جمہوریت خطرے میں یا کرپٹ شکنجے میں؟؟ 

ظہیر احمد

صرف دس دن پہلے یہ بیان دینے والے خورشید شاہ کہ حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیئے اور اگر مدت نہ پوری کرنے دی گئی  تو ملک تباہ ہوجائے گا آج وہ اس حکومت کو ملک کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ پارلیمان کے لیے اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے کے دعوےدار میثاق جہموریت کرنے کے علمبردار اور دھرنے میں نواز شریف کی حکومت کو بچانے والی سرکار اور  الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات پر مولانا کے موقف کہ پارلیمنٹ جاکر حلف نہ لینے کی نفی کرنے والے آصف زرداری جوآصف زرداری کہتے تھے کہ جنت میں بھی میاں صاحب کے ساتھ نہیں جاوں گا جو کہتے تھے کہ مجھے سے ملاقات کرنے کے دس پیغامات نواز شریف بھیج  چکے ہیں جو کہتے تھے کہ نواز شریف گریٹر پنجاب بنانا چاہتے ہیں جن کی نظر میں میاں صاحب سکیورٹی رسک ہوچکے تھے آج اس حکومت کو ختم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر قرارداد لانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

دوسری طرف مولانا جو شائد تاریخ میں پہلی بار وفاق اور صوبوں سے فارغ ہوئے اندرون خانہ پھر بھی موجودہ حکومت سے مزاکرات کے منتظر مولانا سب جماعتوں کو ایک پلٹ فارم پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ مولانا جنھوں نے وردی میں آمر کو ووٹ ڈالا ساتھ دیا اس ایم ایم اے کی سربراہی کی جس کی داغ بیل اسٹبلشمنٹ کی آشیر باد پر ڈالی گئی انکو آج ہر موڑ ہر زاویہ سے سازش ہوتی نظر آرہی ہے۔

وہ نواز شریف جو کل تک کہتے تھے کہ پی پی پی اور بنی گالہ ہم نوالہ ہم پیالہ اور جو کہتے تھے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں جو کہتے تھے کہ اگر پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا تو وہ پی پی پی کو جائے گا وہ نواز شریف جو کہتے تھے کہ زرداری ملک کولوٹ کر کھا گیا ہے وہ جو کہتے تھے کہ انھوں حاجیوں کا پیسہ بھی نہیں چھوڑا وہ نواز شریف آج آصف زرداری کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور انھیں کے بھائی شہباز شریف جو مقدمات کی وجہ سے گرفتار ہیں جو کہتے تھے کہ سڑکوں پر گھسیٹوں گا ان سے لوٹی ہوئی دولت پیٹ چیر کر نکالوں گا جو وقت معافی بھی مانگ چکے تھے اور اس معافی کے بعد پھر سے مصمم ارادہ کرچکے تھے کہ اگر الیکشن میں ووٹ دیا تو لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے وہ ایک بار پھرآصف زرداری کے سامنے پشیمان ہونے کو تیار ہونگے اور تو اور حمزہ شہباز نے آج ہی کہا کہ ملک کے لیے آصف زرداری کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

یہ اچانک سب کو ہوا کیا؟؟ کیوں ماضی کے بیانات پر گرد بھی نہ جمنے پائی تھی کہ نوبت معافی تلافی ملاقاتوں ملکر چلنے کی قسموں تک پہنچ گئی؟؟؟

یہ ہیں کرپشن کے وہ الزامات جو دہایئوں سے لگتے چلے آرہے ہیں اور ان میں سے کچھ نئے بھی ہیں ان میں سے بعض الزامات پر این ار او کی مہر ہے اور بعض پر جسٹس قیوم سے مرضی کے فیصلے لینے کی سیاہ تاریخ۔۔بعض میں قربانی کا بکرا سیف الرحمن کو بنایا گیا اور بعض میں نیب کو ڈرا دھمکا کر مرضی کے فیصلے لیے گئے کچھ ایسے بھی ہیں جن میں وکلاء سے زیادہ ججوں سے کام لیا گیا مگر یہ سب ماضی بعید ہے۔۔اب سب کچھ بدل رہا ہے اب شکنجہ کستا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اب سسٹم کو خطرہ ہونے کی باتیں سنائی دیں گی۔۔جمہوریت بھی رسک پر نظر آئے گی۔۔کچھ قوتوں کی طرف سے سازش ہوتی بھی دکھائی دے گی۔۔۔پارلیمان کا تقدس بھی پامال ہوتا اور پارلیمان کی بالادستی ختم ہوتی نظر آئے گی۔۔۔لبرلز کو لگے گا ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے بنیاد پرستوں کو اسلام خطرے میں دکھائی دے گا۔۔۔۔موجودہ حکومت کو اگر اس قسم کے خطرے نظر نہ آئے تو وہ بلا دھڑک بلا امتیاز یہ سب کرنے میں مدد کرے گی اور اگر وزیر اعظم کو بھی جمہوریت خطرے میں نظر آنا شروع ہوگئی حکومت کا بوریا بستر گول ہوتا دکھائی دیا یا حکومت کی فکر کی

کہ کہیں چلی نہ جائے تو سب کچھ بچ جائے گا یہ سیاستدان بھی یہ سسٹم بھی پارلیمان کی بالادستی بھی کیونکہ ماضی میں بھی ایسے ہی بچتے آئے ہیں اگر کچھ نہیں  بچے گا وہ ہوگا وزیر اعظم کا نام اور وزیر اعظم کی پارٹی۔۔

 

Author works as a news Producer at private channel and writes articles since 2012. He tweets as @zaheerlatif

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here