احتساب کا ایڈونچر

بابر غوری

2014 میں منتخب حکومت پر خلائ آشرباد کے ساتھ لندن پلان کے تحت طے پا جانے والے لانگ مارچ اور دھرنے کے خلاف پارلیمان اور جمہوریت کے تقدس کی حفاظت پر ڈٹ کر غیر جمہوری رویے کو رد کر کے غیر جمہوری قوتوں کو جمہوری پیغام دینے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف نیب کے احتساب کا نامعلوم ساون وقتاً فوقتاً برس رہا ہے..

دھرنے والوں کو اے پی ایس کے بچوں کی شہادت نے راہ فرار تو دے دی لیکن دھرنا کروانے والوں کو پیادوں کے لشکر کا ناکام لوٹ آنا ہضم نہیں ہوا اس بد ہضمی نے سابقہ حکومت پاکستان مسلم لیگ ن  کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی رہنماوں کے خلاف نیب کے ذریعے کاروائیاں شروع کر دی جس سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو تاثر گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پیپلز پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے جس سے سیاسی اختلاف ذاتی اختلاف میں بدل گیا..

پانامہ لیکس کے بعد سیاسی منظر نامے میں ایک اور دھرنے کی کوشش اور افراتفری کے بعد اعٰلی عدلیہ کا درمیان میں آ کر پانامہ کے مقدمے میں نواز شریف کو جے آی ٹی کی تفتیش پر اقامہ کو بنیاد بنا کر  نااہل کیا گیا تو پیپلز پارٹی محض اس لیے محو تماشا بنی رہی کہ نیب کے مقدمات پر ن لیگ کی حکومت خاموش تماشائ بنی ہوئ تھی نواز شریف کی نااہلی اور سزا کے بعد یکسر سیاسی منظر نامہ بدل گیا..

2018 کے الیکشن سے قبل نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں دس سال کی سزا ہو گئ جس سے سیاسی پنچھی ن لیگ کی چھتری سے اڑ کر تحریک انصاف کی چھتری پر جا بیٹھے پھر تاریخ کی اس سیاسی انجنئیرنگ نے نئی حکومت کو معرض وجود میں لانے کا کلیدی کردار ادا کیا اور نیب کے  احتساب کا ساون ن لیگ کی قیادت پر برس پڑا جس سے مستقبل قریب میں چھٹکارہ ممکن نظر نہیں آ رہا ہے.

ایک طرف سزا کے خلاف نواز شریف کی طرف سے کی گئ  اپیل میں نیب  ہائیکورٹ میں جے آی ٹی کی انکوائری کے دس والیم ہونے کے باوجود عدالت کو مطمن نہیں کر سکا اور ہائیکورٹ نے سزا معطلی کے فیصلے کے ساتھ نواز شریف سمیت مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو رہا کر دیا نیب کے اس مس ایڈونچر سے نواز شریف کے احتساب نہیں انتقام کے بیانیے کو تقویت ملی ہے جس کا عکس حالیہ ضمنی انتخابات میں نظر  آیا ہے اور دوسری طرف فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے بعد ضمنی انتخابات سے قبل نیب کی توپوں کا رخ  شہباز شریف کی طرف ہو گیا ہے اور آج کل شہباز شریف 56 کمپنوں کے اسکینڈل اور آشیانہ ہاوسنگ میں مبینہ کرپشن پر نیب کی تحویل میں ہیں.

اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب نے جو الزامات شہباز شریف پر لگاے ہیں ان کو ثابت کر کے شہباز شریف کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے یا نیب کا یہ ایڈونچر بھی احتساب نہیں انتقام کے بیانیے پر مہر ثبت کرے گا

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here