گجرانوالہ کا شہزادہ

انجینئر افتخار چودھری
بڑے دن گزر گئے پرانے یاروں میں سے بچپن کے ایک دوست کو فون کیا گلزار بٹ جسے ہم گلو کہا کرتے تھے اس وقت نے محبت کے نام بھی چھین لئے۔
ہمارے دور میں گجرانوالہ کی ان گلیوں کوئی بٹ گجر بھٹی ارائیں نہیں ہوتا تھا ایک ہی گلی اور ایک ہی محلے میں، جب یہ لوگ سیٹلائٹ ٹاؤن چلے گئے تو پتہ چلا اب وہ بٹ ہیں اور ہم گجر۔اللہ سلامت رکھے یہ تو شناختیں ہیں۔ رہنا نام اللہ کا اور اس کالی کملی والے کا جس کے بارے میں قران میں بھی ذکر ہے و رفعنا لک ذکرک ۔گلو کو فون کیا انگریزی میں جھاکہ دیا پھر اردو میں اور خالص پنجابی میں پوچھا آواز میں وہ کھنکھناہٹ وہ شعلہ لپکنا موجود نہ تھا گلزار میرے دوست یار ہوا کیا ہے آج وپہ سخن طرازیاں کہاں ہیں۔گلزار میرا لنگوٹیا یار ادا س تھا کہنے لگا یار آپ کو علم ہی نہیں ہم لٹ گئے تم نے ٹی وی نہیں دیکھا خبریں نہیں پڑھیں اچھے انفارمیشن کے بندے ہو کہ بھائی جان اعظم اب اس دنیا میں نہیں ہے اور آپ کو خبر بھی نہیں میرے قدموں کے تلے سے زمین نکلی شاک لگا پوچھا کب کیسے کہاں بتایا کہ وہ اپنے بھتیجوں کے ساتھ اور نواسوں کے ساتھ گجرانوالہ سروسز کلب سوئیمنگ کے لئے گئے اور پچھلے اگست میں اس یہ قیامت ہم پر گزری ہے۔بتایا کہ بابر کا بیٹا ڈوبنے لگا تھا اسے بچانے کود گئے اور وہیں فوت ہو گئے بھتیجہ بچ گیا اور تایا نے جان دے دی۔یہ کہانی عزیزی نے مشترکہ فیملی کے کو سامنے رکھ کر اپنے شو میں بیان کی۔یقینا ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی جانب لوٹنے والے ہیں شہر گجرانوالہ بہت بڑا ہے لیکن جتنا بڑا بھی ہو جائے پہاء اعظم سے بڑا نہیں ہے وہ اس شہر کی رونق تھے گجرانوالہ بروسٹ کے مالک اس سے پہلے اس فیملی کا ایک خوبرو اللہ کو پیارا ہو گیا ہے جس کا نام معظم تھا۔
ہم گجرانوالہ کے محلہ باغبانپورہ کے رہائیشی تھے ہماری گلی سے ساتھ والی گلی میں ان کا گھر تھا اس زمانے میں چھوٹے گھروں میں بڑے لوگ رہتے تھے ایک دوسرے کو جاننے والے پہچاننے والے گلی کا فرد فرد ایک دوسرے کو جانتا تھا اب تو کوئی کسی کو پہچانتا نہیں میرے گھر جنوری میں ڈاکہ پڑا تین گھنٹے تک ڈکیتی رہی میرے ہمسائے عمر کیانی نے کہا میں نے آپ کے گھر ساری لائٹیں جلتی دیکھیں سوچا ایسا کیوں ہے پھر سوچا انکل جاگتے رہتے ہیں۔کاش یہ باغبانپورہ ہوتا رات بارہ بجے کے بعد ککھ بھی ہلتا تو کوئی گوانڈی دروازہ کھڑکا کے پوچھ لیتا کہ کیا ہو رہا ہے۔چاچے عنائت کی یہ اولاد محلے باغبانپورے کی رہائیشی تھی پہا ء اعظم سب سے بڑے پھر معظم اس کے بعد گلزار آصف بابر میرا خیال ہے دو بہنیں تھیں چاچا عنائت کو شہزادہ کہتے تھے اس شہزادے کے بڑے شہزادے کی موت کا بڑا دکھ ہوا ہے بھائی اعظم میرے بڑے بھائی مرحوم امتیاز کے دوست تھے۔بڑے رونقی شخص تھا خواجہ صالح کے ساتھ بڑی دوستی تھی جو ٹیوٹا گارڈن موٹرز کے اونر ہیں۔جائینٹ فیملی جس سے آج کل لوگ کنارہ کشی کرتے ہیں اس کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے غموں اور خوشیوں کے بھائیوال ہوتے ہیں۔تایا کا وجود باپ بچوں کے لئے ایک ڈھال ہوتا ہے۔وہ گھر کا سب سے بڑا بیٹا ہوتا ہے اس کی سنی جاتی ہے ہمارے سب کے نام تایا نے رکھے اس کا ہماری پنجابی معاشرے میں ہونا ایک شجر سایہ دار کی مانند ہوتا ہے۔گلی کی نکڑ پر چاچے عنائت چنگی والے کا مکان پھر اس لائین میں دائیں ہاتھ دو تین مکانوں سے دائیں مڑ جائیں تو اسی گلی میں چار چھ گھر چھوڑ کر ان کا گھر تھا۔محمد نائی کے گھر کے موڑ پر چاچے کی فوکسی ریورس ہوتی تھی میں جب ساماکو جدہ میں ملازم ہوا تو ایک گاڑی دیکھی تو مجھے یاد آیا یہ تو میں بچپن میں دیکھ چکا ہوں جدہ کی ورکشاپ کی پارکنگ میں کھڑی اس گاڑی سے مجھے چاچے عنائت کی خوشبو آتی تھی اسی کمپنی میں کام کرتے ہوئے مجھے ایک جابر ڈکٹیٹر اسد درانی نے اس لئے گرفتار کرایا کہ میں نواز شریف کے ساتھیوں کی گرفتاری پر چیخ اٹھا تھا بعد میں وہ را کے چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھ بیٹھا ۔کہاں گئیں وہ گاڑیاں وہ جدہ کی رونقیں لیکن ان رونقوں میں کبھی اپنے دیس کو نہیں بھولا۔اپنی گلیاں اپنے روڈ کسیاں کھڑپے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
تلاش رزق ہی ہجرت کا اک بہانہ ہے وطن سے دور یہ عارضی ٹھکانہ ہے ہم اپنے کچے مکاں بیچ کر نہیں آئے ڈھلے گی شام تو گھر کو لوٹ جانا ہے۔سنا ہے وہ شاعر اسلام آباد میں شام پذیرائی میں ہے اور اسے وہ شام نور کا افتخار بھی یاد نہیں رہا جس نے اسے دھو دھا کر کمیونٹی کے سامنے پیش کیا تھا۔
ہم شام ڈھلنے پر گھر تو آئے ہیں لیکن شائد ماتم کرنے بھائی جان امتیاز کی موت کا دکھ ظاہر ہے بڑا گہرا ہے لیکن بھائی اعظم کی موت سے ہنستا کھلکھلاتا چہرہ آنکھوں سے دور ہوا تو فراز کا شعر یاد آی ا
وداع یار کا منظر کافراز یاد نہیں
بس ایک ڈوبتا سورج میری نظر میں رہا
تایا کیا ہوتا ہے میں اپنی آنکھوں کو چومنا چاہوں گا کہ جس نے اپنے تائے کو دیکھا اس کے پیار کو پایا باپ سے بڑا باپ تایا ہوتا ہے آج تو لوگ اپنے چھوٹے سے دائرے میں جیتے ہیں میں نے زندگی میں پہلی بوتل پی اپنے تائے کے ہاتھوں سے پی مجھے عطاء محمد اسکول میں جب فارسی پڑھتے دیکھا تو کہنے لگے پڑھو فارسی بیچو تیل چلو میرے ساتھ آنکھ پر چوٹ لگی تو کہا چلو میرے ساتھ۔خوشیوں میں انگلی پکڑی اور کہا چلو میرے ساتھ یہی کام نوید کرتا ہے وہ بھی میرے پوتوں کا شہزادہ تایا ہے۔اور میرا بھائی امتیاز بھی اولاد کے لاد لڈتا رہا اسی طرح بھائی اعظم سے بھی فرمائیش کی ہو گی بابر کے بچوں نے نواسوں نے کہ ہم نے بھی سوئینگ کرنی ہے کہا ہو گا چلو میرے ساتھ۔
گجرانوالہ کی رونق بھائی اعظم اب اس دنیا مین نہیں رہے گلزار نے بتایا کہ ان کی موت نے ہماری کمر توڑدی ہے ظاہر ہے کہ اس قسم کے لوگوں کا چلے جانا عہد بہار کا جانا ہوتا ہے۔گلزار نے مجھے بھائی سلمان کھوکھر کا کالم بھیجا ہے جو انہوں نے اعظم بھائی کی موت پر لکھا جس میں چاچے عزیز انصاری کے بیٹے فاروق عالم کا بھی ذکر تھا اللہ میرے ان بڑے بھائیوں کو سلامت رکھے۔
شہر گجرانوالہ پہلوانوں کا شہر ہی نہیں وہ دلیر بہادروں او صنعت کاروں کا بھی شہر ہے،اس وقت آپ اگر پاکستان کے کسی کونے میں بھی ہیں آپ کو اس شہر کی بنی ہوئی چیزیں یاد آئیں گی۔
پچھلے دنوں نیو فالکن ہزارہ گڈز کے حبیب الرحمن بھی اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے زیر لب دھیمے لہجے کے حبیب صرف اپنے گھر والوں کے پیارے نہیں تھے وہ میرے بھی حبیب تھے میرے خالہ زاد تھے اپنے ہاتھوں سے انہیں کھیلایا بڑا کیا وہ لسن یو سی لنگڑیال میں دفن ہوئے موت وہیں اسی شہر میں ہوئی جہاں میرے والدین دفن ہیں۔اللہ پاک انہینں جنت میں جگہ دے۔ان کی موت پر کبھی تفصیل سے لکھعں گا بس ایک ہی یاد ہے کہ حبیب بڑا خوبصورت گول مٹول سا چھوٹا بھائی تھا جسے ابھی بہت کچھ کرنا تھا اس نے گاؤں کے آخری کونے پر گھر بنانے تھے اس کے لئے اس نے راستہ خریدا بھی لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔وہ اس دنیا سے چلا گیا حیدر اس کا بیٹا ہے مجھے پورا یقین ہے وہ باپ کے خواب پورے کرے گا
بھائی اعظم چلے گئے لیکن سچ پوچھئے اپنے پیچھے ایک ایسا خلاء چھوڑ گئے کہ جو رہتی دنیا تک کم از کم اہل خانہ کے لئے پر نہیں ہو سکے گا۔باغبانپورے کا شہزادہ سیٹلائٹ ٹاؤں میں چمکا اور خوب چمکا۔میں حیران ہوں کہ اسے دستگیر فیملی کا بھی بھرپور اعتماد تھا وہ صابر خان کا بھی بڑا جگری دوست تھا خرم کا انکل بھی اور ساتھ میں اس کے بہترین دوستوں میں خواجہ صالح کا بھی نام ہے۔جو اس شہر میں دستگیر مخالف گروپ میں ہیں۔شاید یہ اس شہر خوباں کی خوبی ہے کہ لوگ مروت کے پاسدار ہیں وہ ان لیڈروں کے لئے اپنے تعلقات خراب نہیں کرتے جو گھڑی میں دوست اور پل میں دشمن بن جاتے ہیں۔
کمال کا بڑا پن تھا انہوں نے مجھے ہمیشہ بڑا بنا کر لوگوں سے ملوایا شہر گجرانوالہ کے مغل محل کے مالکان اللہ انہیں بھی خوش رکھے ان سے نشست ہوئی تو میرا تعارف اور میرے چھوٹے بھائی کا اس طرح کرایا گویا وہ معظم گلزار کی بات کرتے ہوں۔
گلزار یار مرنا سب نے ہے۔امتیاز بھائی بھی چلے گئے جانا ہم نے بھی ہے لیکن سچی بات ہے زمین کے چمکتے ہوئے جگنؤں کی موت اچھی نہیں لگی۔یہ جگنو جو ہمارے سانے راتوں کے وقت آتے ہیں حقیقت یہ ہے یہ سندیسہ لے کے آتے ہیں کہ چمک کا پیغام ہے کہ محبت بانٹو۔پتہ نہیں ہم مریں گے کوئی یاد بھی کرے گا کہ نہیں لیکن ایک رسم میں چھوڑ جاؤں گا کہ میں نے اپنے آپ سے زیادہ اپنے دوستوں کا نام اونچا کیا۔میری یہ تحریریں یہ لفظ پھول بنا کر بھائی جان کی قبر پر چڑھا دینا۔اور کہہ دینا وہ آئے گا جو میلے کچیلوں کپڑوں میں لنڈے کا کوٹ پہنے لیٹا والے پائکامے میں قینچی چپل پہنے چاچے محمد نائی کی دکان سے موڑ کاٹ کر آپ کے دروازے پر کہتا تھا گلو گھر ہے۔جس کے جواب میں بھائی کہتے کہ مجھے بھی بتانا کہ گلو کہاں ہے؟
میرے قلم سے نکلے لفظو میں تو دور ہوں کبھی اس گلی جا کر پوچھنا کہ گلو گھر ہے بھائی اعظم ملے تو اسے جپھہ مار کے کہنا بھائی جانا نہیں

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here