کیا کرپشن سیاسی مسئلہ ہے ؟ پارٹ1

محمد اسد شاہ

کرپشن یقیناً ایک بڑا اور عالمی مسئلہ ہے ، لیکن یہ سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے – پاکستان میں البتہ اس کو بعض مخصوص مقاصد کے تحت سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے – حتیٰ کہ “چور بھی کہے چور چور” کے مصداق بعض لوگ خود اپنی کرپشن کی داستانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے دوسروں کو کرپٹ کہنے کی گردان کرتے بھی پائے گئے ہیں – دنیا کا کوئی ملک کرپشن سے پاک نہیں ہے – لیکن ہمارے علاوہ تمام ممالک اس مسئلے سے اسی طرح نمٹتے ہیں جس طرح دیگر مسائل سے – اس کو مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے نعرے یا گالی کے طور پر وہاں نہیں اپنایا جاتا – چناں چہ چند باتیں خاص طور پر سمجھنے کی ہیں – پہلی بات تو یہ کہ کرپشن صرف “غلط طریقے سے مال کمانے” کا نام نہیں ، جیسا کہ ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے – بل کہ کرپشن (جو اصلاً انگریزی زبان کا لفظ ہے) کا مطلب ہے؛ “اختیار کا غلط استعمال” – مثلاً اگر کوئی شخص اپنے گھر کے سامنے سرکاری جگہ کو ذاتی چبوترہ وغیرہ بنا کر یا پودوں کی باڑھ لگا کر گھیر لے ، تو یہ بھی کرپشن ہے – اگر ایک دکان دار اپنی دکان کے سامنے فٹ پاتھ یا سڑک پر کھڑے خوانچہ فروش سے کرایہ وصول کرتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے – اگر ایک افسر اپنے کسی ذاتی تعلق کی وجہ سے کسی شخص کو رعایت دیتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے – اگر کوئی بڑا افسر کسی جج پر دباؤ ڈال کر کسی کو سزا دلوانے، یا کسی مقدمے کو ختم یا ملتوی کروانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے – اگر ایک پولیس افسر اپنی ذات برادری کے کسی مجرم کو ناجائز رعایت دیتا ہے تو یہ بھی کرپشن ہے – اگر کوئی وکیل اس وجہ سے کسی مجرم کا ساتھ دے کہ اس (مجرم) کے پاس بھی وکالت کی سند ہے ، تو یہ بھی کرپشن ہے – اگر کوئی تاجر ناجائز تجاوزات ہٹانے پر سرکاری ملازمین پر جھپٹ پڑے تو یہ دوہری کرپشن ہے – چناں چہ اختیار کے غلط استعمال کی بے شمار اقسام ہیں – دوسری بات یہ کہ کرپشن صرف سیاست دانوں یا حکم رانوں تک ہی محدود نہیں – بل کہ اگر تحقیق کی جائے تو سیاست دان اس معاملے میں بعض دیگر طبقات سے بہت پیچھے ہیں – دنیا بھر میں منظم ترین ، اور خطرناک ترین اور سب سے زیادہ کرپشن سرکاری ملازمین اور افسران کرتے ہیں ، سالہا سال تک کرتے ہیں ، حتیٰ کہ بعض صورتوں میں تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس میں ملوث رہتے ہیں – بھارت ، مصر ، میکسیکو ، اسرائیل اور الجزائر جیسے ممالک میں اس کی مثالیں موجود ہیں – اکثر ممالک میں یہ لوگ آپس میں بہت مربوط و منظم رہتے ہیں – اور اگر وہاں کی کوئی حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے تو یہ لوگ اس حکومت کو ایسے انداز میں ختم کرواتے ہیں کہ ان کی طرف کسی شخص کا دھیان ہی نہیں جاتا – سیاسی جماعتیں اور منتخب نمائندے ان کے دباؤ میں رہتے ہیں – مصر میں صدر محمد مرسی شہید کی حکومت اسی طرح ختم کروائی گئی – سرکاری افسران اپنے ممالک کے قوانین کی ایسی باریکیوں سے واقف ہوتے ہیں ، اور ان کو ایسی عیاری سے استعمال کرتے ہیں کہ بعض اوقات مجرموں کو معصوم و ایمان دار ، اور بے گناہوں کو مجرم و مردود قرار دلواتے ہیں – پوری دنیا میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لوگ خود کو بہت طاقت ور سمجھتے ہیں – لیکن سرکاری افسران اور ادارے طاقت ور میڈیا کو بھی اپنی انگلیوں پر نچاتے ، اور اپنے قدموں میں دبوچ کے رکھتے ہیں – بل کہ میڈیا کے ذریعے تو وہ رائے عامہ کو بھی اپنے قبضے میں رکھتے ہیں – عام آدمی اخبار پڑھ کے ، ٹی وی پہ خبریں یا ٹاک شو سن کے جو نتیجہ اخذ کرتا ہے ، اسے اپنے شعور اور عقل کی پیداوار سمجھتا ہے – اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ جس اخبار اور جس ٹاک شو کی بنیاد پر اس نے اپنی رائے قائم کی ، دراصل وہ کسی مخصوص طبقے کی منظم کوشش کے زیرِ اثر ہے – یوں ان ممالک کا بظاہر ایک آزاد ، تعلیم یافتہ اور باشعور شخص بھی دراصل کسی نادیدہ رسی سے بندھا ہوا ذہنی مفلوج ہوتا ہے – اور یہ آزادی دراصل اس کا صرف وہم اور گُمان ہوتا ہے – سرکاری افسران کے علاوہ بعض ممالک میں بڑے بڑے صنعت کار اور جاگیر دار بھی مالی معاملات میں انتہائی گھمبیر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں – ایسے میں ان سرکاری افسران ، اداروں ، صنعت کاروں اور جاگیر داروں کا ایک غیر مرئی گٹھ جوڑ ہوتا ہے – بعض ممالک میں عدالتیں ، یا ججز بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں – یوں یہ ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہوتا ہے – حکومتیں ان کی سازشوں سے ٹوٹتی ، اور بنتی ہیں – سیاست دانوں کی زندگیوں اور عزتوں سے کھیلنا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے – میں اوپر مصری صدر محمد مرسی شہید کی مثال دے چکا ہوں – ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ، وہ اسی قسم کے نیٹ ورک کی کارستانی تھی – بھارت میں نریندرا سنگھ مودی جیسا دہشت گرد بڑے بڑے صنعت کاروں کی پشت پناہی سے دو بار وزیراعظم بنا – اسرائیل میں ایک وزیراعظم کو اپنے ہی ماتحت سرکاری ملازمین کے سامنے تفتیشی مراحل سے گزرنا پڑا – بظاہر تمام ادارے اور افسران سیاسی حکومتوں کے ماتحت ہوتے ہیں – لیکن مصر اور الجزائر جیسے ممالک میں سیاسی حکومتیں عملاً ان منظم سرکاری اداروں اور ملازمین کے ماتحت ہوتی ہیں – جہاں عوام کو البتہ یہ بتایا جاتا ہے کہ سب ادارے حکومت کے ماتحت ہیں – حکومتیں ان کی کرپشن پر ہاتھ ڈالنا تو کجا ، ان کی طرف اشارہ بھی نہیں کر سکتیں –
تیسری بات یہ کہ کرپشن ہمارے علاوہ تمام دنیا میں ایک بہت بڑا مسئلہ ضرور ہے ، لیکن اس کو دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ یا سیاسی مسئلہ نہیں بنایا جاتا – اگر اس کو سیاسی مسئلہ بنایا جائے تو ختم ہونا تو بہت دور کی بات ہے ، یہ کم بھی نہیں ہو سکتی ، بل کہ مہنگائی کی طرح مسلسل بڑھتی ہے – (جاری ہے )

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here