پی ڈی ایم اور ایک پیج والا ترانہ

پی ڈی ایم کے احتجاج کے بارے میں رنگ رنگ کے تجزیے جاری ہیں۔ پہلے ایسے تجزیوں کا احاطہ کر لیتے ہیں جن کے مطابق یہ اتحاد شور و غوغا مچانے والے غول سے مختلف نہیں ہے۔

سیاسی جنگل کے باسی ہر دوسرے دن اکٹھے ہوتے اور اپنی بولیاں بولتے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔ بیچ میں کہیں کہیں جلسے کر کے اپنے ووٹروں کے دل گرماتے ہیں۔ مگر ایک حد سے ایک انچ آگے نہیں بڑھتے۔

ان کو معلوم ہے کہ آگے شیر اور چیتوں کی کچھاریں ہیں، چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ ایسے تجزیے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی مفادات کو سامنے رکھتے اور بڑی حد تک یہ صحیح نکتہ اٹھاتے ہیں کہ آصف علی زرداری پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کی بڑھتی ہوئی لڑائی میں عمران خان کے بعد سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔

پہاڑ کو ٹکر مار کر ن لیگ اپنا سر پھوڑے گی۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی اگلے انتخابات سے پہلے ٹوٹ پھوٹ پیپلز پارٹی کے فائدے میں ہو گی۔ اگر اتحادیوں نے بھی پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیا تو پاکستان کے اس اہم صوبے میں جہاں پیپلز پارٹی ایک طویل عرصے سے انتخابی عمل میں بدترین کارکردگی دکھا رہی ہے، ایک مرتبہ پھر اس کے اثر و رسوخ کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔

مولانا فضل الرحمان اپنے غصے کا شکار ہو سکتے ہیں اور ویسے بھی شیرانی گروپ کے بننے کے بعد ان کی نظریاتی معاملات پر اپنے سیاسی فقہ میں قائم شدہ طویل اجارہ داری کو اب بڑا خطرہ لاحق ہے۔ عین ممکن ہے کہ دوسری چھوٹی جماعتیں پی ڈی ایم کے سفید ہاتھیوں کی اس کشمکش میں سے نکل جائیں اور اپنا بندوبست خود کر لیں۔

ایسے تجزیے پی ڈی ایم کو بطور سیاسی چیلنج انتہائی ہلکا تصور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم اگلے چند ہفتوں میں ایسی بگھی کی مانند ہو گا جس میں جتے ہوئے گھوڑے اس کو مختلف سمت میں کھینچتے ہوئے ایسی بری ٹوٹ پھوٹ کا نشانہ بنائیں گے کہ دیکھنے والے عبرت پکڑیں گے۔

پی ڈی ایم سے متعلق ایک اور تجزیہ غیرمصدقہ اور اکثر جھوٹ کے تڑکے میں تلی ہوئی خبروں پر بنیاد کرتا ہے۔ اگر آپ پی ڈی ایم کے اجلاس کے حوالے سے ہونے والی رپورٹنگ کا جائزہ لیں تو سات ٹی وی رپورٹرز اور اتنے ہی اخباری نمائندے ایک ہی طرز کی خبریں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کئی مرتبہ ان کے جملے بھی ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ڈی ایم سیاسی کشمکش نہیں بلکہ اندرونی انتشار کا شکار ہے۔

ٹوٹ پھوٹ جاری ہے اور اس گرتی ہوئی دیوار کو اب دھکا دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق آصف علی زرداری ایک چالاک شخص ہیں جنہوں نے کمال مہارت سے پی ڈی ایم کے ذریعے اپنا ذاتی اور پارٹی کا سیاسی الو سیدھا کر رکھا ہے۔ جبھی تو پچھلے کئی ہفتوں سے تحریک انصاف کے سندھ حکومت پر ہونے والے تندو تیز حملے اب منظر سے غائب ہو گئے ہیں۔ نہ پیپلز پارٹی کا کوئی بڑا گرفتار ہوتا ہے اور نہ ان کے خلاف ہونے والے تحقیقات میں بکتر بند گاڑیاں اور موت کی کوٹھڑیاں اذیت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

نیب کی طرف سے جاری کردہ نوٹسز ان کاغذی ہوائی جہازوں کی طرح ہیں جو منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی زمیں پر گر کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کیوں بنایا تھا، کیوں اڑایا تھا اور کیوں گرایا؟ بس خانہ پری کے لیے کاغذی کارروائی تھی اور ہوتے ہی ختم ہو گئی۔

ایسے تجزیوں کے مطابق ن لیگ کے اندر چاچا۔بھتیجی، کزن۔کزن، تایا۔چاچا کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ سختی کے باوجود جیل میں ڈالے خواجہ آصف سے لے کر اپنے بیان کے نتائج سے بچا لیے جانے والے ایاز صادق تک ایک طویل فہرست ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے اچھے رابطے اور تعلقات بنائے ہوئے ہیں۔ ان پر پڑنے والی وقتی مصیبت ان کو ن لیگ میں سے متبادل قیادت کے طور پر سامنے لانے میں ابھی بھی رکاوٹ نہیں بنے گی۔

جوں جوں اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف میں تصادم بڑھے گا توں توں ان دوستوں کی قسمتیں جاگنی شروع ہو جائیں گی۔ کسی کا مقدمہ ختم ہو جائے گا اور کوئی جیل سے باہر آ جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان منہ کی کھائیں گے اور اپنے باپ دادا کی سیاسی و حقیقی جائیداد سے بھی ہاتھ دھوئیں گے۔ اس طرح عمران خان چاروناچار اسٹیبلشمنٹ کی واحد ترجیح کے طور پر اپنا رتبہ قائم رکھ پائیں گے۔

لیکن ان سب سے ہٹ کے ایک اور تجزیہ بھی ہے۔ جس کو ذہن میں رکھے بغیر آپ پی ڈی ایم کے بارے میں حقیقی رائے قائم نہیں رکھ سکتے۔ یہ سیاسی اکٹھ یقینا مثالی نہیں۔ اس میں مختلف مفادات بڑی مشکل سے اکٹھے رہ رہے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ن اور پیپلز پارٹی پنجاب میں اثرو رسوخ بڑھانے اور قائم رکھنے کے اہداف سے جڑی ہوئی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا غصہ اس پریشانی کا نتیجہ ہے جو ان کو اپنے پہلے لانگ مارچ کے مایوس کن اختتام کی وجہ سے مسلسل لاحق ہے۔

اگر اس مرتبہ بھی ان کی کاوشیں کامیاب نہ ہوئیں تو مولانا شیرانی کا گروپ ایک مقناطیس کی طرح ان کے مخالفین کو اپنی طرف کھینچ لے گا۔ لیکن ان تمام امکانات اور خامیوں کے باوجود پی ڈی ایم نے کم عرصے میں ایک لمبا سیاسی سفر کامیابی سے طے کیا ہے، یہ تو ماننا ہو گا۔ اب ٹوٹا، تب ٹوٹا کہنے والے تمام تر کاوش کے باوجود اپنی مثبت رپورٹنگ کو سچ ثابت نہیں کر پائے۔

مولانا فضل الرحمان کی وارننگ والا حالیہ بیان تمام جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کی منشا سے جاری کیا گیا تھا۔ اس فورم میں اتفاق رائے کے نکات بھی اب واضح ہو گئے ہیں۔ کسی بھی جماعت کو موجودہ حکومت کا طاقت میں رہنا قابل قبول نہیں۔ کوئی بھی جماعت اس نظام کے تحت ہونے والے کسی انتخابی عمل کو دھاندلی سے پاک نہیں سمجھتی۔ انتخابی عمل میں شرکت کرنا ایک مصلحت تو ہے لیکن عمران خان سے مصالحت کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

الیکشن کمیشن کے کارنامے، نیب کی کارروائیاں، اسٹیبلشمنٹ کا نادیدہ ہاتھ اور سب سے بڑھ کر گورننس کی مسخ شدہ شکل وہ بنیاد ہے جو پی ڈی ایم کو اکٹھا رکھے ہوئے ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پی ڈی ایم ہارے ہوؤں کا ہراول دستہ ہے تو بھی یہ فورم موجودہ سیاسی نظام کو منجمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آںسو گیس اور لاٹھیاں برسانے والے اگر بندوقوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو یہ اس فورم کی کامیابی تصور ہو گی۔ عمران خان کو حکومت میں قائم رکھنے کے لیے اگر سو اور جتن کرنے پڑ رہے ہیں تو اس سے پی ڈی ایم کا مقدمہ مزید تگڑا ہوتا ہے کہ سیاست کو اس حد تک بانجھ کر دیا گیا ہے کہ حکومت روز مرہ کے معاملات بھی خود سر انجام دینے سے قاصر ہے۔

پی ڈی ایم ملک میں انقلاب برپا نہیں کر سکتا لیکن جس دیدہ دلیری سے وارداتوں کے ذریعے موجودہ نظام کو چلایا جا رہا تھا اس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر ضرور سامنے آیا ہے اور پھر کچھ تو ایسا ہو رہا ہے کہ جس کی وجہ سے آج کل قوم کو ایک پیج والا ترانہ نہیں سنایا جا رہا۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here