میں الجھن پیدا کی۔ ابتدائی طور پر  انہوں نے اس وائرس کو عام زکام قرار دیا تھا جس سے 97 فیصد لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور صرف بزرگ اور کمزور لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ان کے اس بیان کی بعد میں ان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تردید کی۔ اس کے نتیجے میں مختلف صوبوں میں مختلف قسم کے لاک ڈاؤن ڈاؤن ہوئے لیکن قومی لاک ڈاؤن نہیں ہوا۔

وزیر اعظم بننے سے پہلے خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے کوئی قرض لئے بغیرمعیشت میں بہتری لائیں گے۔ انہوں نے سابق حکومتوں کے ذریعہ اپنایا ہوا محاورہ “بھیک مانگنے والا کشکول” سنڈروم ختم کرنے کا وعدہ کیا اور یہ بھی بڑ ماری تھی کہ وہ سپر پاورز کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود کشی کوترجیح دیں گے۔

تاہم اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے بھی کم وقت میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا پیکیج مانگا اوراپریل 2020 میں پاکستان نے آر ایف آئی (ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ) کے تحت آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی درخواست کی۔ مزید یہ کہ پاکستان نے خلیجی ممالک ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے دوست ممالک سے پیسہ لیا۔ یہ سب یقیناً چین کے بڑے قرضوں کے علاوہ ہیں۔

خان وہ شخص ہیں جنہوں نے اکثرامریکی پالیسیوں کے خلاف بیانات جاری کئے، امریکہ مخالف مظاہروں میں حصہ لیا جن میں  افغانستان جانے والے نیٹو کے ٹرکوں کوروکا گیا اور خود کو ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو واشنگٹن کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ پھر جولائی 2019 میں وہ مسکراتے ہوئے پاکستان کے لئےامریکی فوجی اورمعاشی امداد کے حصول کے لئے پہنچ گئے۔

 حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے انہوں نے اس وقت کی حکومتوں چاہے  پی پی پی برسراقتدار تھی یا مسلم لیگ (ن) تھی، حکومت کو کام کرنے سے روکنے کے لئے بڑے پیمانے پرمظاہروں کا استعمال کیا ۔ مگر گذشتہ دو سالوں کے دوران جب سے خان اقتدار میں آئے ہیں وہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے کسی بھی احتجاج پر چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستان کو چلانے کے لئے نئے چہرے لانے کا وعدہ کرتے ہوئے خان نے بھی دراصل اسی پرانی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ ٹیکنو کریٹس اور سدا بہار سیاستدانوں کو ساتھ ملا لیا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ  دعوے کرتے ہوئے کہ صرف نئے چہرے ہی پارٹی کا حصہ ہوں گے انتخابات سے چند ماہ قبل انہوں نے اپنی پارٹی میں بہت سے نام نہاد “الیکٹ ایبلز” (لوٹوں) کا استقبال کرنے کی کوئی عار محسوس نہ کی۔ یہاں تک کہ خان نے یہ کہتے ہوئے اس پالیسی کا دفاع کیا کہ “انتخابات جیتنے کے لئے لڑے جاتے ہیں۔ آپ اچھا بچہ بننے کے لئے الیکشن نہیں لڑتے۔ میں جیتنا چاہتا ہوں. میں یورپ میں نہیں پاکستان میں الیکشن لڑ رہا ہوں۔ میں یورپی سیاستدانوں کو درآمد نہیں کرسکتا۔

معروف ماہر معاشیات عاطف میاں کو اپنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن کے طور پر لانے کے وعدے کے بعد خان نے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے عاطف میاں کے احمدی عقائد کے خلاف احتجاج  پرعمران اپنی بات سے پھر گئے ۔ ایک سال کے اندر ان کے منتخب کردہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو وعدے کے مطابق معاشی اصلاحات کرنے میں ناکام رہنے پرعہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف شور مچانے والے خان نے اقتدار میں آنے کے بعد زلفی بخاری اور پرویز خٹک جیسے قریبی دوستوں کو حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں ان کے خلاف مقدمات زیرالتوا ہیں۔  خان پر بھی بنی گالا کی رہائش گاہ کی تعمیر میں غیرقانونی تجاوزات کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور اسے باقاعدہ بنانے کے لئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔ وہ چاہے یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ وہ اور ان کا خاندان بدعنوان نہیں لیکن ان کی بہن علیمہ خان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ امریکہ اور برطانیہ میں بے نامی جائیدادوں پر 29.4 ملین روپے ٹیکس اور جرمانے ادا کریں۔

2010 میں خان نے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دی گئی تین سالہ توسیع پر تنقید کی تھی۔ تاہم انہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دینے میں کوئی پریشانی نہیں تھی،اس مقصد کے لئے انہوں نے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے 1952 کے پاک فوج ایکٹ میں ترمیم کی۔

خان اور ان کے مشیر انتخابات سے قبل اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ پہلے والوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے اوراس کی بجائے تمام سرکاری رہائش گاہوں کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کریں گے۔ مزید یہ کہ وہ  پروٹوکول  نہیں لیں گے،سائیکل پر دفتر آیا کریں گے، بیرون ملک سفر پررقم ضائع نہیں کریں گے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔

خان نہ صرف بڑی سرکاری رہائش گاہ میں مقیم ہیں ،ایک ہیلی کاپٹر بنی گالہ میں ان کی نجی رہائش گاہ سے سکریٹریٹ لاتا اور لے جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی 90 دنوں میں خان نے پانچ بیرونی دورے کئے (دو سعودی عرب ، اور یو اے ای ، چین اور ملائشیا کا ایک ایک دورہ کیا)۔  چھوٹی کابینہ رکھنے کے اپنے وعدے کے برعکس ان کی کابینہ میں 50 (20 نہیں) ارکان شامل ہیں اور خان قومی اسمبلی کے صرف 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کرسکے ہیں۔

یہاں تک کہ اس کا اقلیتوں کے حقوق کا حامی ہونے کا دعوی بھی وقت کے امتحان میں سچا ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کی حکومت اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کی اجازت دے گی لیکن مذہبی لابی کے مشتعل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے کو بدل دیا اور اس کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشورہ مانگ لیا ہے۔

تمام سیاستدانوں کو حالات کی بنیاد پر پالیسیاں ایڈجسٹ یا موافق کرنا  پڑتی ہیں۔ سیاسی رہنما اکثر انتخابی مہم کے دوران نعرے لگاتے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں  یہ صرف ووٹ حاصل کرنے  کے لئے لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم خان جس رفتار سے یو ٹرن لیتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ملکی اور بین الاقوامی دونوں اہم  معاملوں میں سمجھ کا فقدان  ہے اور وہ یہ بات سمجھنے میں بھی ناکام ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کی ان باتوں سے اکیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here