افغانستان کا بھونچال اور ہماری مجبوریاں

افغانستان میں سے اٹھنے والی مسائل کی سونامی دریائے کابل کا رخ اختیار کرتے ہوئے کسی وقت بھی پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے۔ جب ہی تو وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد کے سستے بازار اور اپنے گھر کے قریب کرکٹ گراؤنڈ چھوڑ کر پشاور کور ہیڈکوارٹرز لے جائے گئے جہاں پر آرمی چیف کی موجودگی میں ان کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔

یہ آگاہی بہرحال سرحدی تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ہماری طویل سرحد کا صرف 70 فیصد باڑ کے ذریعے بند کیا گیا ہے۔ 30 فیصد پر کام ابھی بھی باقی ہے۔ یعنی 600 میل کے لگ بھگ یہ بارڈر ویسے ہی موجود ہے جیسے گذشتہ سالوں میں تھی۔

یہاں سے آمدورفت پر پابندی لگانا یا اس کو موثر انداز سے جانچنا ناممکن ہے۔ وزیر اعظم خود فرما چکے ہیں کہ پاکستان میں موجود لاکھوں افغانوں کی اکثریت طالبان کو پسند کرتی ہے۔ جوں جوں افغانستان میں طالبان کا قبضہ بڑھتا جا رہا ہے توں توں ان کے مطالبات ان حقائق کے پیش نظر واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

چمن بارڈر کے آرپار آمدورفت کو بند کر کے طالبان نے یہ باور کروا دیا ہے کہ وہ خود کو اب اس پوزیشن میں لا چکے ہیں جہاں پاکستان سے اپنی بات منوانے کے لیے جائز و ناجائز اصرار کر پائیں۔ تجارتی راستے روک کر یہ کہنا کہ آنے جانے والے افغانوں کے لیے ویزے کی پابندی ختم کی جائے بگڑتی ہوئی صورت حال کی صرف ایک نشانی ہے۔

کمال بات یہ ہے کہ امریکہ بھی سرحد کو کھلا رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔ جیسے جیسے افغانستان کے مختلف علاقے طالبان کے سامنے ڈھیر ہوتے رہیں گے ویسے ویسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ان کا رویہ بدلتا رہے گا۔ اس وجہ سے ایران، روس اور چین نے طالبان سے براہ راست بات کر کے مستقبل کی صورت حال سے نمٹنے کا انتظام کرنا شروع کر لیا ہے۔

کہنے کو تو ہمارے تعلقات طالبان سے بہت گہرے ہیں۔ ہم نے دوحہ  میں ان کا دفتر بنوانے کے لیے کافی جہدوجہد کی۔ موجودہ معطل امن بات چیت ہماری مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ ملا برادر ہوں یا ہیبت اللہ افغانستان میں طالبان کے بارے میں کوئی بات چیت پاکستان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ مگر ہمارے ہاں طالبان سے روابط پر آرا بٹی ہوئی ہیں۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو دن رات ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر طالبان کو قدیم شہزور شہسواروں کے ساتھ ملاتے ہیں۔ ان کو روس کے بعد امریکہ پر حاوی کرنے والی قوت قرار دیتے ہیں اور ان کی تعریف میں اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سٹوڈیو سے نکلنے کے بعد سیدھے جا کر ان کی قیادت کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو یہ تو مانتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ گزارہ کرنا ایک احسن فعل ہے مگر فی الحال وہ کوئی واضح بیان دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ کہیں کہیں سے وہ آوازیں بھی بلند ہوتی ہیں جو طالبان کے انداز حکمرانی، نظریات اور طرز عمل کی پرانی مثالیں دے کر یہ سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی ہیں کہ بعض دوستیاں دشمنیوں سے بھی زیادہ مہنگی پڑتی ہیں۔

ریاست کی پالیسی واضح نہیں ہے۔مگر شاید وزیر اعظم عمران خان نظریاتی طور پر طالبان کے ساتھ مصافحہ کرنے میں شاید کوئی قباحت محسوس نہ کریں۔ کم از کم ماضی میں ان کی طرف سے دیئے گئے بیانات کچھ ایسے ہی اشارے کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب وہ طالبان کا دوحہ نما آفس پشاور میں کھلوانے پر اصرار کرتے تھے۔ مگر فی الحال ابھی تک انہوں نے اس ضمن میں کوئی بڑا بیان نہیں دیا۔ امریکہ کو یہ ضرور بتایا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو بتا دیا تھا کہ اس کی پالیسی ناکام ہونے کو ہے۔

اس وقت جب تمام مغربی شہری افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں اور سفارت کاروں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ بگڑتے ہوئے حالات شاید پاکستان کو کوئی واضح موقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیں۔ ابھی تک ہم نے خاموشی میں ہی عافیت تلاش کی ہے۔

لیکن خاموشی دیر تک قائم نہیں رہے گی۔ متوقع سونامی کی آمد کا وقت بتدریج گھٹتا جا رہا ہے۔ افغانستان سے جڑے ہوئے علاقوں میں دہشت گردی نے دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کیا ہوا ہے۔ پولیس اہلکار روزانہ گولیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ پولیو ورکرز پر حملے دوبارہ سے شروع ہو گئے ہیں۔ بڑے واقعات جیسے چینی شہریوں پر حملہ بڑی خبریں بن کر ایک  پیچیدہ نقشے کو کچھ حد تک سامنے لاتے ہیں مگر تصویر اتنی بگڑ چکی ہے اس کا اندازہ آپ کو تبھی ہو گا جب آپ بڑے اور چھوٹے واقعات کو ملا کر صورت حال کی جانچ کریں۔

عموماً غیریقینی حالات کا شکار ممالک دوسرے اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ اصول بھی سر کے بل کھڑا کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ ملحق علاقے بظاہر تو سیاسی طور پر پرامن نظر آتے ہیں مگر گہری نظر سے دیکھیں تو یہاں پر پکتا ہوا لاوا رستے ہوئے باہر نکل رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی مجبوری میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ دوسری جماعتوں کی ناراضگیاں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی ناراض ہے، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ناراض ہے، پشتون تحفظ موومنٹ کے معاملات تو آپ سب کے سامنے ہی ہیں۔

مذہبی جماعتیں جیسا کہ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی خود کو نظام کا سب سے بڑا نشانہ سمجھتی ہیں۔ ن لیگ کی شکایات کا اپنا انبار ہے۔ ان حالات میں سیاسی وحدت اور افغانستان کی طرف سے آنے والے وبال سے نپٹنے کے لیے متحدہ بند کس نے باندھنا ہے؟

جس سیاسی نظام کی بنیاد نفاق، نفرت، تذلیل، تکبر، فراڈ اور جھانسے پر رکھی گئی ہو اس میں سے قومی سوچ کیسے پھوٹ سکتی ہے؟ اگر آپ سچی بات پوچھیں تو خطرہ افغانستان کی فسادی سونامی سے نہیں، ان سیاسی بدگمانیوں سے ہے جو ہم نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر دھڑلے کے ساتھ ملک بھر میں پھیلائیں۔ خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہے۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here