سیاسی, انتظامی اور معاشی محاذ

بابر غوری

اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معاشی بے ضابطگیوں, بدعنوانیوں اور پاکستان میں ملکی و غیر ملکی قرضوں سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل اور اس سے پیدا ہونے والے موجودہ معاشی بحران کا موجد اپنے پیشرو مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو قرار دے رہی ہے اورپیشرو حکومتوں کے ادوار میں پیدا ہونے والے معاشی, انتظامی, سیاسی اور سماجی مسائل کی بڑی وجہ بھی انہی سیاسی جماعتوں کی کرپشن کارستانیاں گردان رہی ہے،لیکن سیاسی, انتظامی اور معاشی امور کے محاذ پر تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک کوئی واضح پالیسی سامنے لیکر نہیں آ سکی..

اپنے سو روزہ ایجنڈے میں بلا امتیاز انصاف,حقیقی جمہوریت,غیر سیاسی انتظامی ادارے ,ٹیکس کے نظام میں اصلاحاتی پروگرام اور عام آدمی کی خوشحال تبدیلی کے نئے راستے متعین کر کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے تھے لیکن 65 دن کی حکومتی کارکردگی پر نظر دوڑائیں تو انتظامی,سیاسی اور معاشی امور کی سمت متعین کرنے کی بجاے پیشرو حکومتوں کی نااہلیوں کی لکیر کو پیٹا جا رہا ہے…

مملکت کے سیاسی امور کو دانشمندی سے چلانے کی بجاے پارلیمنٹ میں حکومتی اراکین کی تقریریں, میڈیا چینلز پر حکومتی ترجمانوں کا طرز گفتگو اور پریس کانفرنس سے ملتے جلتے قوم سے خطاب میں سیاسی جماعتوں کو چور ڈاکو اور کسی کو این آر او نہیں ملے گا کہ نعرے لگا کر ملک کو سیاسی ہیجان اور بحران میں مبتلا کرنے کی بھر پور کوشش جاری ہے حکومت کے اس طرز عمل پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں قربتیں بڑھ رہی ہیں جو کہ مستقبل قریب میں کسی سیاسی احتجاج کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے.

حکومت وقت پریس کانفرنس نما خطاب کرکے چور چور کرنے کی بجاے اپنے ماتحت اداروں میں مقدمات درج کرے اور بلاامتیاز انصاف کو عملی جامہ پہنائے کر جرم ثابت ہونے پر قرار واقعی سزا دے تاکہ ریاست اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے ..

الیکشن کمپین میں انتظامی امور میں بہتری کی دعویدار نئی حکومت نے پاکستانی عوام کے ساتھ اداروں کو غیر سیاسی بنا کر جو بہتر اور فعال کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا اس کے لیے حکمت عملی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے ایک طرف پاکپتن میں ڈی پی او والے معاملہ پر وزیر اعٰلی اور جمیل گجر کو سپریم کورٹ میں غیر مشروط معافی مانگنی پڑی ہے تو دوسری طرف چند روز کے بعد ہی خود کے تعنات شدہ آئی جی پنجاب طاہر خان کو تبدیل کر دینے اور ناصر دورانی کا مستعفی ہو جانے نے حکومتی حکمت عملی کی قلعی کھول دی ہے..

خود وزیر اعظم عمران خان بھی کنفیوژن کا شکار ہیں ایک طرف پنجاب جیسے بڑے صوبے میں گوں مگوں کی کیفیت طاری کر کے اس کا ملبہ سول بیوروکریسی کے عدم تعاون پر ڈال رہے ہیں تو دوسری طرف عثمان بزدار جیسے کمزور ترین اور ناتجربہ کار کو وزیراعلی پنجاب بنا کر تبدیلی کا استعارہ قرار دیا جا رہا ہے جس سے انتظامی امور چلانے والے اداروں میں بھی اضطراب واضح نظر آ رہا ہے.

نیک نیتی کے ساتھ ساتھ اہلیت کا معیار اپنانا ہو گا جس طرح ہر نیک نیت انسان اہلیت کے بغیر جہاز نہیں اڑا سکتا ویسے ہی کاروبار حکومت چلانے کے لیے نیک نیت لیکن اہل افراد کو آگے لا کر انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلایا جاسکتا ہے پنجاب جیسے بڑے صوبے کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے 36 ڈی پی او اور 36 ڈی سی سمیت ٹوٹل 72 ایماندار, نیک نیت اور اہل لوگوں کی ٹیم چاہیے جو کہ چند دن میں مطلوبہ نتائج کے لیے انتظامی امور چلانے والے اداروں کو متحرک کر دیں گے..

ملکی معاشی بحران کا ادراک تو تمام سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کی حکومت کو بھی ہے ملکی و غیر ملکی قرضوں اور سرکلر ڈیڈ اس حد تک تجاوز کر گئے ہیں کہ حکومت کے پاس قرضوں کی اقساط دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں موجودہ مالی و معاشی بحران میں حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں لیکن آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو تسلیم کر لینا مہنگائی کے سونامی کو دعوت دینا ہے وزیر اعظم کے حالیہ دورے سے سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر پاکستانی خزانے میں رکھنے اور 3 ارب ڈالر کا تیل ادھار دینے کی حامی بھری ہے جس سے دم توڑتی معشیت کو معاشی آکسیجن ملا ہے لیکن ابھی معاشی بحران کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاوقت حال وزیر خزانہ اسد عمر کو بجلی, گیس, کھاد پر سبسٹڈی ختم کرنے اور عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا ہے..

حکومت وقت کو ایسی معاشی پالیسی متعارف کروانی ہو گی جس سے پی آئی اے, پاکستان ریلوے,اسٹیل مل جیسے تمام ادارے اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ اور صعنتی ترقی ممکن ہو سکے..پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے وزیر اعظم کو معاشی ایمرجنسی ڈیکلیر کر کے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے ہونگے

1-امپورٹ کو کم کرنے کے لیے قومی سطح پر آگہی مہم چلایں اور ان کے متبادل کے لیے اقدامات اٹھایں.

2-ٹورازم کو فروغ دیں اور ٹورسٹ کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ٹاسک فورس قائم کریں.

3-تعلیم کا ایسا مربوط نظام بنایں جس سے ہر فیلڈ کے ہنرمند افراد پیدا کیے جاسکیں.

‏‎4-کاٹن کی بجائے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ بڑھائیں.

5-بجلی کی ترسیل میں نقصان اور چوری کم کریں اور ریکوری بڑھائیں.

6-نقصان میں چلنے والے اداروں کو میرٹ پر چلائیں.

7-ٹیکس کے نظام میں ریفارمز کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کریں.

8-دفاعی بجٹ میں قومی آمدنی کےحساب سے توازن پیدا کریں.

9- اورسیز پاکستانیوں کے لیے بنکینگ نظام کو بہتر اور ٹیکس میں نرمی سمیت پاکستان میں کاروباری انوسٹمنٹ پر دس سال تک ٹیکس فری پالیسی متعارف کروانی ہو گی.

تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here