افغانستان کے حالات ہمارے لیے سبق

سید طلعت حسین

ہم یہ گہری بات سمجھنا بھول گئے کہ
روس کی مداخلت سے لے کر طالبان کے دوسرے قبضے تک افغانستان کا مسئلہ فوج کا لڑنا یا نہ لڑنا نہیں رہا۔ افغانستان کے فساد کی جڑ مختلف گروپوں کے درمیان گہری نفرت اور بداعتمادی کی وہ فضا ہے جس نے قومی اتفاق رائے کو نہ بننے دیا۔

کابل ائیر پورٹ پر تباہ کن حملے کے بعد افغانستان کے غیریقینی حالات مزید تشویشناک ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے شدید ردعمل کا وعدہ کیا ہے اور قسم کھائی ہے کہ دہشت گردی میں ملوث گروپ کو نہیں چھوڑیں گے۔

ظاہر ہے بدلہ لینے کے لیے امریکہ زمینی طاقت استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے پاس فضا سے بمباری کی جو صلاحیت ہے اس کو بروئے کار لا کر اپنا غصہ نکالے گا۔ بڑی طاقتیں جب خارجی اور دفاعی امور میں کسی مشکل میں پھنس جاتی ہیں تو پھر ان کا ردعمل کسی منطق پر مبنی نہیں رہتا۔ لہذا واضح نہیں ہے کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ اپنی حالیہ شرمندگی کو مزید کیاخطرناک رخ دے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ پانچ لاکھ ممکنہ پناہ گزینوں کے طوفان کا بھی ذکر کر رہا ہے۔ طالبان کے تحت نئی حکومت سازی کی بات تو بہت ہو رہی ہے مگر فی الحال حالات جوں کے توں ہیں یعنی طالبان کا قبضہ اور دوسرے گروپ طاقت سے باہر۔

روس، چین، ایران اور ترکی امریکہ کے جانے کے بعد اپنا اثرورسوخ بنانے کے لیے مختلف طریقوں سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ اس وجہ سے افغانستان کا پیچھا چھوڑے گا نہیں۔ وہ کسی ایسے حصے سے خود کو بےدخل نہیں کرنا چاہے گا جہاں پر چین اور روس اپنی طاقت بڑھانے میں مصروف ہیں۔

بین الاقوامی امداد، مغربی اتحاد اور پابندیوں کے ذریعے وہ افغانستان میں گھسا رہے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ خطہ بین الاقوامی و علاقائی خاموش جنگ کا ایک بڑا مرکز بننے والا ہے۔ یہاں پر گھمسان کا رن پڑے گا۔

پاکستان میں بہرحال شادمانی کی کیفیت اس حد تک واضح ہے کہ باقاعدہ محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایک تجزیہ یہ ہے کہ چونکہ اب طالبان نے ہر طرف اپنا اثرورسوخ پھیلا دیا ہے اس وجہ سے بھارت اور افغانستان کی گذشتہ حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ سے چلنے والی فسادی فیکٹریاں اب مکمل طور پر بند ہو گئیں ہیں۔ پاکستان کی مغربی سرحد کو وہاں سے بھیجے گئے حملہ آوروں یا فساد پھیلانے والے جتھوں کی وجہ سے جو درد سر لاحق تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے۔

یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ مغربی سرحد کے پار سے یہ خطرات ایک دائمی شکل اختیار کر گئے تھے۔ کابل سے بات کرتے تو وہ الٹا ہمیں مورد الزام ٹھہراتا۔ ادھر سے دی گئی یقین دہانیاں بے وقعت اور بے عمل ثابت ہوتی تھیں۔ اب یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ طالبان بھارت کو افغانستان سے دور رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ دہلی بے بس ہےاور اگر دشمن بے بس ہو تو خوش ہونا بنتا ہے۔

ہماری یہ بھی امید ہے کہ وہاں پر بننے والی حکومت سے تجارت اور خطوں کو ملانے والے نیٹ ورک جیسے معاملات اب طے کرنا آسان ہوگا۔ ہم وسطی ایشیا کے ساتھ جڑ جانے کا پرانا خواب دوبارہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ خواب پورا ہوتا ہے تو ہم معاشی طور پر ایک طاقتور ملک بن کر ابھر سکتے ہیں۔

لیکن افغانستان کی تاریخ خوشیوں کے اس انبار کے اوپر ایک منحوس سائے کی طرح موجود ہے۔ جب طالبان 90 کی دہائی میں طاقت میں تھے تو پاکستان میں بالکل ایسا ہی ماحول تھا جیسا اس وقت ہے۔ خوشی منانے کا انداز بہرحال مختلف تھا۔ اس وقت ہم سینہ پھلائے پھرتے تھے۔

آج احتیاط سے بات کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ مگر خیال یہی تھا کہ طالبان مغربی سرحد کے پار ہماری سکیورٹی کے خطرات کے پتھریلے پہاڑوں میں سے راستے نکال پائیں گے اور ہم دنیا کے اس حصے میں تجارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر سامنے آ کر اپنا سکہ منوا لیں گے۔

سرحد کے تحفظ کے بارے میں بھی ہمارے مفروضے کچھ آج جیسے ہی تھے۔ بعد میں ہمارے اس رومانوی تصور کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک افسوسناک کہانی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ افغانستان میں تبدیلی اور اس کے بعد پراسرار خاموشی کسی بڑے طوفان کو جنم دینے کی پیش گوئی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان کی فوج ناکام ہوئی ہے مگر صدیوں پرانے نسلی فسادات اور تعصبات جوں کے توں قائم ہیں۔ بلکہ ان میں پچھلے سالوں کی جنگ اور قتل و غارت گری نے مزید اضافہ کیا ہے۔ افغانستان میں جنگجوں کے دھڑے اسلحے سے لیس موجود ہیں۔

احمد شاہ مسعود کا بیٹا پنجشیر میں محصور تو ہے مگر مستقبل کی مزاحمت کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ طالبان نے تمام گروپوں سے طاقت میں شراکت کے جو وعدے کیے ہیں ان پر عمل درآمد کرنے کا کرشمہ ابھی ہونا باقی ہے۔ چین، امریکہ، روس کے مفادات کسی ایک نکتے پر یکساں نہیں ہیں۔ یہ تینوں قوتیں ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش میں جو داؤ پیچ کریں گیں اس سے طالبان مخالف قوتیں بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

ملک کی معیشت ڈوبنے کو ہے اور اگلے چند ماہ میں روٹی، کپڑے اور مکان کی عدم دستیابی سے تنگ آئے ہوئے عوام کسی وقت بھی بھڑک سکتے ہیں۔ ایسی جلتی پر بس تیلی پھینکنے کی دیر ہے اور ایک اور جہنمی الاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

ایسے میں ہماری سرحدیں کتنی محفوظ رہیں گے؟ ہماری آنکھوں میں سجے کتنے خواب شرمندہ تعبیر ہوں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ گزارش یہ ہے کہ محفوظ سرحدوں کے تصور کو صرف سرحدوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اندرونی طور پر ملک میں بھر میں سیاسی افراتفری اور بدگمانیوں کو کسی ٹھکانے لگا کر خود کو ہر امکان کے لیے تیار کرنا ہے۔

افغانستان کے حالات سے ہم نے یہ سطحی سبق تو سیکھ لیا کہ فوجیں پانچ سال میں نہیں بنتی اور یہ کہ بیرونی امداد سے چلنے والی حکومتیں پہلے دھچکے پر ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ مگر ہم یہ گہری بات سمجھنا بھول گئے کہ روس کی مداخلت سے لے کر طالبان کے دوسرے قبضے تک افغانستان کا مسئلہ فوج کا لڑنا یا نہ لڑنا نہیں رہا۔ افغانستان کے فساد کی جڑ مختلف گروپوں کے درمیان گہری نفرت اور بداعتمادی کی وہ فضا ہے جس نے قومی اتفاق رائے کو نہ بننے دیا۔

سیاسی نفاق اور ایک دوسرے کو مکمل طور پر زیر کرنے کی جبلت تمام بدحالی کی بنیاد ہے۔ اگر ہم افغانستان کے مختلف گروپوں کے درمیان تصفیہ کروانے کی کوششوں کا پانچ فیصد پاکستان پر بھی لاگو کر دیں تو ہمیں اردگرد پھیلی ہوئی غیریقینی کی گہری دھند سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اندر سے ہلے ہوئے ممالک کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کم ازکم مجھے افغانستان پر دہائیوں بھر کی رپورٹنگ کے بعد تو یہی سمجھ آیا ہے۔ پاکستان میں بہرحال سائنس دانوں کی بہتات ہے۔ وہ کیا مانتے ہیں کیا نہیں اس کا کچھ پتا نہیں۔

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here