گوجرانوالہ+کراچی: جب تاج اچھالے جائیں گے

سید طلعت حسین

گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں کے بعد کی سیاسی صورت حال کسی طور بھی استحکام کی طرف اشارہ نہیں کر رہی۔ حکومت کی طرف سے ان اجتماعات کو صفر جمع صفر برابر صفر کے مترادف قرار دینا ریت میں سر چھپانے کی مانند ہے۔

سرکاری ردعمل چھوٹا جلسہ، خالی کرسیاں، ہارے لوگ جیسے نعروں کی خبری پٹیوں پہ چل رہا ہے۔ جب حقائق سے روگردانی اس نہج پر جا پہنچے تو عموما نتیجہ ایسا نکلتا ہے۔ سامنے کا نہیں دکھتا۔ عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔

 اس سے یہ مراد نہیں کہ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسے انقلاب فرانس جیسے تھے۔ یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ جلسہ گاہوں سے نعرے مار کر حکومتیں نہیں گرتیں۔ حکومت کی طرف سے پی ڈی ایم کو ’فارغ‘ قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جن وجوحات کی بنیاد پر کسی قسم کا سیاسی بحران نتیجہ خیز ہو سکتا ہے وہ فی الحال موجود نہیں ہیں۔

مقتدر حلقوں کے سربراہان نواز شریف کی تقریر کے بعد مزید جم کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ عدالتیں وہ طوفان برپا کرنے کی طرف مائل نظر نہیں آتیں جس کے ذریعے قانونی اور آئینی پردے کو قائم رکھتے ہوئے سیاسی وارداتوں کے لیے ماحول بنایا جاتا رہا۔ ویسے بھی ثاقب، آصف، عظمت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتے۔ عدالتی کارروائیوں کے لیے ایسی مجاہد فورس کا ہونا بہت ضروری ہے۔ لہذا گوجرانوالہ یا کراچی عمران خان کی حکومت کو نہیں گرا سکتے۔

بگڑتے ہوئے سیاسی حالات سے صرف نظر کرنا حماقت ہے۔ ابھی تک پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جو کچھ کہا جا چکا ہے اس کے بعد تصفیے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب فوج اور انٹیلی جنس کے سربراہان کو براہ راست مخاطب کر کے الزامات سے لدھا ہوا سیاسی مقدمہ بنایا جائے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کا برے وقت میں منصف بننے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔

ماضی میں سیاسی قوتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے جھگڑے راولپنڈی کے فیصلوں کے ذریعے طے ہوتے رہے ہیں۔ کبھی غلام اسحاق خان اور نواز شریف کبھی سردار فاروق لغاری اور بےنظیر بھٹو، کبھی جنرل مشرف اور افتخار چوہدری، کہیں نہ کہیں پر تیسری قوت کے استعمال سے ابال کو کم کر کے نظام کو جیسے تیسے بحال کیا گیا۔ بظاہر اب یہ نہیں ہو سکتا۔

اسٹیبلشمنٹ اپنے بارے میں فیصلہ نہیں کرے گی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ملک کے آدھے سے زیادہ ووٹ رکھنے والے پلیٹ فارم یعنی پی ڈی ایم کی طرف سے بڑھائی جانے والی حدت کم نہیں ہو پائے گی۔

فی الفور معاملات کو سنبھالنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔ نوجوانوں کے سامنے فرضی داڑھی پر ہاتھ لگا کر نواز شریف کو صعوبتوں سے بھرے ہوئے جیل میں ڈالنے کا عزم کرنے کے بعد بات چیت کی گنجائش باقی نہیں بچی۔

نیب کو اپنا دوست ادارہ قرار دیتے دیتے رک تو گئے لیکن وزیر اعظم عمران کی طرف سے احتساب کو تیز کرنے کا اعلان ایسی لفظی احتیاط کو بےمعنی بنا دیتا ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ عمران خان صرف اپنا غصہ نہیں نکال رہے۔ ان کی آواز اور دھمکیوں میں کوئی اور بول رہا ہے۔ جس نئی توانائی اور گھن گرج کے ساتھ وہ سیاسی مخالفین کو للکار رہے ہیں اور جس انداز سے پی ڈی ایم پر ذاتی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں وہ 2014 میں کنٹینر والے عمران کی یاد تازہ کرتی ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت وہ وزیر اعظم ہاؤس سے باہر تھے۔ ان کا کہا، سنا اور کیا ملک میں حالات کو خراب کر کے اس وقت کی حکومت کے لیے مصیبت کا باعث بنتا تھا۔ اب وہ خود حکومت میں ہیں۔ ہر طرف تیر اور طعنے برسا کر وہ جو ماحول پیدا کریں گے اس سے سب سے زیادہ متاثر نظام حکومت ہی ہو گا۔

ابھی سے ان کے بیانات نے گڑھے مردوں میں دوبارہ سے جان ڈال دی ہے۔ حالیہ تقریر میں اپنی طرف سے خواجہ آصف پر راکھ اچھالتے ہوئے انہوں نے کیا کہا۔ پڑھیے۔ ’سچ آتا رہتا ہے سامنے۔ ایک الیکشن ہوا عثمان ڈار کا اور وہاں ایک سیالکوٹ کا بہت بڑا رنگ باز ہے، بڑی بڑی باتیں کرتا ہے، بڑی، بڑی بڑی چھاتی نکال کے بڑھکیں لگاتا ہے۔ لیکن پتہ کیا چلا کہ الیکشن کی شام کو 8 بجے رنگ باز خواجہ ٹیلی فون کر رہا ہے جنرل باجوہ کو، جنرل صاحب میں الیکشن ہار رہا ہوں میری مدد کریں۔ آنسو گر رہے ہیں۔ جنرل صاحب میں تباہ ہو جاؤں گا میری مدد کریں میں الیکشن ہار رہا ہوں عثمان ڈار سے۔‘

اس پیرائے میں سے آپ اگر زہر آلودہ طنز اور وزیر اعظم عمران کی کیمرے کے سامنے خواجہ آصف کا منہ چڑاتے ہوئے رونے والی ایکٹنگ نکال دیں تو وہ خود یہ بتا رہے ہیں کہ 2018 کہ انتخابات کے نتائج کیسے، کس طرح اور کہاں پر تیار کیے جا رہے تھے۔ یعنی یہ الزام کہ ان انتخابات میں وارداتیں ہوئیں پی ڈی ایم کی جانب سے لگ رہا ہے لیکن ثبوت وزیر اعظم عمران اور اس سے پہلے ان کے وزرا فراہم کر رہے ہیں۔

ایسی ہی مزید باتیں گہرے ہوتے ہوئے بحران کے دوران سامنے آئیں۔ بلکہ آ رہی ہیں۔ ایک حالیہ ٹاک شو میں جب پاکستان تحریک انصاف کے ایک نمائندے نے اینکر کو ن لیگ کی طرف جھکاؤ رکھنے والا بیانیہ اپنانے کا طعنہ دیا تو اس نے آگے سے یہ جواب دیا۔ ’آپ نے کہا کہ میں پرو اپوزیشن بیانیہ لے کر یہاں بیٹھا ہوا ہوں، پاکستانی میڈیا یا ہم نے اگر کوئی پرو بیانیہ لیا تو وہ لیا تھا آپ کے دھرنوں کے دوران جب آپ کے سامنے 2000 لوگ بھی عمران خان صاحب کے سامنے بیٹھے ہوتے تھے۔ ہم کیمروں سے دیکھایا نہیں کرتے تھے۔ ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ لاکھوں کا مجمع بیٹھا ہوا ہے۔ ہم کیمرے آپ کی طرف لے کے ہی نہیں آتے تھے۔ یہ تھا پرو پی ٹی آئی بیانیہ جو میں نے لیا، جو پاکستان کی میڈیا نے لیا۔ وہ جو 2000 لوگ بیٹھے ہوتے تھے ان کو ہم ایسے دکھاتے تھے جیسا کہ 40 لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ تھا پرو پی ٹی آئی بیانیہ جو پورے پاکستان کی میڈیا بشمول میں نے لیا۔ اس پہ آپ گالیاں بھی دے سکتے ہیں ہمیں اور ہمیں بے ایمان بھی کہہ سکتے ہیں۔ پرو اپوزیشن بیانیہ ابھی تک ہم نے نہیں لیا۔‘

یہ اعترافی بیان محض ان شواہد کی ایک چھوٹی سی مثال ہے جو عمران خان کو اقتدار میں لانے والی تمام کاوش کے حوالے سے جگہ جگہ محفوظ ہے۔ یہ اینکر اپنی طرف سے بلاخوف سچ بول رہا ہے لیکن شاید نہ جانتے ہوئے صحافت، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی کارروائیوں سے بنی ہوئی اس داغدار تاریخ کو پھر سے تازہ کر رہا ہے۔ جس میں موجودہ سیاسی فساد کی جڑیں پیوست ہیں۔

آنے والے دنوں میں اپوزیشن کو منہ توڑ جواب دینے کے عمل میں وہ سب کچھ باہر آ جائے گا جس کو چھپانے کے لیے روزانہ پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ جب حکومت لٹھ اٹھائے گی تو اپوزیشن بھی اپنے ہاتھیوں کو آزاد کر دے گی۔ ادھر سر پھٹیں گے ادھر بڑے عہدوں پر فائز ذمہ داران کے بھرم کچلے جائیں گے۔

ملکی معیشت جو تین سال میں علاج کے نام پرلاغر اور بیمار کر دی گئی ہے مزید متاثر ہو گی۔ یہ سب کچھ نہ ہوتا اگر طاقت کے بے دریغ اور بے رحم استعمال کو طرہ امتیاز نہ بنایا جاتا۔ اگر تاریخ سے کچھ سیکھ لیا جاتا، اگر یہ مان لیا جاتا کہ کچھ کو کچھ وقت کے لیے بےوقوف بنایا جا سکتا ہے مگر سب کو ہمیشہ کے لیے بےوقوف بنانا ناممکن ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here