باجوہ کا دورہ سعودی عرب اور عثمانی سلطنت

تحریر : سابق سفیر حسین حقانی

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دو شراکت دار ممالک کے مابین پیدا ہونے والی حالیہ رنجش کو ختم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ریاض اور اسلام آباد کے مابین اختلافات اس وقت سامنے أئے تھے جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الٹی میٹم دیا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس طلب کرے۔

پاکستان برسوں سے اقتصادی بیل آؤٹ اور غیر ہنر مند مزدوروں کے لئے ملازمتوں کہ جن سے ملنے والی ترسیلات زر پاکستان کے ادائیگیوں کے عدم توازن کے دیرینہ مسئلے سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتی ہیں کے سلسلے میں سعودی عرب پر انحصار کرتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن اب ناراضی کی وجہ سے سعودی عرب قلیل المدتی قرضوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کررہا ہے

اور تیل کے معاہدے کی تکمیل کے سلسلے میں بھی گرم جوشی کا اظہار نہیں کر رہا جس کے تحت پاکستان کو رعایتی شرائط تیل مل رہا تھا۔

تعلقات میں تناؤ کم کرانے کے لئے جنرل باجوہ کی مداخلت اس احساس کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان سعودیوں کو چھوڑنے کا متحمل نہیں ہے۔ پھر قریشی نے کیوں سعودی مخالف بیان بازی کی جس پر قائم نہیں رہا جا سکتا تھا؟

اس بات کو سمجھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کی حد سے بڑھی سادہ لوحی اور بہت سے پاکستانیوں کی خام خیالی کو سمجھنا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ بدلے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کی حیثیت مرکزی ہے۔

کئی دہائیوں سے خصوصاً 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے سٹرٹیجک امور سے متعلق ریٹائرڈ پاکستانی جرنیل اور سویلین لکھاری جنوبی اور وسطی ایشیا میں’’ نئی گریٹ گیم ‘‘ کی بات کر رہے ہیں جو پاکستان کو خطے میں سیاسی محور بنا دے گی۔

یہ تصور برطانوی ماہر جغرافیہ ہالفورڈ میکندر کے نظریہ ہارٹ لینڈ سے لیا گیا جو 1904 میں پیش کیا گیا تھا جس وقت پاکستان کا وجود بھی نہیں تھا، امریکہ ابھی ایک سپر پاور نہیں بنا تھا اور ایئر پاور یا سیٹلائٹ اور سائبر ٹکنالوجیوں کے فوجی استعمال کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

افغانستان میں پاکستان کی نائن الیون سے قبل مداخلت، غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے طور پر جہادی عسکریت پسندوں کی حمایت اور چین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات پاکستان کے سٹریٹجک مقام کا فائدہ اٹھانے اور عالمی افق پر اسے ایک بڑا کھلاڑی بنانے کی عظیم حکمت عملی کے حصے کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔

بعض امریکی اسے بڑا سراب قرار دے کر مسترد کرتے ہیں خصوصاً نائن الیون کے بعد جب پاکستان کو ایک بار پھر امریکہ کا اتحادی بننے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کے معاشی مسائل اور بیرونی طاقتوں پر اس کے مستقل انحصار کے باوجود پاکستان کے ناگزیر ہونے کا نظریہ پاکستانیوں میں برقرار ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے جلد ہونے والے انخلا، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے امکان اور معاشی طور پرمضبوط چین سے وابستگی سمیت کئی عناصر نے مل کر اس نظریہ کو تقویت دی ہے کہ پاکستان عالمی انتظام میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پرابھرے گا۔

اس تناظر میں عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کے زوال اور چین کے عروج سے پاکستان کو فائدہ ہو گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی وجہ سے شاید پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس نے پاکستان اورچین کو مجبوری کےبندھن میں باندھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک میں بھارت دشمنی کی قدر مشترک ہے لیکن بھارت کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایک جارح اور آمریت پسند چین کے ساتھ جلد ہونے والی اپنی محاذ آرائی میں ایک حلیف سمجھتے ہیں۔

پاکستان کی ناگزیر سٹریٹجک اہمیت کا یقین رکھنے والوں کو امید ہے کہ افغانستان کے بعد امریکہ مشرق وسطی سے بھی آہستہ آہستہ نکل جائے گا۔ ان کے خیال میں اس کے بعد پاکستان مشرق وسطی سے چین کے رابطے کے طور پر کام کرے گا جس سے مشرق وسطی کے تیل کو نکالنے اور خلیج کے بحری جہازوں کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کو ٹھیکیدار کا کردار مل جائے گا۔

اس کے بعد پاکستان افغانستان پر بالادستی کے اپنے پرانے خوابوں کو پورا کر سکے گا، ہندوستان کےساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اپنی شرائط پر حل کر سکے گا اور مسلم دنیا کے قدرتی رہنما کا کردار ادا کر سکے گا اور واحد جوہری طاقت کے طور پراپنا صحیح مقام بنا سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور ان کے حواریوں سمیت متعدد بااثر لوگوں نے اس طرح کی من گھڑت سوچ پر یقین کر رکھا ہے۔ پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ اور مستقل اسٹیبلشمنٹ میں ان کے اتحادی اس قسم کے تصورات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مزید مثبت قومی بیانیہ بنانے میں مدد ملے گی۔لیکن امیدوں اور حقیقت کے مابین پائے جانے والے فرق کو سمجھنے میں وہ شاید کچھ زیادہ ہی عملیت پسند ہیں۔

ان دنوں  پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز پر بیٹھ کر تجزیئے کرنے والے ماہرین کی اکثریت چین ،روس ، ایران اور پاکستان کےاتحاد میں اس ملک کے آئندہ اہم کردار کا خصوصی تذکرہ کرتے ہیں جس کا مقصود امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کو شکست دینا ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر نے  پانچ ممالک کے اتحاد کے بارے میں بات چیت کی حوصلہ افزائی کی اور اس متنوع گروہ میں تعاون کی راہ میں رکاوٹ بننے والے مختلف امور کو یکسر نظر انداز کر گئے۔

کوویڈ کے بعد کے نئے عالمی نظام کے بارے میں کسی پاکستانی اخبار میں ایسے مضامین کی اشاعت کوئی غیر معمولی بات نہیں جو پاکستانی اسلامی پسندوں کے خوابوں پر مبنی ہو گا۔

پاکستان میں اس قسم کی بیان بازی ترکی کے اسلام پسند صدر رجب طیب اردوان کے عثمانی دور کے احیا کی بڑ سے مختلف نہیں جو ترکی کی اس وقت کے کمزور معاشی حالت کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔

عمران خان اردوان کے بہت بڑے پرستار ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت کے مسائل کا حل پین اسلام ازم کو سمجھتے ہیں۔

پاکستان نے ایک طویل عرصے سے پین اسلام ازم کے راستے پر سفر شروع کیا ہوا ہے لیکن یہ اس قوم کے شناخت کے بحران سے نمٹنے کا ایک ذریعہ تھا جو صرف 73  سال پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس سے کچھ ہی عرصہ قبل ہی اس کا تصور کیا گیا تھا۔

زیادہ تر پاکستانی رہنما اسلامی اتحاد کی حدود کو سمجھتے تھے اور معاشی اور سلامتی وجوہات کی بنا پر مغرب سے اتحاد کرتے رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اپنی ہی بیان بازی پر یقین رکھتے ہیں ۔

 کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان نے پاکستانیوں سے ایک ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھنے کے لئے کہا جو غالباً عثمانی خاندان کے بانی عثمان کے والد کی زندگی پر مبنی ہے۔ ارطغرل کے بارے میں تاریخی ریکارڈ بہت کم ہے لیکن اس شو کے پروڈیوسروں اور کہانی لکھنے والوں نے چند خاکہ نما تاریخیحوالوں کو ایک 150 اقساط کے ڈرامے کی شکل دے دی۔

اس ڈرامے کے ہیرو کو ایک عظیم مسلمان جنگجو کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بیرونی دشمنوں اور اندرونی غداروں پر قابو پانے کے ابتدائی مرحلے میں فاتح بن کر سامنے آتا ہے جس کو اردوان نے ایک بار جاری ہلال اور صلیب کے درمیان کشمکش قرار دیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اردوان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں جو ان سے بھی بڑھ کر سوچتے ہیں کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف اپنی لڑائیاں جیتنے کے علاوہ مغرب کو نیچا دکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

کسی کو عمران خان کے مغرب پسندی کے ظاہری حلیئے سے دھوکا کھاتے ہوئے بے وقوف نہیں بننا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا ان کی زبان کی لغزش تھی۔

یہ ایسے عالمی منظر نامے کی عکاسی ہے جسے پاکستانیوں میں بہت حمایت حاصل ہے۔ اس پس منظر میں عمران خان اور ان کے پیروکار سعودی عرب کے موجودہ رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی اسلام پسند نیو عثمانی خیالی دنیا جسے وہ چین کی مدد سے بنانے کی امید باندھے ہوئے ہیں کا حلیف نہیں سمجھتے۔

سعودی اب اسلام پسند اخوان المسلمون کی مخالفت کر رہے ہیں ، ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں  اور اسرائیل بلا سوچے سمجھے مخالفت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

یہ بات عمران خان کو اتنا ہی پریشان کرتی ہے جتنا اس سے اردوان ناراض ہوتے ہیں۔

پاکستان کی لین دین کی ضروریات کی وجہ سے خان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہیں بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی کے لئے عارضی طور پر اپنا امریکی مخالف لبادہ اتار دیا تھا۔لیکن ان  کے بیشتر حامیوں کی طرح خود ان کے اپنے دل میں ایک ایسے عالمی نظام کی خواہش ہے جس میں چین دنیا پر بالادستی رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر پھلتا پھولتا رہنے دیتا ہو۔

چین کے ایغوروں  کی حالت دیکھ کر پاکستان کے أرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر جہاد کرنے والے جہادیوں کو چین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برداشت کے متعلق کم از کم ایک دو باتیں سمجھ أ ہی گئی ہوں گی۔  

لیکن ابھی تک  خان کی آنکھیں بند ہیں اور وزیر خارجہکی شان و شوکت عروج پر ہے۔ دریں اثنا حقیقت کا تقاضا ہے کہ جنرل باجوہ نقصان کو کنٹرول کرنے کے مشنوں میں اسی طرح مصروف رہیں جس طرح وہ ریاض جا رہے ہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here