پاکستان میں علم کی روشنی

سید طلعت حسین

پچھلا ہفتہ خوب رہا۔ قدیم اور جدید علوم کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔ خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان نے ایک بیان میں بتایا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 2013 میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جس کا مقصد کانگریس اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔

تاریخ کے تمام طالب علم چونک گئے۔ شاہی فرمان تھا۔ اہمیت تو دینی ہی تھی۔ کتابیں کھول کر دیکھا تو پتہ چلا کہ محترم گورنر صاحب نے صرف سو سال آگے پیچھے کر دیے۔

بانی پاکستان نے دسمبر 1912 کے اختتام اور 1913 کے آغاز میں آل انڈیا مسلم لیگ (پاکستان مسلم لیگ نہیں) کو بطور ممبر جوائن کیا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ محترم جناح صاحب 1920 تک دونوں جماعتوں کے ممبر رہے تھے۔ اور کانگریس کی ممبرشپ کو آل انڈیا مسلم لیگ کی رکنیت سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔

یقینا گورنر صاحب کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی ورنہ تاریخ برصغیر پاک و ہند سے ان کی دائمی محبت کے بارے میں کوئی شک دل میں جگہ نہیں پا سکتا۔

 ان کے بارے میں ان کے دیرینہ ساتھی نے بتایا کہ انہوں نے سی ایس ایس اور پی سی ایس میں تین تین مرتبہ کابیابی حاصل کرنے کی کاﺅش کی لیکن تیمور لنگ کی طرح وقتی دھچکے کھانے پڑے۔ ہر مرتبہ انہوں نے پاکستان اور برصغیر کی تاریخ کو پسند کے مضمون کے طور پر بہرحال تبدیل نہیں کیا۔ وہ تو ان امتحانوں میں تین کوششوں کی حد کے ہاتھوں مجبور ہوگئے ورنہ ان کی محنت ضرور رنگ لاتی۔

ویسے بھی اگر قائد اعظم 2013 میں کوئی جماعت جوائن کرتے تو وہ جماعت مسلم لیگ نہیں بلکہ پی ٹی آئی ہوتی یا ان کے سامنے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے باپ، جی ڈی اے یا تحریک لبیک جیسی آپشنز رکھی جاتیں۔ عین ممکن ہے کہ ان کو جیپ کے انتخابی نشان کا لالچ بھی دیا جاتا۔ چونکہ مسلم لیگ اب غداروں اور جیب کتروں کی جماعت کے طور پر بزبان وزیر اعظم عمران خان متعارف ہوتی ہے لہذا قائد اعظم کی جگہ اس سے شاندار مسند نہیں ہونی تھی۔ کیسا روح پرور نظارا ہوتا جب بانی پاکستان زلفی بخاری، شبلی فراز، فیض الحسن چوہان، شہباز گل اور مراد سعید کے برابر بیٹھے نظر آتے۔ ظاہر ہے عمران خان کی موجودگی میں وزیر اعظم تو نہ بن پاتے اور عارف علوی کی خدمات کے پیش نظر صدر کا عہدہ بھی خالی نہ ہونا تھا۔ مگر جو ہوتا ہے وہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ شکر خدا کا کہ 1913، 2013 نہیں ہے ورنہ ہمارا کیا بنتا۔

 گورنر شاہ فرمان اس سے پہلے کمیونیکیشن کی دنیا میں بھی دھوم مچا چکے ہیں۔ گورنر ہاﺅس کا دورہ کرنے والے طلبا کے وفد کے سامنے انہوں نے بالمشافہ رابطے کو ماﺅتھ ٹو ماﺅتھ کمیونیکیشن کا درجہ دے دیا۔ اس کی تشریح میں ہم نہیں جانا چاہتے۔ ہونٹوں سے نکلی نجانے کہاں تک جا پہنچے گی۔

پچھلے ہفتے ہی ہمیں زلفی بخاری کے دورہ چترال کے بارے میں سرکاری ہدایت نامہ دیکھنے کو ملا۔ اس میں یہ تحریر تھا کہ دہری شہریت رکھنے والے بخاری صاحب بذریعہ ہیلی کاپٹر چترال کب پہنچیں گے اور رات کو تھکن اتارنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی اسلام آباد کب واپس آئیں گے۔ اس ہدایت نامے کو گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپریڈنڈنٹ کو بھجوایا گیا۔

بڑی پریشانی ہوئی کہ نجانے راتوں رات چترال گلگت بلتستان کا حصہ بن گیا ہے یا گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرتے کرتے ہم نے خیبر پختونخوا کو بھی اس کے ساتھ ملا کر ایک انقلابی قدم کمال خاموشی سے اٹھا دیا ہے۔ اتنی بڑی خبر اور تمام صحافی اس سے لاعلم؟ یہ کیسے ہوا، کیوں ہوا، کب ہوا، کس نے کیا؟

تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ چترال بدستور خیبر پختونخوا کا حصہ ہے۔ صرف زلفی بخاری صاحب اور ان کا عملہ اس جغرافیائی حقیقت سے ناآشنا رہے۔ شاید وہ بیرون ملک پاکستانیوں کی خدمت اور ملک میں انسانی ترقی کے وسائل کو بڑھانے میں اتنے مصروف ہیں کہ ملک کا جغرافیہ جاننا ایک غیر اہم امر ہے۔

اس پر جب ایک صحافی نے طنزیہ انداز سے ٹویٹ کیا تو بخاری صاحب نے فورا سے جواب میں لکھا کہ میں چترال میں ذاتی اخراجات پر غیرملکی سرمائے سے ایک ہوٹل کی بنیاد رکھنے کے لیے گیا تھا جو اس خطے کی شکل بدل دے گا اور ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا اور جو کوئی بھی اس کے برعکس لکھ رہا ہے اس نے صبح کا ناشتہ نہیں کیا۔

بخاری صاحب کی علوم غائب و مخفی میں مہارت متاثر کن ہے۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے نقاد ناشتہ کرتے ہیں یا نہیں لیکن چترال کے بارے میں سفر سے پہلے جاننا گوارا نہیں کرتے کہ وہ گلگت بلتستان میں ہے یا خیبر پختونخوا میں۔ بڑے لوگوں کے بڑے کام ہیں۔ 100سال آگے پیچھے کر دیں یا ایک زمین کے ٹکڑے کو اٹھا کر دوسری جگہ جوڑ دیں کیا فرق پڑتا ہے۔ کون سا جغرافیہ ترقی کی عظمتوں کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے۔

بلند سوچ رکھنے والے نقشوں کے تابع نہیں ہوتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جبھی تو جاپان اور جرمنی کی سرحدیں آپس میں ملا دی تھیں۔ حضرت عیسی ؑ کے تذکرے کو تاریخ سے غائب کر دیا تھا اور ہمیں بتایا تھا کہ کیسے خیبر پختونخوا میں پانی کے لیے کھدے ہوئے کنوﺅں میں سے گیس ابل ابل کر لوگوں کے گھروں میں پہنچنے کے لیے تڑپ تڑپ کر شوں شوں کرتی ہوئی باہر نکل رہی ہے۔

لوگوں کی خدمت کی بےقراری ایسی ہے کہ یہ گیس ہاتھ سے لگائے گئے پائپوں سے محلوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اندھیرے اجالوں میں بدل جاتے ہیں اور ٹھنڈ آرام دہ گرمائش میں۔ یہ تو ٹیم کے ممبران ناکارہ ہیں کہ قدرت کے ان کرشموں سے تمام قوم کو مستفید نہیں کرتے اور خواہ مخواہ گیس کی قیمتیں بڑھا کر ہمیں معاشی تنگی کا شکار کرتے ہیں۔ اگر ان میں ذرا سا بھی گُر ہوتا تو زلفی بخاری کے ایک ہوٹل کی طرح گیس کے ایک کنوے سے اس خطے کی تاریخ بدل دیتے۔

کیا نکمے ساتھیوں کے کرتوتوں کا الزام کپتان کے سر تھوپا جا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ جبھی تو پچھلے ہفتے انسداد دہشت  گردی کی عدالت نے پارلیمان حملے کیس میں وزیر اعظم عمران خان کو ان کی ٹیم کے ممبران سے علیحدہ کر دیا جن پر یہ شک قوی ہے کہ وہ اس مقدس عمارت پر چڑھ دوڑے۔ فرد جرم عائد کیے جانے والے ناموں میں بڑے بڑے طرم خان شامل ہیں۔ اس کیس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، جہانگیر ترین، شفقت محمود اور علیم خان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اور تو اور صدر مملکت بھی الزام کی زد میں ہیں۔ صرف عہدے سے استثنی کی وجہ سے معاملہ داخل دفتر کیا گیا ہے ورنہ طلبی ان کی بھی ہو جاتی۔ صرف وزیر اعظم عمران خان بچ پائے۔

اسی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کپتان ہونے کے باوجود اپنی ٹیم سے کتنی بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔ ان پر نہ تاریخ کا اثر ہے نہ جغرافیے کا۔ وہ جب چاہیں امت مسلمہ کا نمائندہ بن جائیں اور جب چاہیں تو زلفی بخاری و شاہ فرمان کے ذریعے تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کر دیں۔

دنیا میں کوئی حکومت عوام کی تعلیم و تربیت کے ایسے انتظامات نہیں کرتی جیسے موجودہ حکومت ہم سب کے لیے مہیا کرتی ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here