آزادی کی قیمت


تحریر : کاشف نعیم بی اے

تقسیم ہند کا بنیادی محرک مسلمانان ہند کی وہ عظیم تحریک تھی جو انہوں نے برصغیر میں ایک الگ وطن قائم کرنے کے لئے شروع کی تھی جس کے لئے انہوں نے مسلم لیگ کا پلیٹ فارم استعمال کیا اور یوں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان ہند کا خواب 14اگست 1947ء کی شب اس وقت پورا ہوا جب 27 رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں تھیں ۔ ہر سال ملک بھر و دیگر ممالک میں جہاں جہاں پاکستانی رہتے ہیں 14 اگست کو یوم آزادی پاکستان بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے مگر بہت کم ان شہداء یا متاثرین کو یاد کر پاتے ہیں جنہوں نے اس آزادی کی قیمت ادا کی ۔ قیام پاکستان کے اعلان کے فوری بعد شمالی ہندوستان کے طول و عرض میں فسادات اس شدت سے پھوٹ پڑے جس نے انسانی و اخلاقی قدروں کو اس طرح پامال کیا کہ اس سے آج بھی انسانیت شرماتی ہے ،تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایسے کئی دلخراش واقعات سامنے آتے ہیں جس سے آزادی پاکستان کی قدرواہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ایک خاتون بیان کرتی ہیں کہ جب ہمارے والد نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا تو عین ہماری روانگی کے وقت مسلح جتھے وہاں پہنچ گئے اور چشم وزدن میں تمام مردوں کو تہ تیغ کر ڈالا ، نوجوان لڑکیوں کو ان کی مائوں کے سامنے اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایا میرا معصوم بھائی باقی بچوں کے ساتھ ڈرا ہوا کھڑا تھا جب اس نے چند حیوانوں کو میری طرف بڑھتے دیکھا جن پر میری منت سماجت کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا تو وہ بھاگ کر میرے سامنے آ کھڑا ہوا اور میرے آگے ڈھال بن گیا تبھی ایک منحنی سے ہندو نے اپنی کلہاڑی کا زور دار وار اس کی گردن پر کیا جس سے اس کا سر تن سے جدا ہو کر دور جا گرا اس پر اس ظالم نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہاری گردن اتنی کمزور ہے تو اپنی کلہاڑی تمہارے گندے خون سے بھرشت (ناپاک ) نہ کرتا اب مجھے اپنی کلہاڑی گنگا جل سے دھو کر پوتر کرنی پڑے گی اس کے بعد تمام بوڑھی عورتوں کو قتل کرنے کے بعد تمام لڑکیوں کو ایک حویلی میں لے جایا گیا جہاں ایک لمبی قطار باری باری سب کا جسم نوچنے کے لئے منتظر کھڑی تھی نئے آنے والے قطار کے آخر میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہو جاتے اس عمل میں زندہ بچ جانے والی چند بد نصیبوں میں میں بھی شامل تھی اس کے بعد میں ایک کے بعد دوسرے ہاتھوں میں پہنچتی رہی آخر سوہن سنگھ نے مجھے اپنے گھر ڈال لیا اور شادی بھی کر لی سات سال بعد سورگباش ہوا تو اس کے چھوٹے بھائی مہندر سنگھ نے مجھ سے بیاہ کر لیا ضلع ہشیار پور کا ایک لرزہ خیز واقعہ بھی سن لیجئے !
چوک سراجاں پر جتھوں کے حملے کی یہ دوسری رات تھی حملہ آوروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا پہلے روز پچاس مسلمان شہید ہوئے اور دوسرے روز ساٹھ ، مسلمانوں کا کم تعداد میں ہونے کے باوجود عزیمت اور جوش قابل دید تھا بزرگ اور نوعمر بھی میدان میں اترنے لگے دست بدست لڑائی ہو رہی تھی ،ایک مسلمان گرا اور خون کے فوارے پھوٹ پڑے اس جوان کا گھر میدان جنگ کے بالکل سامنے تھا گھر کا ایک چھوٹا بچہ کسی طرح یہ منظر دیکھ کر ابا ابا کہتا ہوا دیوانہ وار ہندووں اور سکھوں کی طرف بھاگا ، ایک سکھ نے اسے دبوچ لیا اور ہوا میں اچھال دیا دوسرے نے نیچے سے نیزے پر اس کو لے لیا ، بچے کی چیخیں اس قدر دلدوز تھیں کہ آسمان تک لرز اٹھا اس نے تڑپ تڑپ کر نیزے کی انی پر ہی جان دے دی ۔
اللہ تعالی ہمیں جشن آزادی منانے کے ساتھ ساتھ آزادی کی قیمت ادا کرنے والوں کو بھی یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here