صوبہ سرائیک ؟

محمد اسد شاہ

وطن عزیز جس انتظامی و سیاسی بحران میںمبتلا ہے، وہ کوئی آج کی بات نہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے پیدائش کے ساتھ ہی اس ملک کی جڑوں میں کوئی ایسی خرابی کسی نادیدہ قوت نے رکھ دی، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ کسی کوسجھائی نہیں دیتا۔بعض لوگ اس معاملے کو ایک اور نظر سے بھی دیکھتے ہیں، جن کا خیال ہے کہ کوئی نامعلوم قوت جان بوجھ کر اس حرماں نصیب قوم کو کسی متفقہ لائحہءعمل تک پہنچنے نہیں دیتی۔ یوں کہہ لیجیے کہ ڈور الجھی نہیں، بل کہ الجھائی گئی ہے ، اور سلجھن کے ہر راستے پر رکاوٹیں رکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔کبھی ملک کا ایک گورنر جنرل ہوا کرتا تھا، پھر ایوب خان کی صورت میں صدر صوررت میں ’جنرل ‘ جیسی چیز کا نزول ہوا۔آئین کی جو بنیادی شکل بانیان وطن نے طے کی تھی، جنرل ایوب نے اس کو مکھن سے بال کی طرح نکال پھینکا۔کسی سیاسی حکومت کو سکون سے کام کرنے نہیں دیا گیا۔ پھرجنرل یحییٰ خان آگیا۔جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ کے طویل اقتدار کا نتیجہ یہ نکلا کہ دسمبر 1971میںپاکستان کا مشرقی حصہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا۔ذوا لفقارعلی بھٹو کے دور میں اس قوم کو ایک متفقہ آئین نصیب ہوا ، لیکن جنرل ضیاءنے اچانک آ کے ہمیں یاد دلایا کہ پوری قوم کا متفقہ آئین تو ردی کا ایک ٹکڑا ہے، جو اس کے پاﺅں کی ایک ٹھوکر کی مار ہے۔جنرل ضیاءکو یہ قوم ہٹا نہیں سکتی تھی تو قضائے الہٰی نے ہی اس کا فیصلہ کیا۔اس کے بعد بھی کسی حکومت کوٹکنے نہیں دیا گیا۔پھر نو سال جنرل پرویز مشرف کے اقتدار نے نگل لئے ۔ آج بھی وفاقی کابینہ اور پنجاب کی صوبائی حکومت میں اکثریت انھی لوگوں کی ہے جو جنرل پرویز کی حکومت کاحصہ تھے۔ موجودہ حکومت 2018کے جس الیکشن کے نتیجے میں بنی، اس الیکشن کی صحت پر بے شمار سوالات ہیں، جن کا جواب تاریخ پر قرض ہے۔قوم کوکبھی ون یونٹ، کبھی پارلیمانی نظام اور کبھی صدارتی نظام کے قضیوں میں الجھا الجھا کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان کے جنرل سیکرٹری عبدالباری جعفری ملنے کو تشریف لائے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ سیاسی امور پر سیر حاصل گفت گو ہوئی۔ ان کی جماعت انتظامی بنیاد پرصوبہ پنجاب کی تقسیم چاہتی ہے۔سرائیکی بولنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ، اور ان کے جائز حقوق انھیں دلوانا سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے منشور میں شامل ہے۔مقامی نیوز چینلز اور اخبارات تو ان کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں ، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارا مین سٹریم میڈیا ان کے جلسوں اور ریلیوں کی کوریج نہیں کرتا۔ جعفری صاحب کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا شاہ اور سابق صدرآصف علی زرداری ، دونو سرائیکی بولنے والے ہیں۔ان کے دور حکومت میں سرائیکی عوام کو امید تھی کہ ان کے لیے الگ صوبہ کا قیام عمل میں لایا جائے، لیکن ان دونو نے اس سلسلے میں زبانی نعرے بازی کے سوا کچھ نہیں کیا۔مسلم لیگ (نواز شریف) نے آئین کے مطابق پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں بھاری اکثریت سے صوبہ سرائیک یا سرائیکستان اور صوبہ بہاول پور کے قیام کی قرارداد منظور کروا کے پہلا عملی قدم اٹھایا۔ لیکن موجودہ عمران حکومت نے تو انھیں صرف دھوکا دیا۔ خان صاحب نے تو تحریری معاہدہ کیا تھاکہ اقتدار کے پہلے سو دنوں کے اندرصوبہ سرائیک یا سرائیکستان بناچکے ہوں گے۔ لیکن دو سال سے اوپر گزرنے کے بعدبھی بہاول پور میں ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا سائن بورڈ لگا کر سیکرٹریٹ بنانے کا جھانسہ دیا جا رہا ہے۔اور اس کے ذریعے بھی تحریک انصاف دراصل ملتان اور بہاول پور کے عوام کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔ جعفری صاحب کا کہنا تھا کہ سرائیکی عوام یو ٹرن حکومت اور دھرتی کے ضمیر فروش ارکان اسمبلی کو زیادہ دیر برداشت نہیں کریں گے۔ان لوگوں نے صرف اقتدار کے لالچ میں تحریک انصاف میں شامل ہو کر سرائیکی عوام کے حقوق کا سودا کیا۔حال آں کہ صوبہ سرائیک کا قیام سرائیکی وسیب کی نسلوں ، اور ان کے مسقبل کا سوال ہے، جس پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔جناب عبد الباری جعفر ی کا خیال ہے کہ تما م پارلیمانی جماعتوں کو اس بات کا احساس کرتے ہوئے سرائیکی صوبہ کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہییں،جس میں جھنگ، بھکر،لیہ اور میانوالی کے اضلاع لازماًشامل ہوں اور جس کا دارالحکومت ملتان ہو۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here