باجوہ فیملی کی بزنس ایمپائر عاصم باجوہ کی فوجی عہدوں پر ترقی کے ساتھ پھیلی

عاصم کے کمانڈر سدرن کمانڈ بننے کے بعد انکے بیٹوں نے باکمال ترقی کی

پہلے امریکہ اور پھر پاکستان میں باجوہ خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلائو اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔ فیکٹ فوکس کی چار مختلف حکومتوں کی سرکاری دستاویزات پر مبنی رپورٹ۔

جنرل (ر) عاصم باجوہ آج کل چین کے تعاون سے چلنے والے بہت بڑےانفراسٹرکچر کے منصوبے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے چئیرمین اور وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ہیں۔

عاصم باجوہ کے بھائی نے امریکہ کی معروف فوڈ چین پاپا جونز کے پہلے ریسٹورنٹ سن دو ہزار دو میں قائم کیے۔ اسی سال جنرل (ر) عاصم باجوہ کی جنرل پرویز مشرف کے اسٹاف آفیسر کے طور پر تعیناتی ہوئی۔

ندیم باجوہ، جنہوں نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ میں بطور ڈیلیوری ڈرائیور کیا تھا، اب ان کے بھائیوں اور عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں نناوے کمپنیاں اور ایک سو تیتیس فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، جن کی موجودہ مالی حثیت تقریبا چالیس ملین ڈالر (چھ سو ستر کروڑ پاکستانی روپے)، ہیں۔

مزید پڑھنیں کے لئے یہاں کلک کریں

باجوہ فیملی کی بزنس ایمپائر عاصم باجوہ کی فوجی عہدوں پر ترقی کے ساتھ پھیلی

تبصرے

9 تبصرے

  1. چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈور(CPEC)،غالباًاٹامک پرروگرام کے بعد دوسرا منصوبہ ہے جس پر من حیث القوم ہم متفق ہیں سوائے معدودے چند گندے انڈوں، مغرب کی ھڈی بھبھورنے والی NGOS, ساڑھے تین سو ملین ڈالرز امریکہ سے حرامخوری کرنے والے میڈیا ھاؤسز ، بشمول جنگ،جیو، ڈان وغیرہ۔
    اب ہر کوئی،ناقبت اندیش، جیو پولیٹیکل حالات سے بالکل نابلد مگر دلیر،مشہور ماہرِ طبیعیات پروفیسرڈاکٹر ھود بھائی نہیں ہوتا کہ اسلام آباد میں رہتے ہوئے،کُھل کر جوھری بم کی مخالفت کرے

  2. یہ جیو جنگ کے زنخے “ روندی یاراں نوں، لے لے ناں بھراوں” کے مصداق، براہ راست CPEC کی مخالفت کی جرات و ھمت نہیں کر سکتے، اسی لئے”لحمِ خنزیر” کو حلال کرنے کے لئے، منصوبے سے جُڑے افراد مگر دراصل پاک فوج پر تبرأ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے

  3. “سی پیک” کی امریکی مُخالفت بالکل سمجھ آنے والی بات ہے”Green back” یعنی امریکی ڈالر کہ جسکی backing کیلئے،دُوسری کرنسیوں کے برعکس،سونے و چاندی کی ضرورت نہیں بلکہ امریکی حکومت کی سپورٹ ہی اِسکی credibility مانی جاتی ہے۔ کرنل قذافی نے افریکی ممالک کو ساتھ ملا کر،ڈالر کی جگہ”گولڈ کرنسی”کو متعارف کروانے کی کوشش کی،اِس “جُرم” کی پاداش میں نہ صرف،قذافی کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا بلکہ انتہائی متمول و پُرسکون لیبیا کے حصّے بخرے کر دئیے گئے۔
    ۲۰۲۵ء میں،چین کی سب سے بڑی معیشت بننے کے خدشے،بے شمار ممالک کی CPEC میں دلچسپی اور ڈالر کی بجائے کسی اور کرنسی میں تجارت، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے سوھانِ روح(Nightmare) بنی ہوئی ہے۔ “ھندو”ستان اِس میں امریکی بغل بچے و بچے جمہورے کا کِردار ادا کر رہا ہے اور “بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” کے مصداق ، جنگ و جیو کے بد کردار و کرپٹ اور امریکی “کرائے کے ٹٹو “ کو بچانے کے لئے، بے ضمیر صحافی ، CPEC کی آڑ میں، اپنی کمین گاہوں سے،پاک فوج پر حملے کا کو موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے

  4. اب ضمیر فروش میر شکیل الرحمن کو نہ صرف54 پلاٹس کی ناجائز الاٹمنٹ بلکہ سرکاری گلیوں پر قبضے کے جُرم میں، قید کئے جانے پر ، کُچھ تو دُھول اُڑانی ہے اور دوسرے مُبینہ جرائم پر ،پردہ ڈالنا ہے کسی شاعر نے اسی قماش کے لوگوں کے لئے کہا ہے
    روٹی تو بہر طور کما کھائے مچھندر

  5. اب ضمیر فروش میر شکیل الرحمن کو نہ صرف54 پلاٹس کی ناجائز الاٹمنٹ بلکہ سرکاری گلیوں پر قبضے کے جُرم میں، قید کئے جانے پر ، کُچھ تو دُھول اُڑانی ہے اور دوسرے مُبینہ جرائم پر ،پردہ ڈالنا ہے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here